Archive for December 3rd, 2004
December 3, 2004
یہ مسئلہ صرف آج کیلئے نہیں ایسا پچھلے دو سالوں سے ہے، امارات میں آنے کے بعد سے اب تک کھانے کا مسئلہ برقرار ہے ـ ہندوستانی لوگ خود کھانا بنالیتے ہیں اور بہت کم لوگ ملباری ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ شروع میں ملباری ہوٹلوں ہی میں کھانا کھایا کرتا تھا، یہ ملباری وہی کھانا بنانا جانتے ہیں جو اپنے گاؤں میں کھاتے تھے اور تھوڑا بہت یہاں آکر سیکھ لیا اور پھر الٹا سیدھا پکاکر پیسہ کما رہے ہیں اور یہاں کے اکثر لوگ مجبوری میں انہی کی ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ اب تو مجھے ملباری ہوٹلوں میں کھانا جیسے کڑوی دوا نگلنے کے برابر ہے، ایک تو ملباریوں کے کھانے مجھے صحیح نہیں لگتے اور ملباریوں کے ہوٹلوں میں پاکی صفائی ہوتی ہی نہیں ـ پاکستانی ہوٹل، یہاں پر ہر قسم کے کھانوں میں تیل اور چکنائی بہت ہوتی ہے، بہت ہی زیادہ مسالے استعمال کرتے ہیں جس سے دوسروں کا نہ سہی میرا معدہ ضرور خراب ہوجائے گا ـ مجھے مرغن اور چکنی چپاٹی غذائیں زیادہ پسند نہیں اور میں گوشت خور بھی نہیں اور نہ ہی خالص سبزی خور ہوں، پتہ نہیں میں کونسا خور ہوں!
یہاں امارات کو آنے کے بعد آج تک میرے ساتھ کھانے کا مسئلہ برابر جاری ہے ـ چائے ابالنے کے سوا کچھ بھی پکانا نہیں آتا اور روزانہ صرف برگر اور پیتزا بھی نہیں کھایا جاسکتا ـ ہر دن رات کو کھانا کھانے کیلئے نئے ہوٹلوں کی کی طرف جاتا ہوں اور وہاں آدھا کھانے کے بعد آدھا چھوڑ دیتا ہوں ـ انڈیا میں بھی صرف امّی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا! پچھلے چار دنوں سے دوپہر میں بریڈ پر مکھن لگاکر کھا رہا ہوں اور رات کو سیب کے ساتھ دودھ پی کر سو رہا رہوں، سچ مچ ہوٹلوں سے بوریت ہوچکی ہے اگر رات کو کسی ہوٹل میں ٹھیک سے کھانا نہیں ملا تو اپنے آپ پر بہت غصّہ آتا ہے ـ اپنے لئے کنجوس ہرگز نہیں، اپنی من پسند غذاؤں کیلئے دل کھول کر خرچ کرتا ہوں اور اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنے کھانے کیلئے خرچ کرتا ہوں ـ لوگ ٹیسٹ کیلئے پیتزاہٹ، کے ایف سی اور ماکڈونالڈ جاتے ہیں مگر یہ سب میرے لئے روز مرّہ کی غذاؤں میں شامل ہوگیا ہے، میری عیاشی یہی ہے کہ بہترین کھانے کھاتا ہوں مگر یہ شاہی کھانے مجھ جیسا شخص روزانہ نہیں کھا سکتا صرف مجبوری ہے کہ ہر دن ایک نئی ہوٹل سے کھاؤں ـ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کھاؤں، کیا کروں؟؟؟
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
December 3, 2004
یہ مسئلہ صرف آج کیلئے نہیں ایسا پچھلے دو سالوں سے ہے، امارات میں آنے کے بعد سے اب تک کھانے کا مسئلہ برقرار ہے ـ ہندوستانی لوگ خود کھانا بنالیتے ہیں اور بہت کم لوگ ملباری ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ شروع میں ملباری ہوٹلوں ہی میں کھانا کھایا کرتا تھا، یہ ملباری وہی کھانا بنانا جانتے ہیں جو اپنے گاؤں میں کھاتے تھے اور تھوڑا بہت یہاں آکر سیکھ لیا اور پھر الٹا سیدھا پکاکر پیسہ کما رہے ہیں اور یہاں کے اکثر لوگ مجبوری میں انہی کی ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ اب تو مجھے ملباری ہوٹلوں میں کھانا جیسے کڑوی دوا نگلنے کے برابر ہے، ایک تو ملباریوں کے کھانے مجھے صحیح نہیں لگتے اور ملباریوں کے ہوٹلوں میں پاکی صفائی ہوتی ہی نہیں ـ پاکستانی ہوٹل، یہاں پر ہر قسم کے کھانوں میں تیل اور چکنائی بہت ہوتی ہے، بہت ہی زیادہ مسالے استعمال کرتے ہیں جس سے دوسروں کا نہ سہی میرا معدہ ضرور خراب ہوجائے گا ـ مجھے مرغن اور چکنی چپاٹی غذائیں زیادہ پسند نہیں اور میں گوشت خور بھی نہیں اور نہ ہی خالص سبزی خور ہوں، پتہ نہیں میں کونسا خور ہوں!
یہاں امارات کو آنے کے بعد آج تک میرے ساتھ کھانے کا مسئلہ برابر جاری ہے ـ چائے ابالنے کے سوا کچھ بھی پکانا نہیں آتا اور روزانہ صرف برگر اور پیتزا بھی نہیں کھایا جاسکتا ـ ہر دن رات کو کھانا کھانے کیلئے نئے ہوٹلوں کی کی طرف جاتا ہوں اور وہاں آدھا کھانے کے بعد آدھا چھوڑ دیتا ہوں ـ انڈیا میں بھی صرف امّی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا! پچھلے چار دنوں سے دوپہر میں بریڈ پر مکھن لگاکر کھا رہا ہوں اور رات کو سیب کے ساتھ دودھ پی کر سو رہا رہوں، سچ مچ ہوٹلوں سے بوریت ہوچکی ہے اگر رات کو کسی ہوٹل میں ٹھیک سے کھانا نہیں ملا تو اپنے آپ پر بہت غصّہ آتا ہے ـ اپنے لئے کنجوس ہرگز نہیں، اپنی من پسند غذاؤں کیلئے دل کھول کر خرچ کرتا ہوں اور اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنے کھانے کیلئے خرچ کرتا ہوں ـ لوگ ٹیسٹ کیلئے پیتزاہٹ، کے ایف سی اور ماکڈونالڈ جاتے ہیں مگر یہ سب میرے لئے روز مرّہ کی غذاؤں میں شامل ہوگیا ہے، میری عیاشی یہی ہے کہ بہترین کھانے کھاتا ہوں مگر یہ شاہی کھانے مجھ جیسا شخص روزانہ نہیں کھا سکتا صرف مجبوری ہے کہ ہر دن ایک نئی ہوٹل سے کھاؤں ـ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کھاؤں، کیا کروں؟؟؟
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
December 3, 2004
مجھے اردو میں بلاگ لکھنا، اردو میں ٹائپنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہے ـ میرے جان پہچان والے سب کے سب انگریزی ہی میں بلاگ لکھتے ہیں اور ہمیشہ مجھ پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ اپنے بلاگ پر انگریزی میں بھی لکھا کروں کیوں کہ جو بھی میرے بلاگ پر وزٹ کرتا ہے، پہلی بات تو اردو پڑھنا نہیں آتا، اگر کسی کو اردو پڑھنا بھی آتا ہے تو اردو فونٹ ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھنا انکے لئے مسئلہ ہے ـ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ کوئی میرے بلاگ کو پڑھ نہ سکے تاکہ میں اپنے دل کی بھڑاس اردو الفاظوں کے ساتھ ادا کرسکوں ـ اگر کوئی دور دراز رہنے والے جو میری جان پہچان کے نہ ہوں اور میرے بلاگ کو پڑھ لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ـ میرے ساتھ رہنے والے ساتھیوں کا شکر گذار ہوں کہ اگر انہیں اردو پڑھنا آتا تو میرے بلاگ کو پڑھنے کے بعد یا تو میرا مذاق اڑاتے یا پھر سوالات کی بوچھاڑ کردیتے کہ ایسا کیوں لکھ دیا اور میں انکی نظروں میں برا ہوجاتا ـ شروع میں انگریزی بلاگ لکھا کرتا تھا تو چند مہذب دوستوں کو میرے الفاظوں پر اعتراض تھا، اب صرف اردو میں ہی بلاگ لکھا کروں گا کیوں کہ اردو میری ماں کی زبان ہے ـ
Posted in عام خیالات | 3 Comments »
December 3, 2004
مجھے اردو میں بلاگ لکھنا، اردو میں ٹائپنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہے ـ میرے جان پہچان والے سب کے سب انگریزی ہی میں بلاگ لکھتے ہیں اور ہمیشہ مجھ پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ اپنے بلاگ پر انگریزی میں بھی لکھا کروں کیوں کہ جو بھی میرے بلاگ پر وزٹ کرتا ہے، پہلی بات تو اردو پڑھنا نہیں آتا، اگر کسی کو اردو پڑھنا بھی آتا ہے تو اردو فونٹ ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھنا انکے لئے مسئلہ ہے ـ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ کوئی میرے بلاگ کو پڑھ نہ سکے تاکہ میں اپنے دل کی بھڑاس اردو الفاظوں کے ساتھ ادا کرسکوں ـ اگر کوئی دور دراز رہنے والے جو میری جان پہچان کے نہ ہوں اور میرے بلاگ کو پڑھ لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ـ میرے ساتھ رہنے والے ساتھیوں کا شکر گذار ہوں کہ اگر انہیں اردو پڑھنا آتا تو میرے بلاگ کو پڑھنے کے بعد یا تو میرا مذاق اڑاتے یا پھر سوالات کی بوچھاڑ کردیتے کہ ایسا کیوں لکھ دیا اور میں انکی نظروں میں برا ہوجاتا ـ شروع میں انگریزی بلاگ لکھا کرتا تھا تو چند مہذب دوستوں کو میرے الفاظوں پر اعتراض تھا، اب صرف اردو میں ہی بلاگ لکھا کروں گا کیوں کہ اردو میری ماں کی زبان ہے ـ
Posted in عام خیالات | 3 Comments »