Archive for December, 2004
December 31, 2004
کیا خوبصورت موسم ہے، لگے جیسے جنت میں ہوں، واقع اس طویل عرصے میں پہلی بار محسوس ہورہا ہے کہ آج کا موسم نہایت ہی خوشگوار ہے ـ چاروں طرف تیز تھنڈی ہوائیں، سمندر کا پانی پورے جوش کے ساتھ مستی سے موجیں مار رہا ہے اور یہاں بحیرہ کورنیش میں بھی پانی اپنی سطح سے اوپر آگیا ـ کورنیش کے کنارے لگے کھجوروں کے درخت تیز ہواؤں کی وجہ سے جھومنے رہے ہیں، دھند کی وجہ سے قریبی عمارتیں بھی نظر نہیں آتیں ـ اس حسین موسم کو دیکھ دل چاہتا ہے کہ باہر جاؤں اور خوب موج مستی کروں مگر کیا کیا جائے دفتر میں ڈیوٹی پر ہوں ـ
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
December 31, 2004
کیا خوبصورت موسم ہے، لگے جیسے جنت میں ہوں، واقع اس طویل عرصے میں پہلی بار محسوس ہورہا ہے کہ آج کا موسم نہایت ہی خوشگوار ہے ـ چاروں طرف تیز تھنڈی ہوائیں، سمندر کا پانی پورے جوش کے ساتھ مستی سے موجیں مار رہا ہے اور یہاں بحیرہ کورنیش میں بھی پانی اپنی سطح سے اوپر آگیا ـ کورنیش کے کنارے لگے کھجوروں کے درخت تیز ہواؤں کی وجہ سے جھومنے رہے ہیں، دھند کی وجہ سے قریبی عمارتیں بھی نظر نہیں آتیں ـ اس حسین موسم کو دیکھ دل چاہتا ہے کہ باہر جاؤں اور خوب موج مستی کروں مگر کیا کیا جائے دفتر میں ڈیوٹی پر ہوں ـ
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
December 31, 2004
سنتے ہی دل دہل گیا، زیادہ سے زیادہ ٦ء٥ ریکٹر اسکیل کی دہشت سے تو سب کچھ دہل جاتا ہے مگر کل اتوار کے ہولناک زلزلے کی خبریں سننے اور ٹی وی پر دیکھنے کے بعد بہت افسوس ہوا، پتہ نہیں یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے انڈومان اور نکوبار آج ہیں بھی یا نہیں کیوں کہ یہ ٨ء٥ ریکٹر اسکیل کا زلزلہ کوئی معمولی قیامت نہیں ہے جو انڈونیشیا کی ریاست سماترا سے لیکر ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان کے مشرق میں ساحلی علاقوں کو ہلاکر رکھ دیا اور نہیں معلوم ان کے درمیان موجود جزیروں کا کیا حشر ہوا ہوگا اور میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ زلزلے کی وجہ سے ساحلوں پر سمندر کی موجیں دس میٹر اونچی چل رہی ہیں ـ ہنستی کھیلتی زندگی میں اچانک قیامت کا برپا ہوجانا بہت بڑے دکھ کی بات ہے ـ ابھی یہاں بلاگ کیلئے پوسٹ لکھ رہا ہوں اور ریڈیو پر مزید ہزاروں اموات کی اطلاع دیجا رہی ہے ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
December 31, 2004
سنتے ہی دل دہل گیا، زیادہ سے زیادہ ٦ء٥ ریکٹر اسکیل کی دہشت سے تو سب کچھ دہل جاتا ہے مگر کل اتوار کے ہولناک زلزلے کی خبریں سننے اور ٹی وی پر دیکھنے کے بعد بہت افسوس ہوا، پتہ نہیں یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے انڈومان اور نکوبار آج ہیں بھی یا نہیں کیوں کہ یہ ٨ء٥ ریکٹر اسکیل کا زلزلہ کوئی معمولی قیامت نہیں ہے جو انڈونیشیا کی ریاست سماترا سے لیکر ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان کے مشرق میں ساحلی علاقوں کو ہلاکر رکھ دیا اور نہیں معلوم ان کے درمیان موجود جزیروں کا کیا حشر ہوا ہوگا اور میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ زلزلے کی وجہ سے ساحلوں پر سمندر کی موجیں دس میٹر اونچی چل رہی ہیں ـ ہنستی کھیلتی زندگی میں اچانک قیامت کا برپا ہوجانا بہت بڑے دکھ کی بات ہے ـ ابھی یہاں بلاگ کیلئے پوسٹ لکھ رہا ہوں اور ریڈیو پر مزید ہزاروں اموات کی اطلاع دیجا رہی ہے ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
December 31, 2004
چوں کہ جاپانی نام ہے، پہلے کبھی نہیں سنا تھا، آج کل اخباروں میں یہ نام لیڈ پر ہے ـ گذشتہ روز جنوب ایشیا میں ہوئی تباہکاریوں کو جسے میں زلزلہ سمجھتا تھا مگر جاپانی اسے سونامی کہتے ہیں یعنی سمندر کی تہہ میں ہونے والے زلزلوں کو جو بکثرت جاپان اور انڈونیشیا کے علاقوں میں ہوتے ہیں، زیر سمندر زلزلے جسکی وجہ سے آس پاس کے علاقے دہل جاتے ہیں، ان علاقوں کے لوگ اس آفت کو سونامی کہتے ہیں ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »