Archive for November, 2004

لڑکیاں لڑکوں جیسی نہیں ؟

November 26, 2004

ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ اگر لڑکا اور لڑکی میں دوستی ہو تو اسکی وجہ صرف سیکس یا شادی ہے ـ کیوں کہ جب اپنی دوست کو ’’گرل فرینڈ‘‘ کے جملے سے مخاطب کیا تو کہتی ہے کہ دوسری مرتبہ اسے اپنی گرل فرینڈ مخاطب کر رہا ہوں ـ پھر جب اس سے پوچھا کہ اس میں برا کیا ہے؟ کیا تجھ کواپنی ’’بوائے فرینڈ‘‘ کہوں؟ اسکے جواب میں کہتی ہے کہ برا مت ماننا، تمہاری مرضی جو چاہو مجھے کہہ سکتے ہو ـ مگر پوچھا کہ پہلے بتا، تو نے ایسا کیوں کہا کہ میں تجھے دوسری دفعہ اپنی گرل فرینڈ کہہ رہا ہوں ـ اس کا جواب دیئے بغیر بات چیت کا موضوع ہی بدل دیا ـ
گھر آکر سوچا کیا لڑکے صرف لڑکوں سے اور لڑکیاں صرف لڑکیوں سے دوستی کے لئے مستحق ہوتے ہیں؟ لڑکا لڑکی آپس میں دوست نہیں بن سکتے؟ اگر لڑکا اور لڑکی دوست کی طرح سرعام ہنسی مذاق کریں یا کہیں پارک میں بیٹھے باتیں کریں تو دیکھنے والوں کی آنکھ میں کانٹا چبھتا ہے اور یقین کریں گے کہ دونوں میں کچھ چکر ہے ـ
اب تک دفتروں میں کئی لڑکیوں کیساتھ کام کرتے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ لڑکیاں ہم لڑکوں سے کمتر ہیں ـ لڑکیاں فطرتا شرمیلی ہوتی ہیں جب دفتر میں انکے ساتھ کھل کر دوستانہ بات چیت یا ہنسی مذاق کرتا ہوں تو لڑکیاں بھی گلچھڑے اڑانے میں کچھ کم نہیں ـ کام کے دوران آپس میں ہنسی مذاق تو ہوتا ہی رہتا ہے کبھی لڑکیاں مجھے کرسی پر سے گرا دیتیں اور بدلے لینے کیلئے خود انکے بیٹھنے سے پہلے کرسی کھینچ لیتا تھا ـ ہنسی مذاق کی بھی حد ہوتی ہے کئی دفعہ نوبت ہاتھا پائی تک ہوگئی تھی لڑکیوں نے مذاق سے ہو یا غصے سے کئی بار مجھ پر ہاتھ بھی صاف کیا مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بدلے میں ان پر ہاتھ اٹھا دیا کیوں کہ لڑکیوں پر ہاتھ اٹھانا پسند نہیں ہے لیکن جواب میں کہہ دیتا کہ کسی دن غصہ آگیا تو لڑکیوں کو لڑکا سمجھ کر مکّے ماروں گا اور اٹھاکر زمین پے پٹک دوں گا اور اس وقت یہ نہیں سمجھوں گا کہ لڑکی سے لڑائی کر رہا ہوں ـ ایک لڑکی نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر اسکے ساتھ مار پیٹ کرنی ہے تو مجھے باقاعدہ کنگفو سیکھ کر آنا ہوگا ـ
عورت اور مرد میں جنسی فطرتوں کے علاوہ دوسرا کوئی فرق نہیں ہے ـ لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کرکٹ اور کبڈی کھیل سکتے ہیں اگر وہ اپنی جنسی سوچ اپنے تکیے کے نیچے ہی رکھ کر آئیں! ـ مجھے پسند نہیں کہ لڑکیوں سے صرف جنسی خواہشات کیلئے دوستی ہو حالاں کہ مجھ میں سو فیصد مردانہ خواہشات ہیں، لڑکا ہونے کے باعث لڑکیوں کو دیکھ فطری طور پر منہ سے لعاب بھی ٹپکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ بدمعاش ہوں مگر اتنا زیادہ شریف بھی نہیں جتنی ضرورت ہے ـ

بروسلی کی بہنوں : سلام علیکم

November 19, 2004

جب امارات میں نیا نیا آیا، ایک دفعہ دبئی میں نائف پارک کے پیچھے ایک بلڈنگ میں داحل ہوگیا، تیسری منزل پر ایک فلاٹ کے باہر چار چینی لڑکیاں ہوشربا کپڑوں میں کھڑی تھیں، پہلے تو چاروں نے مجھے دعوت دی کہ انکے فلاٹ کے اندر آجاؤں ـ میں شرماکے مسکرا دیا، چینی لڑکیاں مٹکتے جھٹکتے ہوئے میرے قریب آئیں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں میری تعریفیں کرنے لگیں پھر بکرا سمجھ کر چاروں لڑکیوں نے مجھے پیار سے کھینچتے ہوئے اپنے فلیٹ کے اندر لے گئیں اور پھر دروازہ بند کرلیا ـ یہاں بھی میری تعریفوں کے گن گانے لگیں اور میرے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے میرے گالوں کو پیار سے نوچ کر شرارتیں کرنے لگیں ـ اب چاروں چائنیز نے ملکر میری مردانگی کو ابھارنا شروع کردیا تبھی پتہ نہیں میری زبان پر یہ الفاظ کیسے آگئے، لڑکیوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا: پلیز میرے پاس بالکل پیسے نہیں ہیں! ـ اتنا سنتے ہی لڑکیوں نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ منہ تیڑھا کرتے ہوئے مجھے گھورا اور جس طرح پیار سے کھینچتے ہوئے مجھے اندر لے آئے تھے بالکل اسی طرح کھینچتے ہوئے دروازہ کھولکر باہر ڈھکیل دیا اور پھر دروازہ اندر سے بند کرلیا ـ اس طرح بروسلی کی بہنوں سے اپنی عزت بچالیا ـ

بروسلی کی بہنوں : سلام علیکم

November 19, 2004

جب امارات میں نیا نیا آیا، ایک دفعہ دبئی میں نائف پارک کے پیچھے ایک بلڈنگ میں داحل ہوگیا، تیسری منزل پر ایک فلاٹ کے باہر چار چینی لڑکیاں ہوشربا کپڑوں میں کھڑی تھیں، پہلے تو چاروں نے مجھے دعوت دی کہ انکے فلاٹ کے اندر آجاؤں ـ میں شرماکے مسکرا دیا، چینی لڑکیاں مٹکتے جھٹکتے ہوئے میرے قریب آئیں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں میری تعریفیں کرنے لگیں پھر بکرا سمجھ کر چاروں لڑکیوں نے مجھے پیار سے کھینچتے ہوئے اپنے فلیٹ کے اندر لے گئیں اور پھر دروازہ بند کرلیا ـ یہاں بھی میری تعریفوں کے گن گانے لگیں اور میرے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے میرے گالوں کو پیار سے نوچ کر شرارتیں کرنے لگیں ـ اب چاروں چائنیز نے ملکر میری مردانگی کو ابھارنا شروع کردیا تبھی پتہ نہیں میری زبان پر یہ الفاظ کیسے آگئے، لڑکیوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا: پلیز میرے پاس بالکل پیسے نہیں ہیں! ـ اتنا سنتے ہی لڑکیوں نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ منہ تیڑھا کرتے ہوئے مجھے گھورا اور جس طرح پیار سے کھینچتے ہوئے مجھے اندر لے آئے تھے بالکل اسی طرح کھینچتے ہوئے دروازہ کھولکر باہر ڈھکیل دیا اور پھر دروازہ اندر سے بند کرلیا ـ اس طرح بروسلی کی بہنوں سے اپنی عزت بچالیا ـ

عرفات ــــــ دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے

November 16, 2004

ہر ملک ہر شہر میں چرچے تیرے، تیری خبروں کے بغیر کوئی اخبار نہیں، ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والا، امن کا ایوارڈ پانے والا، جہاں کہیں بھی جاتا خالی ہاتھ واپس نہیں آتا ـ ـ ـ ـ فلسطین فلسطین فلسطین کا نعرہ لگانے والا، اپنی زمین سے محبت کرنے والا، اپنی قوم کا لاڈلہ، اپنی قوم کا نگہبان، اپنی قوم کیلئے جان دینے والا، اپنے چاہنے والوں پر قربان ہونے والا، عربوں کی آنکھ کا تارا (انگارہ بھی)، کروڑوں کی خیرات پانے والا، امن کیلئے سفر کرنے والا ـ ـ ـ ـ آزادی آزادی آزادی چیخ چیخ کر اپنا گلا خراب کرلیا چہرے پر جھریاں پڑگئیں مرتے دم تک کھانستے کھانستے آزادی مانگتا رہا، ہمیشہ موت کے سامنے سے گذرنے والا، مار سکا نہ کوئی مگر اپنی موت مرا، اسکی قوم کو ماتم کرتے دیکھا واقعی وہ اپنی قوم کا ہیرو تھا مرنے کے بعد بھی اپنی قوم کیلئے امر رہا ـ ـ ـ ـ کوئی بھی شخص یوں ہی مشہور نہیں ہوتا، مشہور اور باعزت شخص وہی ہوتا ہے جو اپنی قوم کیلئے اپنے آپ کو وقف کردے ـ ـ ـ ـ آج ایک ایسا شخص دنیا سے چلا گیا جسے اردو اور عربی اخبارات اپنی لیڈ پر لیتے تھے ـ ایک ایسا شخص جو اب دنیا میں نہیں رہا جب بھی بیرونی ممالک سے اپنی قوم کو آزادی دلوانے کی اپیل کرتا تو بدلے میں خیرات دیجاتی یا پھر بندوق کی گولیاں ـ آج اس قوم پرست انسان یاسر عرفات کو سلام کرتا ہوں جو اپنی قوم کو آزادی کے خواب دکھاتے دکھاتے دنیا سے چلاگیا اور جاتے جاتے اپنوں کی بہت ساری دعائیں بھی ساتھ لے گیا ـ

عرفات ــــــ دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے

November 16, 2004

ہر ملک ہر شہر میں چرچے تیرے، تیری خبروں کے بغیر کوئی اخبار نہیں، ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والا، امن کا ایوارڈ پانے والا، جہاں کہیں بھی جاتا خالی ہاتھ واپس نہیں آتا ـ ـ ـ ـ فلسطین فلسطین فلسطین کا نعرہ لگانے والا، اپنی زمین سے محبت کرنے والا، اپنی قوم کا لاڈلہ، اپنی قوم کا نگہبان، اپنی قوم کیلئے جان دینے والا، اپنے چاہنے والوں پر قربان ہونے والا، عربوں کی آنکھ کا تارا (انگارہ بھی)، کروڑوں کی خیرات پانے والا، امن کیلئے سفر کرنے والا ـ ـ ـ ـ آزادی آزادی آزادی چیخ چیخ کر اپنا گلا خراب کرلیا چہرے پر جھریاں پڑگئیں مرتے دم تک کھانستے کھانستے آزادی مانگتا رہا، ہمیشہ موت کے سامنے سے گذرنے والا، مار سکا نہ کوئی مگر اپنی موت مرا، اسکی قوم کو ماتم کرتے دیکھا واقعی وہ اپنی قوم کا ہیرو تھا مرنے کے بعد بھی اپنی قوم کیلئے امر رہا ـ ـ ـ ـ کوئی بھی شخص یوں ہی مشہور نہیں ہوتا، مشہور اور باعزت شخص وہی ہوتا ہے جو اپنی قوم کیلئے اپنے آپ کو وقف کردے ـ ـ ـ ـ آج ایک ایسا شخص دنیا سے چلا گیا جسے اردو اور عربی اخبارات اپنی لیڈ پر لیتے تھے ـ ایک ایسا شخص جو اب دنیا میں نہیں رہا جب بھی بیرونی ممالک سے اپنی قوم کو آزادی دلوانے کی اپیل کرتا تو بدلے میں خیرات دیجاتی یا پھر بندوق کی گولیاں ـ آج اس قوم پرست انسان یاسر عرفات کو سلام کرتا ہوں جو اپنی قوم کو آزادی کے خواب دکھاتے دکھاتے دنیا سے چلاگیا اور جاتے جاتے اپنوں کی بہت ساری دعائیں بھی ساتھ لے گیا ـ