Archive for January 4th, 2005
January 4, 2005
٣١ دسمبر کی شام ڈیوٹی سے فراغت کے بعد میں، مجیب، ناصر اور دیگر کئی ساتھی نئے سال کو خوش آمدید کہنے بر دبئی کے ایک ڈسکو میں داخل ہوگئے ـ ٹھیک بارہ بجے ڈسکو میں تھوڑی دیر کیلئے لائٹ آف کرنے کیساتھ زبردست بینڈ بجایا اور لوگوں نے اندھیرے میں ایک دوسرے کو گلے لگاکر نئے سال ٢٠٠٥ کی مبارکبادیاں دینے لگے، لڑکے اور لڑکیوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایکدوسرے کو چوم لیا ـ لائٹ آن کرنے کے بعد تمام لوگ ایک منٹ کیلئے سونامی حادثے کے شکار لوگوں کی تعزیت کیلئے خاموش کھڑے ہوگئے ـ پھر ناچ اور گانے کا پروگرام شروع ہوا جس میں انگریزی، فرنچ، ساؤتھ افریقی اور لبنانی شامل تھے، پروگرام رنگا رنگی تھا یعنی کہ بہت ہی خوبصورت زبردست ـ اس ڈسکو میں مختلف ملکوں کے لوگ تھے انڈین، امریکی، یوروپی، چینی اور اکثریت رشین اور افریقن تھے ـ میرے ساتھیوں نے گرم مشروبات کو ہاتھ لگا دیا جبکہ میں ایک بیئر کی بوتل لئے کنارے آگیا، پھر ایک کے بعد رات دو بجے تک تین بیئر کی بوتلیں پی گیا ـ رات تین بجے ہم سب ڈسکو سے باہر آئے گئے ـ ہر طرف پبلک کا رش تھا جیسے لگے کہ ابھی رات کے آٹھ بجے ہوں ـ یہاں آس پاس مختلف ملکوں کے ڈسکو کلبوں سے رات تین بجے کے بعد لوگ ایسے نکل رہے تھے جیسے کپ جیت کر آرہے ہوں اور دبئی کی مختلف شاہراہوں پر حسن کا بازار آج کی رات بہت زیادہ ہی گرم تھا ـ پولیس کا بھی معقول انتظام تھا پھر بھی نئے سال کی خوشی میں تھوڑی بہت چھوٹ بھی مل گئی ـ ہم تمام ساتھی مستی میں جھومتے ہوئے ابرا اسٹیشن میں کشتی پر سوار ہوکر دائرہ دبئی پہنچے اور پھر وہاں سے اپنی منزلوں کی جانب ـ صبح چار بجے اپنے فلیٹ میں پہنچا، بہت تھک چکا تھا اور نیند بھی آگئی ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
January 4, 2005
٣١ دسمبر کی شام ڈیوٹی سے فراغت کے بعد میں، مجیب، ناصر اور دیگر کئی ساتھی نئے سال کو خوش آمدید کہنے بر دبئی کے ایک ڈسکو میں داخل ہوگئے ـ ٹھیک بارہ بجے ڈسکو میں تھوڑی دیر کیلئے لائٹ آف کرنے کیساتھ زبردست بینڈ بجایا اور لوگوں نے اندھیرے میں ایک دوسرے کو گلے لگاکر نئے سال ٢٠٠٥ کی مبارکبادیاں دینے لگے، لڑکے اور لڑکیوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایکدوسرے کو چوم لیا ـ لائٹ آن کرنے کے بعد تمام لوگ ایک منٹ کیلئے سونامی حادثے کے شکار لوگوں کی تعزیت کیلئے خاموش کھڑے ہوگئے ـ پھر ناچ اور گانے کا پروگرام شروع ہوا جس میں انگریزی، فرنچ، ساؤتھ افریقی اور لبنانی شامل تھے، پروگرام رنگا رنگی تھا یعنی کہ بہت ہی خوبصورت زبردست ـ اس ڈسکو میں مختلف ملکوں کے لوگ تھے انڈین، امریکی، یوروپی، چینی اور اکثریت رشین اور افریقن تھے ـ میرے ساتھیوں نے گرم مشروبات کو ہاتھ لگا دیا جبکہ میں ایک بیئر کی بوتل لئے کنارے آگیا، پھر ایک کے بعد رات دو بجے تک تین بیئر کی بوتلیں پی گیا ـ رات تین بجے ہم سب ڈسکو سے باہر آئے گئے ـ ہر طرف پبلک کا رش تھا جیسے لگے کہ ابھی رات کے آٹھ بجے ہوں ـ یہاں آس پاس مختلف ملکوں کے ڈسکو کلبوں سے رات تین بجے کے بعد لوگ ایسے نکل رہے تھے جیسے کپ جیت کر آرہے ہوں اور دبئی کی مختلف شاہراہوں پر حسن کا بازار آج کی رات بہت زیادہ ہی گرم تھا ـ پولیس کا بھی معقول انتظام تھا پھر بھی نئے سال کی خوشی میں تھوڑی بہت چھوٹ بھی مل گئی ـ ہم تمام ساتھی مستی میں جھومتے ہوئے ابرا اسٹیشن میں کشتی پر سوار ہوکر دائرہ دبئی پہنچے اور پھر وہاں سے اپنی منزلوں کی جانب ـ صبح چار بجے اپنے فلیٹ میں پہنچا، بہت تھک چکا تھا اور نیند بھی آگئی ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »
January 4, 2005
ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں انڈرویئر مرچنڈائزر کا نام ہیگڈے ہے مگر ہمارا عربی مالک ہیگڈے کا ٹھیک سے تلفظ نہیں کرسکتا، جب بھی ہیگڈے کو نام سے پکارتا ہے تو کہے گا ہیجدے، یعنی ہیگڈے کو عربی میں ہیجدے کہتا ہے اور ہم سننے والوں کو ہیجڈے اور کبھی ہجڑے سنائی دیتا ہے ـ ہاہاہاہا
Posted in عام خیالات | No Comments »
January 4, 2005
ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں انڈرویئر مرچنڈائزر کا نام ہیگڈے ہے مگر ہمارا عربی مالک ہیگڈے کا ٹھیک سے تلفظ نہیں کرسکتا، جب بھی ہیگڈے کو نام سے پکارتا ہے تو کہے گا ہیجدے، یعنی ہیگڈے کو عربی میں ہیجدے کہتا ہے اور ہم سننے والوں کو ہیجڈے اور کبھی ہجڑے سنائی دیتا ہے ـ ہاہاہاہا
Posted in عام خیالات | No Comments »
January 4, 2005
کون ہے یہ کمبخت، کہاں رہتا ہے، نظر بھی نہیں آتا، اس شخص کے کارنامے تو بہت سنے ہیں مگر کبھی دیکھا نہیں، دل میں تمنّا ہے کہ اس عظیم ہستی سے ملاقات کروں دیکھوں کیسا لگتا ہے ـ سنا ہے انسانوں کا جانی شمن ہے، ڈرتا لگتا ہے کہیں وائرس کی شکل میں میرے کمپیوٹر میں داخل نہ ہوجائے! بچپن سے اس عظیم شخصیت کا نام سنتا آرہا ہوں مگر کبھی اسکا سایہ تک دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی اسکی آہٹ محسوس کیا ـ خوش نصیب ہیں وہ انسان جو اسکے ساتھ پنگا لے چکے ہیں مگر میں نے کونسا اسکے ساتھ برا سلوک کیا جو مجھے اپنی ایک جھلک تک دکھانا پسند نہیں کرتا ـ کاش کہ میں ڈرپوک ہوتا، کاش میں گاؤں میں پیدا ہوتا، کاش میں شریف اور ایماندار ہوتا، کاش میں مذہبی ہوتا اور کاش کہ میں انپڑھ اور جاہل ہوتا تو اے شیطان تجھ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوجاتا ـ
Posted in عام خیالات | No Comments »