کون ہے یہ کمبخت، کہاں رہتا ہے، نظر بھی نہیں آتا، اس شخص کے کارنامے تو بہت سنے ہیں مگر کبھی دیکھا نہیں، دل میں تمنّا ہے کہ اس عظیم ہستی سے ملاقات کروں دیکھوں کیسا لگتا ہے ـ سنا ہے انسانوں کا جانی شمن ہے، ڈرتا لگتا ہے کہیں وائرس کی شکل میں میرے کمپیوٹر میں داخل نہ ہوجائے! بچپن سے اس عظیم شخصیت کا نام سنتا آرہا ہوں مگر کبھی اسکا سایہ تک دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی اسکی آہٹ محسوس کیا ـ خوش نصیب ہیں وہ انسان جو اسکے ساتھ پنگا لے چکے ہیں مگر میں نے کونسا اسکے ساتھ برا سلوک کیا جو مجھے اپنی ایک جھلک تک دکھانا پسند نہیں کرتا ـ کاش کہ میں ڈرپوک ہوتا، کاش میں گاؤں میں پیدا ہوتا، کاش میں شریف اور ایماندار ہوتا، کاش میں مذہبی ہوتا اور کاش کہ میں انپڑھ اور جاہل ہوتا تو اے شیطان تجھ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوجاتا ـ
Archive for January 4th, 2005
شیطان
January 4, 2005برف
January 4, 2005یقین ہی نہیں ہوتا، پھر بھی یقین کرسکتا ہوں کیونکہ چہارشنبہ کے دن اخبار کے پہلے صفحہ پر ایک تصویر چھپی تھی اور اس تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ پہاڑوں اور کھنڈروں پر برفیلی چادر بچھی ہوئی ہے اور تصویر کے اوپر انگریزی میں لکھا تھا: جی ہاں! یقین کیجئے کہ یہ راس الخیمہ کا منظر ہے اور امارات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسنو فال ہوا ہے ـ ویسے جس دن یعنی بروز منگل راس الخیمہ میں اسنوفال ہوا، شارجہ اتنا سرد ہوچکا تھا کہ بیان سے باہر ہے، میں نے محسوس کیا جیسے فریج میں بیٹھا ہوا ہوں اور ننگے پیر زمین پر کھڑا ہوا تو لگا جیسے برف پر کھڑا ہوں ـ یہاں امارات میں لوگ اکثر کاٹن کے ملبوسات پہننا پسند کرتے ہیں مگر اس دن تمام لوگ گرم کپڑوں میں دکھائی دیئے، سچ مچ شارجہ بہت سرد ہوچکا تھا لڑکیوں نے تو ہاتھوں میں گلاؤز بھی پہن لئے ـ اس دوران ٹھہر ٹھہر کر بارش بھی ہوتی رہی جس کی وجہ سے دبئی اور شارجہ میں ٹریفک جام رہا اور سڑکوں پر پانی ٹخنوں کے اوپر تک آگیا تھا ـ عجیب بات ہے کیونکہ یہاں امارات میں جہاں ہر جگہ دھول مٹی، ریگستان پہاڑ اور دو جانب سمندر ہے مگر اچانک اسنوفال!!! تعجب ہے بھئی!!
برف
January 4, 2005یقین ہی نہیں ہوتا، پھر بھی یقین کرسکتا ہوں کیونکہ چہارشنبہ کے دن اخبار کے پہلے صفحہ پر ایک تصویر چھپی تھی اور اس تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ پہاڑوں اور کھنڈروں پر برفیلی چادر بچھی ہوئی ہے اور تصویر کے اوپر انگریزی میں لکھا تھا: جی ہاں! یقین کیجئے کہ یہ راس الخیمہ کا منظر ہے اور امارات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسنو فال ہوا ہے ـ ویسے جس دن یعنی بروز منگل راس الخیمہ میں اسنوفال ہوا، شارجہ اتنا سرد ہوچکا تھا کہ بیان سے باہر ہے، میں نے محسوس کیا جیسے فریج میں بیٹھا ہوا ہوں اور ننگے پیر زمین پر کھڑا ہوا تو لگا جیسے برف پر کھڑا ہوں ـ یہاں امارات میں لوگ اکثر کاٹن کے ملبوسات پہننا پسند کرتے ہیں مگر اس دن تمام لوگ گرم کپڑوں میں دکھائی دیئے، سچ مچ شارجہ بہت سرد ہوچکا تھا لڑکیوں نے تو ہاتھوں میں گلاؤز بھی پہن لئے ـ اس دوران ٹھہر ٹھہر کر بارش بھی ہوتی رہی جس کی وجہ سے دبئی اور شارجہ میں ٹریفک جام رہا اور سڑکوں پر پانی ٹخنوں کے اوپر تک آگیا تھا ـ عجیب بات ہے کیونکہ یہاں امارات میں جہاں ہر جگہ دھول مٹی، ریگستان پہاڑ اور دو جانب سمندر ہے مگر اچانک اسنوفال!!! تعجب ہے بھئی!!
بنگلور
January 4, 2005اپنے گھر کو فون کرنے کے بعد دل کو تسلّی ہوئی ـ چونکہ شہر بنگلور سمندر کے لیول سے بہت اونچائی پر ہے جسکی وجہ سے آج تک زلزلوں اور طوفان سے محفوظ ہے ـ

جنوبی ایشیا کے سونامی سے جو بہت طاقتور تھا مگر بنگلور شہر پر اسکا کچھ بھی اثر نہیں ہوا، میرا شہر بنگلور، جو جنوبی ہندوستان میں واقع ہے، سونامی کی آفت سے بچ گیا ـ
بنگلور
January 4, 2005اپنے گھر کو فون کرنے کے بعد دل کو تسلّی ہوئی ـ چونکہ شہر بنگلور سمندر کے لیول سے بہت اونچائی پر ہے جسکی وجہ سے آج تک زلزلوں اور طوفان سے محفوظ ہے ـ

جنوبی ایشیا کے سونامی سے جو بہت طاقتور تھا مگر بنگلور شہر پر اسکا کچھ بھی اثر نہیں ہوا، میرا شہر بنگلور، جو جنوبی ہندوستان میں واقع ہے، سونامی کی آفت سے بچ گیا ـ