Archive for February 25th, 2005

اردو تماشہ

February 25, 2005

کبھی توجہ ہی نہیں دیا کہ کوئی میرے بلاگ کے پوسٹ میں تبصرے بھی لکھیں گے ـ ہفتہ بھر چند پوسٹیں لکھ کر کسی ایک دن اپنے بلاگ پر پوسٹ کردیتا ہوں، بس میرا اتنا ہی کام ہے اور کبھی وقت ملے تو اپنے بلاگ کی نوک پلک درست کرلیتا ہوں ـ غلطی سے اپنی ایک پرانی پوسٹ پر نظر پڑی جہاں پر مسٹر دانیال نے مجھے رائے دی کہ میں اپنے بلاگ میں نفیس نسخ استعمال کروں اور انہوں نے مجھے آگاہ بھی کیا کہ اردو نسخ ایشیا ٹائپ بی بی سی کا ذاتی فونٹ ہے ـ میری ایک اور پوسٹ کے تبصرے میں نبیل صاحب نے تو مجھے چونکا ہی دیا، جو جرمنی سے اردو بلاگ لکھتے ہیں ـ نبیل صاحب نے مجھے بہت ساری باتوں سے آگاہ کیا ـ اگر نبیل صاحب مجھے خبر نہ کرتے تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ چند لوگ انٹرنیٹ پر اردو زبان کیلئے خدمت کر رہے ہیں ـ نبیل صاحب کا شکریہ کہ وہ میرے بلاگ پر آئے اور مجھے بہت ساری معلومات پہنچائیں جس سے میں بے خبر تھا ـ

بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آج نیٹ پر چار نہیں پانچ نہیں درجن بھر اردو بلاگر موجود ہیں ـ سستی کہوں، کاہلی کہوں یا پھر وقت نہیں ملتا کہ دوسروں کے اردو بلاگ پر وزٹ کرسکوں ـ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے کمرے میں نیٹ کنیکشن نہیں ہے اور خود ہفتے میں ایک بار سائبر کیفے سے بلاگ کرتا ہوں ـ کبھی سوچا بھی نہیں کہ ایک دن نیٹ پر اتنے سارے اردو بلاگرس دیکھنے کو ملیں گے ـ مگر افسوس ہے کہ میرے علاوہ کسی دوسرے ہندوستانی نے ابھی تک اردو میں بلاگ لکھنا شروع نہیں کیا ـ

اردو تماشہ

February 25, 2005

کبھی توجہ ہی نہیں دیا کہ کوئی میرے بلاگ کے پوسٹ میں تبصرے بھی لکھیں گے ـ ہفتہ بھر چند پوسٹیں لکھ کر کسی ایک دن اپنے بلاگ پر پوسٹ کردیتا ہوں، بس میرا اتنا ہی کام ہے اور کبھی وقت ملے تو اپنے بلاگ کی نوک پلک درست کرلیتا ہوں ـ غلطی سے اپنی ایک پرانی پوسٹ پر نظر پڑی جہاں پر مسٹر دانیال نے مجھے رائے دی کہ میں اپنے بلاگ میں نفیس نسخ استعمال کروں اور انہوں نے مجھے آگاہ بھی کیا کہ اردو نسخ ایشیا ٹائپ بی بی سی کا ذاتی فونٹ ہے ـ میری ایک اور پوسٹ کے تبصرے میں نبیل صاحب نے تو مجھے چونکا ہی دیا، جو جرمنی سے اردو بلاگ لکھتے ہیں ـ نبیل صاحب نے مجھے بہت ساری باتوں سے آگاہ کیا ـ اگر نبیل صاحب مجھے خبر نہ کرتے تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ چند لوگ انٹرنیٹ پر اردو زبان کیلئے خدمت کر رہے ہیں ـ نبیل صاحب کا شکریہ کہ وہ میرے بلاگ پر آئے اور مجھے بہت ساری معلومات پہنچائیں جس سے میں بے خبر تھا ـ

بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آج نیٹ پر چار نہیں پانچ نہیں درجن بھر اردو بلاگر موجود ہیں ـ سستی کہوں، کاہلی کہوں یا پھر وقت نہیں ملتا کہ دوسروں کے اردو بلاگ پر وزٹ کرسکوں ـ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے کمرے میں نیٹ کنیکشن نہیں ہے اور خود ہفتے میں ایک بار سائبر کیفے سے بلاگ کرتا ہوں ـ کبھی سوچا بھی نہیں کہ ایک دن نیٹ پر اتنے سارے اردو بلاگرس دیکھنے کو ملیں گے ـ مگر افسوس ہے کہ میرے علاوہ کسی دوسرے ہندوستانی نے ابھی تک اردو میں بلاگ لکھنا شروع نہیں کیا ـ

پانچ انگلیاں

February 25, 2005

ہمارے ملک میں ایک نہیں دو نہیں کئی مذہب اور درجنوں فرقے ہیں اگر آپس میں دو فرقے لڑ پڑیں تو تیسرا فرقہ یا تو فائدہ اٹھائے گا یا پھر دونوں فرقوں میں بھائی چارگی بحال کرنے کی کوشش کرے گا ـ مگر وہاں عراق میں ایک ہی مذہب کے دو فرقے لڑ کر مرجائیں کوئی پوچھنے والا نہیں ـ

پورا کا پورا میڈیا جھوٹا نہیں ہوتا ـ ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ عراق میں ایک ہی مذہب کے دو گروہ آپس میں ایکدوسرے کیلئے خون کے پیاسے ہیں ـ عبادت گاہوں میں بم دھماکوں کا سلسلہ پاکستان سے اب عراق پہنچ گیا، لوگ عبادتوں میں مشغول پھر اچانک خون میں لت پت لاشیں ـ یہ کیسا ملک، کیسا ماحول، کس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہیں معلوم نہیں ـ

ملک کا حاکم ہی نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے ـ معمولی سی مثال یہاں امارات کا نظام ایسا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو اور ہوتا رہے مگر یہاں ایک ہی فلیٹ میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اور کسی کی مجال ہے جو یہاں آپس میں مذہبی اختلافات کا ذکر چھیڑے ـ

سب جانتے ہیں صرف دبئی ہی نہیں پورے امارات میں دنیا بھر کے تمام مذہبوں کو ماننے والے لاکھوں لوگ آباد ہیں اور یہاں پہچاننا مشکل ہے کہ کون ہندو اور کون مسلمان ہے ـ سب کی انگلیاں کاٹو تو ایک ہی رنگ کا خون بہتا ہے ـ امارات چونکہ ایسا ملک ہے یہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے پھر چلے جاتے ہیں، اپنے ملکوں میں مذہب پسندی اور یہاں آکر آپس میں بھائی چارگی ـ کیا یہ لوگ واپس اپنے ملکوں کو جاکر غیر مذہبی لوگوں کے ساتھ ملکر رہیں جیسا یہاں امارات میں سب ایک ساتھ ملکر رہتے ہیں ـ

چاکلیٹ

February 25, 2005

کیسی عادت ہے، بچپن سے لیکر آج بھی ہمیشہ چاکلیٹ چباتا رہتا ہوں ـ ساتھی منہ تیڑھا کرکے کہتے ہیں ابھی بھی بچوں کی طرح چاکلیٹ کھاتا رہتا ہے ـ پھر میں بھی چڑ کر جواب دیتا ہوں کہ چاکلیٹ صرف بچوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر ایک کیلئے ہے ـ

چاکلیٹ بڑے شوق سے کھاتا ہوں اور اب بھی میرے منہ میں سوئٹزرلینڈ کا چاکلیٹ ہے ـ مجھے فرانس، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے چاکلیٹس بہت پسند ہیں، ہیں تو مہنگے مگر مجھے مزیدار چیزیں کھانا پسند ہے ـ اگر میری تلاشی ہوئی تو قسمہا قسم کے چاکلیٹ نکلیں گے ـ بچپن میں سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلے منہ میں چاکلیٹ رکھ لیتا پھر امّی میرے منہ میں انگلی ڈال کر چاکلیٹ کھینچ لیتی اور کہتیں چل پہلے منہ دھولے ـ ـ ـ

پانچ انگلیاں

February 25, 2005

ہمارے ملک میں ایک نہیں دو نہیں کئی مذہب اور درجنوں فرقے ہیں اگر آپس میں دو فرقے لڑ پڑیں تو تیسرا فرقہ یا تو فائدہ اٹھائے گا یا پھر دونوں فرقوں میں بھائی چارگی بحال کرنے کی کوشش کرے گا ـ مگر وہاں عراق میں ایک ہی مذہب کے دو فرقے لڑ کر مرجائیں کوئی پوچھنے والا نہیں ـ

پورا کا پورا میڈیا جھوٹا نہیں ہوتا ـ ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ عراق میں ایک ہی مذہب کے دو گروہ آپس میں ایکدوسرے کیلئے خون کے پیاسے ہیں ـ عبادت گاہوں میں بم دھماکوں کا سلسلہ پاکستان سے اب عراق پہنچ گیا، لوگ عبادتوں میں مشغول پھر اچانک خون میں لت پت لاشیں ـ یہ کیسا ملک، کیسا ماحول، کس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہیں معلوم نہیں ـ

ملک کا حاکم ہی نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے ـ معمولی سی مثال یہاں امارات کا نظام ایسا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو اور ہوتا رہے مگر یہاں ایک ہی فلیٹ میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اور کسی کی مجال ہے جو یہاں آپس میں مذہبی اختلافات کا ذکر چھیڑے ـ

سب جانتے ہیں صرف دبئی ہی نہیں پورے امارات میں دنیا بھر کے تمام مذہبوں کو ماننے والے لاکھوں لوگ آباد ہیں اور یہاں پہچاننا مشکل ہے کہ کون ہندو اور کون مسلمان ہے ـ سب کی انگلیاں کاٹو تو ایک ہی رنگ کا خون بہتا ہے ـ امارات چونکہ ایسا ملک ہے یہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے پھر چلے جاتے ہیں، اپنے ملکوں میں مذہب پسندی اور یہاں آکر آپس میں بھائی چارگی ـ کیا یہ لوگ واپس اپنے ملکوں کو جاکر غیر مذہبی لوگوں کے ساتھ ملکر رہیں جیسا یہاں امارات میں سب ایک ساتھ ملکر رہتے ہیں ـ