Archive for December 8th, 2004
December 8, 2004
میری دوست نے پوچھا کہ کیا تم شیطان پر یقین کرتے ہو؟ کیوں کہ کل رات کو ہمارا روبوٹ (کتّا) ایک جانب دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا ساتھ ہی عجیب حرکتیں کرنے لگا، روبوٹ کے بھونکنے پر میں نے آس پاس دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا سب کچھ خاموش ہی تھا سمجھ میں نہیں آرہا کہ روبوٹ کسے دیکھ کر بھونک رہا ہے اور وہ بھونکتے ہوئے ایک جانب غصّے سے گھور رہا تھا ـ ایسا پہلی بار ہوا کہ ہمارا روبوٹ اچانک کسی انجان چیز کو دیکھ اچھل اچھل کر بھونکتا رہا اور یہ ہمارا روبوٹ بہت ہی اچھا چالاک شریر اور نٹ کھٹ کے علاوہ بہت ہی سمجھدار ہے ـ اپنی دوست کی باتیں سن کر ہنستے ہوئے پوچھا کہ اس وقت وہ کیا کر رہی تھی ـ کہنے لگی اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا، میں اکیلی صوفے پر بیٹھے دوسرے ورلڈ وار کی کہانی پڑھ رہی تھی اور روبوٹ میرے سامنے ہی بیٹھا کسی چیز کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک وہ تیزی سے اٹھا ہال میں ایک جانب جہاں نہ کھڑکی تھی اور نہ دروازہ کہ اچھل اچھل کر بھونکنے لگا اور میری طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے وہاں کوئی ہے ـــ اففف میں تو ڈرگئی تھی، صوفے سے اٹھنے کی ہمّت چھوٹ گئی میں اس طرف دیکھنے لگی جس طرف روبوٹ بھونک رہا تھا مگر مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا ـ رات دس بجے ممّی اور میرے بھائی بہن سب واپس آئے تو انہیں یہ واقعہ سنایا اور پھر ہم سب نے ملکر عبادت کیا اور بائبل بھی پڑھا ـ دوست کی ساری باتیں سن کر میں نے کہا: ہممممممم ـ ـ ـ ـ لگتا ہے تمہارا روبوٹ بہت ہی شریر ہے اور تمہیں ڈرانے کیلئے ایسا کیا ہوگا اور تم ڈر گئیں ہاہاہا ـ پھر کہنے لگی: ہممم تم ہنس رہے ہو، ویسے مجھے بھی بھوت اور شیطانوں پر یقین نہیں ہے پھر بھی پتہ نہیں کل رات تھوڑی دیر کیلئے شیطان پر یقین کر بیٹھی ہی ہی ہی ـ
Posted in عام خیالات | 2 Comments »
December 8, 2004
میری دوست نے پوچھا کہ کیا تم شیطان پر یقین کرتے ہو؟ کیوں کہ کل رات کو ہمارا روبوٹ (کتّا) ایک جانب دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا ساتھ ہی عجیب حرکتیں کرنے لگا، روبوٹ کے بھونکنے پر میں نے آس پاس دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا سب کچھ خاموش ہی تھا سمجھ میں نہیں آرہا کہ روبوٹ کسے دیکھ کر بھونک رہا ہے اور وہ بھونکتے ہوئے ایک جانب غصّے سے گھور رہا تھا ـ ایسا پہلی بار ہوا کہ ہمارا روبوٹ اچانک کسی انجان چیز کو دیکھ اچھل اچھل کر بھونکتا رہا اور یہ ہمارا روبوٹ بہت ہی اچھا چالاک شریر اور نٹ کھٹ کے علاوہ بہت ہی سمجھدار ہے ـ اپنی دوست کی باتیں سن کر ہنستے ہوئے پوچھا کہ اس وقت وہ کیا کر رہی تھی ـ کہنے لگی اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا، میں اکیلی صوفے پر بیٹھے دوسرے ورلڈ وار کی کہانی پڑھ رہی تھی اور روبوٹ میرے سامنے ہی بیٹھا کسی چیز کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک وہ تیزی سے اٹھا ہال میں ایک جانب جہاں نہ کھڑکی تھی اور نہ دروازہ کہ اچھل اچھل کر بھونکنے لگا اور میری طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے وہاں کوئی ہے ـــ اففف میں تو ڈرگئی تھی، صوفے سے اٹھنے کی ہمّت چھوٹ گئی میں اس طرف دیکھنے لگی جس طرف روبوٹ بھونک رہا تھا مگر مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا ـ رات دس بجے ممّی اور میرے بھائی بہن سب واپس آئے تو انہیں یہ واقعہ سنایا اور پھر ہم سب نے ملکر عبادت کیا اور بائبل بھی پڑھا ـ دوست کی ساری باتیں سن کر میں نے کہا: ہممممممم ـ ـ ـ ـ لگتا ہے تمہارا روبوٹ بہت ہی شریر ہے اور تمہیں ڈرانے کیلئے ایسا کیا ہوگا اور تم ڈر گئیں ہاہاہا ـ پھر کہنے لگی: ہممم تم ہنس رہے ہو، ویسے مجھے بھی بھوت اور شیطانوں پر یقین نہیں ہے پھر بھی پتہ نہیں کل رات تھوڑی دیر کیلئے شیطان پر یقین کر بیٹھی ہی ہی ہی ـ
Posted in عام خیالات | 2 Comments »
December 8, 2004
لوگ اپنے معبود کی تلاش کرتے ہیں شاید کہ وہ اندھیرے میں ہو کیوں کہ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ اشاروں کے سوا بات بھی نہیں کرتا اسی لئے اس کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا مگر وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے سوائے ظلم کے کیوں کہ اسے کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا پسند نہیں اور وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتا جارہا ہے وہ تو اسکا روز مرّہ کام ہے کیوں کہ اسے بیکار بیٹھنا پسند نہیں اور وہ ہمارے دل کی بات کو سنتا ہے مگر سمجھ نہیں سکتا کیوں کہ اسے زبانیں آتی نہیں رہ گئی بات کہ وہ دنیا کا حاکم ہے اور ہم اسکے محکوم ہیں اب اسکے علاوہ دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں کہ جب انسان انسان سے نہیں ڈرتا پھر کوئی تو ہو جسکے نام سے سامنے والے انسان کو ڈرائے ـ کہتے ہیں جو اس کے دربار میں مانگے گا آج تک تو ہر کوئی خالی ہاتھ ہی لوٹا ہے ضرورت تو یہ ہے کہ جب دعاؤں میں اثر نہیں تو بد دعا ہی سہی مگر جب چاند و سورج ہوا اور پانی ہر چیز سب اس کے قبضے میں ہے تو کمپیوٹر کیوں نہیں شاید کہ اسے پسند نہیں کیوں کہ کمپیوٹر انسان کی ایجاد ہے ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
December 8, 2004
لوگ اپنے معبود کی تلاش کرتے ہیں شاید کہ وہ اندھیرے میں ہو کیوں کہ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ اشاروں کے سوا بات بھی نہیں کرتا اسی لئے اس کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا مگر وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے سوائے ظلم کے کیوں کہ اسے کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا پسند نہیں اور وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتا جارہا ہے وہ تو اسکا روز مرّہ کام ہے کیوں کہ اسے بیکار بیٹھنا پسند نہیں اور وہ ہمارے دل کی بات کو سنتا ہے مگر سمجھ نہیں سکتا کیوں کہ اسے زبانیں آتی نہیں رہ گئی بات کہ وہ دنیا کا حاکم ہے اور ہم اسکے محکوم ہیں اب اسکے علاوہ دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں کہ جب انسان انسان سے نہیں ڈرتا پھر کوئی تو ہو جسکے نام سے سامنے والے انسان کو ڈرائے ـ کہتے ہیں جو اس کے دربار میں مانگے گا آج تک تو ہر کوئی خالی ہاتھ ہی لوٹا ہے ضرورت تو یہ ہے کہ جب دعاؤں میں اثر نہیں تو بد دعا ہی سہی مگر جب چاند و سورج ہوا اور پانی ہر چیز سب اس کے قبضے میں ہے تو کمپیوٹر کیوں نہیں شاید کہ اسے پسند نہیں کیوں کہ کمپیوٹر انسان کی ایجاد ہے ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
December 8, 2004
بچپن سے ڈبلیو ڈبلیو ایف دیکھتے مجھ میں بھی تمنّا جاگی کہ باڈی بلڈر بنوں مگر بالآخر باڈی بلڈنگ پسند نہیں آیا ـ یہ بات صحیح ہے کہ ہاف آستین کی ٹی شرٹ پہنے باڈی بلڈر لڑکوں کو لڑکیاں بہت پسند کرتی ہیں اور لڑکے بھی باڈی بلڈر بننا پسند کرتے ہیں تو صرف لڑکیوں کی خاطر ـ میری نظر میں روزانہ جیم کرنا انسان کے مشغلوں میں ایک ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے جیم کرنے والا انسان طاقتور ضرور ہوجاتا ہے مگر بہادر نہیں ہوتا ہے! میرے اکثر دوست سالوں سے جیم جا رہے ہیں اور اب تک تو وہ اپنے جسموں کو بہت ہی مضبوط بنواچکے ہیں مگر سب کے سب ڈرپوک اور نازک طبیعت والے ہیں ـ
آج یہاں اپنے بلاگ میں جیم کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کروں گا کیوں کہ جیم جانے والے میرے دوست ہمیشہ مجھے تنگ کرتے ہیں کہ میں جیم نہیں کرتا جیم جانے والوں کی تعریف نہیں کرتا، انکی باتوں کا نوٹس نہیں لیتا وغیرہ ـ میرے فلیٹ میٹ رات کو جیسے ہی جیم خانہ سے واپس آتے ہیں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر جگہ جگہ سے اپنے ابھرے ہوئے جسم کو فخر سے دیکھتے ہیں اور جب تک کوئی دوسرا انکے مضبوط جسم کی تعریف نہ کرلے سکون نہیں ملتا ـ میں مانتا ہوں کہ باڈی بلڈنگ انسان کا اپنا شوق ہے، ارنالڈ بھی اسی شوق کو پورا کرنے کیلئے آرمی کیمپ سے بھاگ نکلا تھا ـ جسم کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے جسم کو جگہ جگہ سے ابھارو! ہاتھ پیر موٹے کرلو، یہاں تک کہ ایک باقاعدہ باڈی بلڈر پھرتی کیساتھ اٹھ بیٹھ نہیں سکتا، تیزی سے دوڑ بھی نہیں سکتا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا پانی کے گلاس کو اپنے منہ تک نہیں لے جاسکتا صرف اوپر سے ہی انڈیلتا ہے! کیا ضرورت ہے ایسے گینڈا نما جسم کی؟ ایک بات تو ضرور ہے کہ اگر انکے ہاتھ مجھ جیسا کوئی پھنس جائے تو چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا ـ
سننے میں آیا ہے کہ باڈی بلڈرس میں مردانہ قوت فنا ہوجاتی ہے! خیر یہ تو وہ خود جانیں اور انکی عورتیں ـ لیکن میں اپنے لئے چاہوں گا کہ جسم میں مضبوطی ہو یا نہ ہو مگر بہادر ضرور بننا چاہوں گا، مجھے اپنے دوستوں کی طرح ڈرپوک بننا پسند نہیں ـ باڈی بلڈنگ سے زیادہ کنگفو، یوگا اور تائیچی کو ترجیح دیتا ہوں کیوں کہ ان کی مشقوں سے انسان میں جسمانی اور روحانی قوتیں پیدا ہوتی ہیں، انسان بہادر کیساتھ طاقتور بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی خوبرو بھی نظر آتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ کنگفو کی مشقوں سے انسان شریف بھی ہوتا ہے، مثال بروسلی جیسا ـ کنگفو کی مشقیں کرنے والے دبلے پتلے انسان میں جسم کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور وہ بہادر بھی ہوتا ہے، اپنوں کیلئے اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے ـ میرے ساتھ رہنے والے دوست جو روزانہ جیم جایا کرتے ہیں، ہر دن دوائیوں کا استعمال کر رہے ہیں، مہینے میں چار دن بیمار ضرور ہوتے ہیں چھوٹی موٹی کھانسی بخار میں بھی ایسے لگتے ہیں جیسے برسوں سے بیمار ہوں کیوں کہ ان میں نزاکت بہت ہے میرا مطلب ہے ان میں بہادری نام کی کوئی چیز ہی نہیں صرف شوق رکھتے ہیں باتیں بہت کرتے ہیں اپنے جسم پر ابھار لانے کیلئے دوائیوں پر ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں ـ پتہ نہیں ایسا کیوں کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باڈی بلڈنگ میرے دوستوں کا صرف شوق ہے اور وہ بھی جنونی شوق ـ میرے تمام باڈی بلڈر دوست بہت ہی سست اور کاہل ہیں، رات میں سونے کے علاوہ دن میں بھی دیر تک سوتے رہتے ہیں ـ اسی لئے مجھے باڈی بلڈنگ میں دلچسپی نہیں ـ یہاں جو میں نے لکھا ہے دنیا بھر میں موجود لاکھوں باڈی بلڈنگ کے شوقین حضرات کیلئے نہیں صرف اپنے باڈی بلڈر دوستوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھا ہوں ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »