جیون

سوچ لیا، خدا تو صرف ایک خیال ہے
سمجھ لیا، دنیا ایک عظیم جنت ہے
پھر خیال آیا، یہ بھوک کیا بلا ہے

سوچ لیا، بہت بڑا دولت مند بنوں گا
سمجھ لیا، اور میں بھی جنت میں رہوں گا
پھر خیال آیا، میرے مرنے کے بعد کیا ہوگا

سوچ لیا، اگر مرنا ہی ہے تو دولت کس کام کی
سمجھ لیا، دنیا جنت بھی ہے اور جہنم بھی
پھر خیال آیا، جینا اسی کا نام ہے

One Response to “جیون”

  1. Anonymous Says:

    Shuaib bhai, yeh tumne kiya likh diya? kuch bhi samajh me nahi araha hai…. kiya matlab hai.

    Yahya Khan

Leave a Reply

You must be logged in to post a comment.