Archive for February 11th, 2005

پہلا ہندوستانی

February 11, 2005

نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا واحد ہندوستانی ہوں باقی سب پاکستانی ہیں ویسے اردو بلاگرس ہیں بھی صرف چند گنتی کے ـ فی الحال نیٹ پر نئے نئے اردو بلاگرس ابھر رہے ہیں جو صرف اور صرف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں ـ

میرے جان پہچان والے جو ہندوستانی ہیں اور چند جو اردو لکھنا پڑھنا بھی جانتے ہیں مگر بلاگ انگریزی میں لکھتے ہیں ـ میرے ایک ساتھی جو شاعری کے شوقین ہیں اور رومن اردو میں بلاگ بھی لکھتے ہیں، ان سے خواہش کیا تھا کہ وہ رومن اردو کے بجائے میری طرح خالص اردو میں بلاگ لکھا کریں تو اچھا ہے ـ ان کا جواب تھا کہ بلاگ پڑھتا کون ہے، یہ تو صرف اپنی روز مرّہ زندگی کے بارے میں لکھنا ہوتا ہے ـ بالآخر انہوں نے خالص اردو میں بلاگ لکھنے کی ٹھان لی مگر ایک شرط پر کہ میں انکے بلاگ پر وزٹ کرتا رہوں اور ساتھ ہی انکے لکھے ہوئے اشعار پر تبصرے بھی لکھوں ـ

خاک میں جائے وہ اور انکی شاعری کیوں کہ مجھے شعر اور شاعر بالکل پسند نہیں ـ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا اکیلا ہندوستانی ہوں، کتنا اچھا ہوتا کہ میرے علاوہ دوسرے ہندوستانی اردو دان بھی اردو میں بلاگ لکھنا شروع کردیں ـ

پہلا ہندوستانی

February 11, 2005

نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا واحد ہندوستانی ہوں باقی سب پاکستانی ہیں ویسے اردو بلاگرس ہیں بھی صرف چند گنتی کے ـ فی الحال نیٹ پر نئے نئے اردو بلاگرس ابھر رہے ہیں جو صرف اور صرف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں ـ

میرے جان پہچان والے جو ہندوستانی ہیں اور چند جو اردو لکھنا پڑھنا بھی جانتے ہیں مگر بلاگ انگریزی میں لکھتے ہیں ـ میرے ایک ساتھی جو شاعری کے شوقین ہیں اور رومن اردو میں بلاگ بھی لکھتے ہیں، ان سے خواہش کیا تھا کہ وہ رومن اردو کے بجائے میری طرح خالص اردو میں بلاگ لکھا کریں تو اچھا ہے ـ ان کا جواب تھا کہ بلاگ پڑھتا کون ہے، یہ تو صرف اپنی روز مرّہ زندگی کے بارے میں لکھنا ہوتا ہے ـ بالآخر انہوں نے خالص اردو میں بلاگ لکھنے کی ٹھان لی مگر ایک شرط پر کہ میں انکے بلاگ پر وزٹ کرتا رہوں اور ساتھ ہی انکے لکھے ہوئے اشعار پر تبصرے بھی لکھوں ـ

خاک میں جائے وہ اور انکی شاعری کیوں کہ مجھے شعر اور شاعر بالکل پسند نہیں ـ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا اکیلا ہندوستانی ہوں، کتنا اچھا ہوتا کہ میرے علاوہ دوسرے ہندوستانی اردو دان بھی اردو میں بلاگ لکھنا شروع کردیں ـ

آوارہ صحافی

February 11, 2005

ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں بلاگ کا تعارف صحافت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایا گیا جس کے ذریعے ہر کوئی اپنے خیالات کا دل کھول کر اظہار کرسکے ـ شکر ہے بلاگ لکھنے والے آوارہ صحافیوں میں میرا بھی ایک مقام ہے ـ

زیادہ آوارہ نہیں کیونکہ نیوز میڈیا میں کام کرتے پورے آٹھ سال کا تجربہ ہے ـ ان آٹھ سالوں میں تقریبا تین اخباروں اور انگنت رسالوں میں کام کرنے کا زبردست نہیں تھوڑا بہت تجربہ ضرور ہے ـ اخبار کے دفتر میں کام کرنے والا ہر ایک صحافی نہیں ہوتا ـ ہاں ، اتنا ضرور ہے کہ صحافت کے بارے میں تھوڑی بہت جانکاری ضرور ہوتی ہے اور ساتھ ہی اخبار کے دفتری کاموں میں سالہا سال کام کرتے نیوز میڈیا کے بارے میں کافی تجربہ حاصل ہوتا ہے ـ

مگر ٹیکنالوجی نے بلاگ کا تعارف کرانے کے بعد آج ہر کسی کو جرنلسٹ بنا دیا ـ بلاگ لکھنے والے اکثر اپنے روز مرّہ کے بارے میں لکھتے ہیں یا پھر طنز و مزاح، یادداشت، خطوط، دوستی، سچی جھوٹی کہانیاں، مذہبی تبلیغ، علاقائی خبریں، المناک خبریں، عالمی خبروں پر تبصرے، مختلف قسم کے مضامین، شاعری اور کوئی امریکی صدر کے نام خط بھی لکھ دیتے ہیں ـ

اچھا ہے، یعنی ٹیکنالوجی کا بڑا کمال ہے، صحافیوں کو سماج میں جو ایک الگ اونچا مقام ہے ـــــ لو ، آج ہم بھی صحافی بن گئے ـ ـ ـ ـ ـ مگر اردو صحافت بھی کیا صحافت ہے، آج سے کئی سال پہلے اردو صحافیوں کی جو حالت تھی آج بھی وہی ہے ـ مگر یہ کبھی سوچا نہیں، کبھی تصور تک نہیں کیا کہ ایک دن یعنی آج اردو صحافت بھی الیکٹرونک میڈیا میں تمام دوسری زبانوں کے برابر ہے ـ

آوارہ صحافی

February 11, 2005

ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں بلاگ کا تعارف صحافت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایا گیا جس کے ذریعے ہر کوئی اپنے خیالات کا دل کھول کر اظہار کرسکے ـ شکر ہے بلاگ لکھنے والے آوارہ صحافیوں میں میرا بھی ایک مقام ہے ـ

زیادہ آوارہ نہیں کیونکہ نیوز میڈیا میں کام کرتے پورے آٹھ سال کا تجربہ ہے ـ ان آٹھ سالوں میں تقریبا تین اخباروں اور انگنت رسالوں میں کام کرنے کا زبردست نہیں تھوڑا بہت تجربہ ضرور ہے ـ اخبار کے دفتر میں کام کرنے والا ہر ایک صحافی نہیں ہوتا ـ ہاں ، اتنا ضرور ہے کہ صحافت کے بارے میں تھوڑی بہت جانکاری ضرور ہوتی ہے اور ساتھ ہی اخبار کے دفتری کاموں میں سالہا سال کام کرتے نیوز میڈیا کے بارے میں کافی تجربہ حاصل ہوتا ہے ـ

مگر ٹیکنالوجی نے بلاگ کا تعارف کرانے کے بعد آج ہر کسی کو جرنلسٹ بنا دیا ـ بلاگ لکھنے والے اکثر اپنے روز مرّہ کے بارے میں لکھتے ہیں یا پھر طنز و مزاح، یادداشت، خطوط، دوستی، سچی جھوٹی کہانیاں، مذہبی تبلیغ، علاقائی خبریں، المناک خبریں، عالمی خبروں پر تبصرے، مختلف قسم کے مضامین، شاعری اور کوئی امریکی صدر کے نام خط بھی لکھ دیتے ہیں ـ

اچھا ہے، یعنی ٹیکنالوجی کا بڑا کمال ہے، صحافیوں کو سماج میں جو ایک الگ اونچا مقام ہے ـــــ لو ، آج ہم بھی صحافی بن گئے ـ ـ ـ ـ ـ مگر اردو صحافت بھی کیا صحافت ہے، آج سے کئی سال پہلے اردو صحافیوں کی جو حالت تھی آج بھی وہی ہے ـ مگر یہ کبھی سوچا نہیں، کبھی تصور تک نہیں کیا کہ ایک دن یعنی آج اردو صحافت بھی الیکٹرونک میڈیا میں تمام دوسری زبانوں کے برابر ہے ـ

شراب

February 11, 2005

حرام ہے ـ مگر پورے امارات میں نہیں صرف ابوظبی اور شارجہ میں حرام ہے ـ باقی پورے امارات میں جائز ہے، دبئی اور عجمان میں جائز ہی نہیں بلکہ باعث ثواب بھی ہے ـ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابوظبی اور شارجہ میں شراب کا دور دور تک اتہ پتہ نہیں، صرف فون کرنے کی دیری شراب خود ہمارے دروازے پر پہنچ جاتی ہے ـ

کتنا عجیب ہے ـ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ملک جس میں سات چھوٹے چھوٹے شہر اور ان سات شہروں میں سے دو شہروں میں شراب حرام ہے اور باقی پانچ شہروں میں ٹھیک ـ امارات جو دنیا کے تمام چھوٹے چھوٹے ترقی پذیر ملکوں میں سے ایک ہے، یہاں شرعی قانون نافذ ہے اسکے علاوہ انسانی حقوق کے طفیل عالمی قانون کی پاسداری بھی ہے ـ

سات شہروں والے اس چھوٹے سے ملک امارات میں رہنے والے غیر ملکیوں کو آج تک یہاں کے قاعدے قانون کے بارے میں زیادہ علم نہیں، ویسے دیکھا جائے تو یہاں کا قانون ایک عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے ـ ہر ہفتے، مہینے یہاں کے قانون میں تخفیف اور ترمیم ہوتی رہتی ہے ـ

١٩٧٩ء میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے والا یہ عرب ملک جس میں دنیا بھر کی تمام قومیں آباد ہیں، یہاں لوکل شہری ٣٠ فیصد اور بقیہ ٧٠ فیصد غیر ملکی ہیں ـ غریبی میں پیدا ہوئے اس عرب ملک نے جو آج سنگا پور سے دو قدم آگے اور ہانگ کانگ سے چار قدم پیچھے کھڑا ہے، انگریزوں کے طفیل تیل کی دولت سے مالا مال، اسلامی شریعت کو اپنانے والے اس ملک میں نشہ آور شراب حرام ہے اور پسندیدہ مشروب بھی ـ