Archive for January 28th, 2005

آج زلزلہ

January 28, 2005

میرے ایک سچے مسلمان دوست نے پورے جوش کیساتھ کہنا شروع کیا کہ سونامی عذاب الہی ہے ـ ـ ـ میں بھی جوش میں اٹھ کھڑا ہوگیا اور اپنے مسلمان دوست سے پوچھا: اگر سونامی عذاب الہی ہے تو افغانستان اور عراق پر کونسا عذاب ہو رہا ہے؟

ظاہر ہے افغانستان کے بعد عالمی سپر طاقتوں کے اتحاد سے فی الحال عراقی عوام پر عذاب ہو رہا ہے ـ یہی وہ عالمی اتحاد ہے جس کی وجہ سے عراق میں روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہو رہے، دنیا بھر کے عوام عراقیوں کی حمایت میں چیخ و پکار کرنے کے بعد اب آواز ہی دب گئی ہے مگر وہاں عالمی اتحاد ہر دن مضبوط اور مستحکم ہوتا جارہا ہے کیونکہ اتحاد آخر اتحاد ہے ـ

منحوس ذہنوں پر روزانہ سائنس کے تھپڑ جاری ہیں پھر بھی یہ منحوس اور کند ذہن لوگ سونامی کو عذاب الہی سمجھ کر اپنے آپ میں جھوٹی تسلّی رکھتے ہیں ـ سمندر کے نیچے اچانک چٹانوں کی رگڑ سے سونامی آیا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے ـ سونامی سے لاکھوں اموات کا ذمہ دار کون ہے اور عراق میں ہلاک ہونے والے ہزاروں انسانوں کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ہم سب اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں پھر بھی پرانے اور خیالی باتوں سے لطف اٹھانا فطرت میں شامل ہے ـ

ایک طرف دنیا کا قدرتی نظام اور دوسری طرف دنیا پر راج کرنے والے طاقتور حاکم ـ دنیا میں انسان حاکم بھی ہے اور محکوم بھی ـ تمام تاریخی اور مقدس مانے جانے والی کتابیں گواہ ہیں کہ زمانہ دراز سے کچھ بھی حاصل کرنے کیلئے جنگیں لڑی جاتی تھیں، ایک بادشاہ پڑوسی ملک کے بادشاہ کو اچانک تاراج کرنے کے بعد اسکی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا ـ اور آج بھی یہاں یہی روایت چلی آرہی ہے کہ طاقتور ملک کمزور ملکوں پر ہمیشہ اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے ـ

یہ تحریریں میرے ہمخیالوں کیلئے لکھ رہا ہوں ـ آپ دیکھنا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ سائنسدان صاف صاف الفاظوں میں بتا دیں گے کہ آج صبح ٹھیک نو بجے فلاں جگہ زلزلہ آئے گا ـ مجھے یقین ہے تب بھی منحوس ذہن رکھنے والے سائنسدان کو خود منحوس سمجھیں گے یا پھر سائنسدانوں کو زلزلے سے ہوئی تباہیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کیونکہ کہ بیچارے سائنسدان نے اپنے علم کے مطابق عوام کو انتباہ کردیا ـ

آج زلزلہ

January 28, 2005

میرے ایک سچے مسلمان دوست نے پورے جوش کیساتھ کہنا شروع کیا کہ سونامی عذاب الہی ہے ـ ـ ـ میں بھی جوش میں اٹھ کھڑا ہوگیا اور اپنے مسلمان دوست سے پوچھا: اگر سونامی عذاب الہی ہے تو افغانستان اور عراق پر کونسا عذاب ہو رہا ہے؟

ظاہر ہے افغانستان کے بعد عالمی سپر طاقتوں کے اتحاد سے فی الحال عراقی عوام پر عذاب ہو رہا ہے ـ یہی وہ عالمی اتحاد ہے جس کی وجہ سے عراق میں روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہو رہے، دنیا بھر کے عوام عراقیوں کی حمایت میں چیخ و پکار کرنے کے بعد اب آواز ہی دب گئی ہے مگر وہاں عالمی اتحاد ہر دن مضبوط اور مستحکم ہوتا جارہا ہے کیونکہ اتحاد آخر اتحاد ہے ـ

منحوس ذہنوں پر روزانہ سائنس کے تھپڑ جاری ہیں پھر بھی یہ منحوس اور کند ذہن لوگ سونامی کو عذاب الہی سمجھ کر اپنے آپ میں جھوٹی تسلّی رکھتے ہیں ـ سمندر کے نیچے اچانک چٹانوں کی رگڑ سے سونامی آیا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے ـ سونامی سے لاکھوں اموات کا ذمہ دار کون ہے اور عراق میں ہلاک ہونے والے ہزاروں انسانوں کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ہم سب اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں پھر بھی پرانے اور خیالی باتوں سے لطف اٹھانا فطرت میں شامل ہے ـ

ایک طرف دنیا کا قدرتی نظام اور دوسری طرف دنیا پر راج کرنے والے طاقتور حاکم ـ دنیا میں انسان حاکم بھی ہے اور محکوم بھی ـ تمام تاریخی اور مقدس مانے جانے والی کتابیں گواہ ہیں کہ زمانہ دراز سے کچھ بھی حاصل کرنے کیلئے جنگیں لڑی جاتی تھیں، ایک بادشاہ پڑوسی ملک کے بادشاہ کو اچانک تاراج کرنے کے بعد اسکی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا ـ اور آج بھی یہاں یہی روایت چلی آرہی ہے کہ طاقتور ملک کمزور ملکوں پر ہمیشہ اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے ـ

یہ تحریریں میرے ہمخیالوں کیلئے لکھ رہا ہوں ـ آپ دیکھنا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ سائنسدان صاف صاف الفاظوں میں بتا دیں گے کہ آج صبح ٹھیک نو بجے فلاں جگہ زلزلہ آئے گا ـ مجھے یقین ہے تب بھی منحوس ذہن رکھنے والے سائنسدان کو خود منحوس سمجھیں گے یا پھر سائنسدانوں کو زلزلے سے ہوئی تباہیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کیونکہ کہ بیچارے سائنسدان نے اپنے علم کے مطابق عوام کو انتباہ کردیا ـ

ترقی چاہتا ہوں

January 28, 2005

ہمیشہ سے میری ننھی منی امیدیں کامیاب ہوجاتی ہیں مگر اب کی بار تمام ننھی منی امیدوں کو یکجا کرکے بڑے پیمانے پر ایک امید بنا رہا ہوں ـ فی الحال ہاتھ دھوکر ایجنٹوں کے پیچھے بھاگ رہا ہوں کہ بھائی مجھے یوروپ جانا ہے کیسے بھی جرمنی یا آسٹریا تک پہنچا دیں ـ پلیز ـ پلیز ـ پلیز

ایجنٹ تو ایجنٹ ہوتے ہیں، بہت سارا روپیہ لیکر کام پورا کرتے ہیں مگر اب تمام ایجنٹوں کا ایک ہی جواب ہے: اب پہلے جیسا نہیں رہا، بہت مشکل ہے ویزا نکالنا ـ یہ جواب سنتے سنتے میرے کان پک گئے، میرا یہی کہنا ہے کہ کسی بھی طرح مجھے جرمنی یا آسٹریا پہنچا دیں نوکری دھونڈنا میرا کام ہے ـ

بہت ہوگیا، اب مجھے اپنے فیوچر کی فکر ہے اور کسی سے امید بھی نہیں رکھنا چاہتا جو بھی ہو اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتا ہوں ـ والدین نے مجھے کمائی کا راستہ نہیں دکھایا اور نہ ہی تعلیم کی طرف راغب کروایا ـ اب تک جو بھی کیا خود کیلئے صحیح کیا اور تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا ـ

امّی کہتی ہیں: بیٹا دو سال مکمل ہوگئے تجھے دیکھ کر، اب گھر واپس آکر اپنا چہرا دکھا دے ـ کاش کہ ایسا ممکن ہوتا، ویسے امّی کو اب تک بتایا نہیں کہ گھر واپس آنے کی نہیں بلکہ یوروپ جانے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھا ہوں ورنہ امّی کا روتے روتے برا حال ہوجاتا ـ میں کیاں کروں؟ مجھے اپنا فیوچر بنانا ہے کچھ حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ـ

یہ بات بھی صحیح ہے کہ آج بنگلور شہر میں کسی چیز کی کمی نہیں، وہاں لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کما رہے ہیں ـ آج بنگلور میں روپیہ کمانے کیلئے بے شمار راستے بھی ہیں، دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں بھی ہیں مگر میرے خیال میں مجھے اپنوں سے اور اپنے شہر سے دور رہ کر ہی روپیہ کمانا ٹھیک ہے ـ

مانتا ہوں کہ جرمنی پہنچنا مشکل ہے، لیکن کوشش کرنے سے تمام راہیں آسان ہوجاتی ہیں ـ پہلے خیال آیا کوشش کرکے فرانس چلا جاؤں چونکہ وہاں فیشن مصنوعات کی بے شمار کمپنیاں ہیں مگر جرمنی اور آسٹریا میں میرے لائق بے شمار دروازے کھلے ہیں جہاں پر اپنے ہنر سے روزگار حاصل کروں گا ـ

ترقی چاہتا ہوں

January 28, 2005

ہمیشہ سے میری ننھی منی امیدیں کامیاب ہوجاتی ہیں مگر اب کی بار تمام ننھی منی امیدوں کو یکجا کرکے بڑے پیمانے پر ایک امید بنا رہا ہوں ـ فی الحال ہاتھ دھوکر ایجنٹوں کے پیچھے بھاگ رہا ہوں کہ بھائی مجھے یوروپ جانا ہے کیسے بھی جرمنی یا آسٹریا تک پہنچا دیں ـ پلیز ـ پلیز ـ پلیز

ایجنٹ تو ایجنٹ ہوتے ہیں، بہت سارا روپیہ لیکر کام پورا کرتے ہیں مگر اب تمام ایجنٹوں کا ایک ہی جواب ہے: اب پہلے جیسا نہیں رہا، بہت مشکل ہے ویزا نکالنا ـ یہ جواب سنتے سنتے میرے کان پک گئے، میرا یہی کہنا ہے کہ کسی بھی طرح مجھے جرمنی یا آسٹریا پہنچا دیں نوکری دھونڈنا میرا کام ہے ـ

بہت ہوگیا، اب مجھے اپنے فیوچر کی فکر ہے اور کسی سے امید بھی نہیں رکھنا چاہتا جو بھی ہو اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتا ہوں ـ والدین نے مجھے کمائی کا راستہ نہیں دکھایا اور نہ ہی تعلیم کی طرف راغب کروایا ـ اب تک جو بھی کیا خود کیلئے صحیح کیا اور تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا ـ

امّی کہتی ہیں: بیٹا دو سال مکمل ہوگئے تجھے دیکھ کر، اب گھر واپس آکر اپنا چہرا دکھا دے ـ کاش کہ ایسا ممکن ہوتا، ویسے امّی کو اب تک بتایا نہیں کہ گھر واپس آنے کی نہیں بلکہ یوروپ جانے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھا ہوں ورنہ امّی کا روتے روتے برا حال ہوجاتا ـ میں کیاں کروں؟ مجھے اپنا فیوچر بنانا ہے کچھ حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ـ

یہ بات بھی صحیح ہے کہ آج بنگلور شہر میں کسی چیز کی کمی نہیں، وہاں لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کما رہے ہیں ـ آج بنگلور میں روپیہ کمانے کیلئے بے شمار راستے بھی ہیں، دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں بھی ہیں مگر میرے خیال میں مجھے اپنوں سے اور اپنے شہر سے دور رہ کر ہی روپیہ کمانا ٹھیک ہے ـ

مانتا ہوں کہ جرمنی پہنچنا مشکل ہے، لیکن کوشش کرنے سے تمام راہیں آسان ہوجاتی ہیں ـ پہلے خیال آیا کوشش کرکے فرانس چلا جاؤں چونکہ وہاں فیشن مصنوعات کی بے شمار کمپنیاں ہیں مگر جرمنی اور آسٹریا میں میرے لائق بے شمار دروازے کھلے ہیں جہاں پر اپنے ہنر سے روزگار حاصل کروں گا ـ

ننگی تصویریں

January 28, 2005

موبائل فون میں موجود نئی ٹیکنالوجی ’’بلوتوتھ‘‘ کی وجہ سے آجکل میرے موبائل فون میں ننگی تصویریں آنے لگی ہیں ـ بلوتوتھ موبائل فون پر ایک نئی وائرلیس ٹیکنالوجی ہے جو ایک موبائل سے دوسرے موبائل پر مسیج، فوٹو، ویڈیو فائل ارسال کرسکتے ہیں جس کا کوئی پیسہ چارج نہیں ہوتا اور نہ ہی بھیجنے والے کا نمبر اور پتہ ـ

آج یہاں ہر تیسرے آدمی کے پاس بلوتوتھ والا موبائل فون سیٹ ہے اور ہر بڑے شہر میں سیکس یا ننگے پن کو اولین درجہ حاصل ہے ـ پہلے ایک موبائل سے دوسرے موبائل کو تصویریں بھیجنے یا ویڈیو فائلیں بھیجنے کیلئے روپیہ خرچ ہوتا تھا مگر اب بلوتوتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے پندرہ میٹر کے اندر کسی بھی دوسرے موبائل پر ڈیٹا یا تصویریں بھیج اور منگوا سکتے ہیں ـ مزے کی بات یہ ہے کہ بلوتوتھ اور انفرا ریڈر کے ذریعے تصویریں بھیجنے والے موبائل کا فون نمبر پتہ نہیں چلتا اور تصویر وصول کرنے والے موبائل فون کو صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یہیں قریب کسی نے اپنے موبائل کے بلوتوتھ کی مدد سے یہ تصویر بھیجی ہے ـ بلوتوتھ کے ذریعے صرف ننگی تصویریں ہی نہیں وائرس بھی آتا ہے جس کی وجہ سے موبائل سیٹ پھیکنے لائق کا ہوجاتا ہے ـ

عرب لوگوں کا شوق صرف اور صرف سیکس ہے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہمیشہ سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں اور اپنے موبائل سیٹس میں بھی ننگی تصویریں بڑے احترام کے ساتھ فائل کرتے ہیں تاکہ تنہائی یا باتھ روم میں کام آسکے ـ راہ چلتے بلوتوتھ کے ذریعے دوسروں کے موبائل پر بھی وائرلیس طریقے سے یہ ننگی تصویریں بھیجتے ہیں اور وصول کرنے والا اچانک چونک کر مسکرا دیتا ہے کہ ننگی تصویریں اور وہ بھی مفت میں؟ اور پھر وہ دوسروں کو یہ تصویریں بھیجتا ہے مگر وصول کرنے والے کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ تصویریں اور ویڈیو فائلس کس نے بھیجا ـ ٹیکنالوجی کا کمال ہے، کاش پرانے زمانے میں بادشاہوں اور نوابوں کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہوتی ـ