اکسپورٹنگ انپیج اردو ٹیکسٹ
March 18, 2005










متحرک الفاظ

























دفتر میں ذاتی مفادات کی تمام ویب سائٹوں کو بلاک کردیا گیا ہے ـ بہت سارے الفاظ جو کمپنی کے لوکل نیٹورک میں مقفوع ہیں:
اردو، ہندی، ای میل، چیٹنگ، ڈیٹنگ، سیکس، گرلز، نوکری، میوزک، ڈاؤن لوڈ، ویڈیو، گیمز، انڈیا، پاکستان، فٹ بال، کرکٹ، ہالی ووڈ، بالی ووڈ، مووی اور یہاں تک کہ لفظ نیوز بھی ـ
خیر کوئی بات نہیں، ہفتے میں دو بار سائبر کیفے جانا پڑتا ہے جو اپنے فلیٹ سے بالکل قریب ہی ہے ـ اور اس نیٹ کیفے کا مالک عربی ہے، عربیوں کا دماغ بھی بالکل صدام حسین جیسا ہے، سائبر کیفے میں موجود کمپیوٹرس سے فلاپی ڈرائیو نکال دیا کہ وائرس اٹیک ہوجائے گا ـ شکر ہے کہ عربی کو کم از کم وائرس اٹیک ہوجانے کی خبر تو ہے ـ
اکثر سائبر سنٹرس میں فلاپی ڈرائیو نہیں ہوتے ـ اپنے ای میلز چیک کرنے اور یاھو پر کام و کاج کی فائلیں اپلوڈ کرنے میں ایک دو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں ـ اب اردو بلاگرس کو پڑھنے کیلئے اردو کے فونٹس ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے سائبر کیفے والوں سے پرمیشن لینی پڑتی ہے کیونکہ انسٹالیشن کیلئے ایڈمنسٹریشن پاسورڈ رکھ دیا گیا ہے ـ
حالت کچھ یوں ہے کہ اپنے کمرے میں نیٹ کنیکشن لگوا نہیں سکتا کیونکہ آج کا دن دبئی میں تو کل کی رات شارجہ میں بسر ہوتی ہے ـ پریزنٹیشن کیلئے ادھر ادھر آنا جانا پڑتا ہے ـ امارات جیسا بھی ملک ہو مگر یہاں کے ورکرس کو بہت ہی مصروف کرکے رکھ دیا ہے ـ نیٹ کیفے جانے کے بعد اپنی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہی بہت سارا وقت گذر جاتا ہے اور اسی کے ساتھ چند اردو بلاگرس کو بھی تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہوں ـ
دفتر میں ذاتی مفادات کی تمام ویب سائٹوں کو بلاک کردیا گیا ہے ـ بہت سارے الفاظ جو کمپنی کے لوکل نیٹورک میں مقفوع ہیں:
اردو، ہندی، ای میل، چیٹنگ، ڈیٹنگ، سیکس، گرلز، نوکری، میوزک، ڈاؤن لوڈ، ویڈیو، گیمز، انڈیا، پاکستان، فٹ بال، کرکٹ، ہالی ووڈ، بالی ووڈ، مووی اور یہاں تک کہ لفظ نیوز بھی ـ
خیر کوئی بات نہیں، ہفتے میں دو بار سائبر کیفے جانا پڑتا ہے جو اپنے فلیٹ سے بالکل قریب ہی ہے ـ اور اس نیٹ کیفے کا مالک عربی ہے، عربیوں کا دماغ بھی بالکل صدام حسین جیسا ہے، سائبر کیفے میں موجود کمپیوٹرس سے فلاپی ڈرائیو نکال دیا کہ وائرس اٹیک ہوجائے گا ـ شکر ہے کہ عربی کو کم از کم وائرس اٹیک ہوجانے کی خبر تو ہے ـ
اکثر سائبر سنٹرس میں فلاپی ڈرائیو نہیں ہوتے ـ اپنے ای میلز چیک کرنے اور یاھو پر کام و کاج کی فائلیں اپلوڈ کرنے میں ایک دو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں ـ اب اردو بلاگرس کو پڑھنے کیلئے اردو کے فونٹس ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے سائبر کیفے والوں سے پرمیشن لینی پڑتی ہے کیونکہ انسٹالیشن کیلئے ایڈمنسٹریشن پاسورڈ رکھ دیا گیا ہے ـ
حالت کچھ یوں ہے کہ اپنے کمرے میں نیٹ کنیکشن لگوا نہیں سکتا کیونکہ آج کا دن دبئی میں تو کل کی رات شارجہ میں بسر ہوتی ہے ـ پریزنٹیشن کیلئے ادھر ادھر آنا جانا پڑتا ہے ـ امارات جیسا بھی ملک ہو مگر یہاں کے ورکرس کو بہت ہی مصروف کرکے رکھ دیا ہے ـ نیٹ کیفے جانے کے بعد اپنی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہی بہت سارا وقت گذر جاتا ہے اور اسی کے ساتھ چند اردو بلاگرس کو بھی تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہوں ـ
اردو زبان سے محبت اور اسکی ترویج کیلئے نبیل بھائی کا توجہ دلانا بہت پسند آیا ـ شروع کے تین پوسٹ انہی کی فرمائش پر ہیں ـ
ــــ اردو الفاظوں کے درمیان انگریزی الفاظ کو پڑھنے کیلئے صفحے کو بائیں سے دائیں کرلینا ٹھیک ہے ــــ
انپیج اردو سافٹویئر کے تمام نسخ بذریعہ کورل ڈرا ورژن ٩، ١٠، ١١، ١٢ کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں گل کھلا سکتے ہیں ـ اب تک تو شاید ہر کسی کو معلوم ہو، مگر یہ ذاتی تجربہ پانچ سال پرانا ہے ـ
انپیج اردو سافٹویئر کی فائل میں، جیسا کہ لکھنے کیلئے ٹیکسٹ باکس ضروری ہے، کسی بھی اردو نسخ میں اپنا نام لکھنے کے بعد ٹیکسٹ باکس کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کورل ڈرا کے کسی بھی نئے ورژن میں لانے کے بعد Arange کی قسم میں جاکر Brake Apart کا حکم دیں تو پیسٹ کیا ہوا اردو نسخ یعنی اپنا نام الفاظ میں تبدیل ہوجائے گا ـ اپنے نام کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں چاہے وہ ڈیٹا بیس ہو یا گرافک، لیجایا جاسکتا ہے ـ
سب سے پہلے انپیج اردو کا پروگرام کھلا ہو پھر بعد میں دوسرے پروگرامز کھولیں تو انپیج اردو سافٹویئر کے تمام اردو نسخ فونٹ ہر کسی پروگرام کے فونٹ مینو میں نظر آئیں گے ـ کورل ڈرا سے لائے گئے اردو نام کو مختلف سافٹویئرس میں پیسٹ کرنے کے بعد فونٹ مینو سے نظر آنے والے انپیج اردو کے کسی بھی نسخ فونٹ کو ایپلائی کریں تو تجربہ سامنے نظر آتا ہے ـ
اسی تجربے سے انپیج اردو کے تمام نسخ فونٹس کو ایچ ٹی ایم ایل میں بھی لکھا جاسکتا ہے، مشکل یہ ہے کہ براؤس کرنے والے کے سسٹم میں انپیج اردو کا پروگرام ہو اور جو پہلے سے کھلا رہے ـ یہ تجربہ دفتر میں ہی آزما کر دیکھ لیا، مختلف کمپیوٹروں سے براؤس کرنے کے بعد جس میں انپیج کا پروگرام انسٹال تھا مگر باہر سائبر سنٹرس سے ایسا تجربہ کبھی نہیں کیا ـسائڈ بار میں نیچے چند اردو کے گِف پکچر ہیں جو اسی تجربے سے بنایا ہے جو کہ چار سال پرانے ہیں جس میں تین نئے گِف بھی ہیں