Archive for April, 2005

منفرد بلاگ

April 28, 2005

پچھلے دس سالوں سے گرافک کے میدان میں سانس لے رہا ہوں اور یہ دس سال ایسا لگ رہا ہے جیسے پیدائشی گرافک ڈیزائنر ہوں ـ اسکول اور کالج میں ساتھ پڑھنے والے دوست آج پروگرامر، انجینئر اور باقی آئی ٹی کے میدان میں گھس کر خوب گل کھلا رہے ہیں جبکہ میں نے گرافک اور ملٹی میڈیا کو اپنالیا ـ عرصہ دراز سے بلاگ سے واقف تھا ہی مگر میرے لئے ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ اسوقت بلاگنگ کیلئے ذاتی ویب سائٹ کا ہونا ضروری تھا مگر اب تو بلاگ بنانا مفت اور آسان ہوچکا ہے ـ فی الحال خیال آیا بلاگر پر اپنے بلاگ کیلئے ٹمپلیٹ بنایا جائے، بلاگر پر ٹمپلیٹ میرے لئے مشکل کام تھا مگر تجربہ کامیاب رہا ـ پروگرامنگ کیلئے شروع سے چڑ ہے اور HTML سر درد جیسا ہے ـ

اردو بلاگ شروع کرنے کا شوق اسلئے آیا کہ اب اردو کو یونیکوڈ کے ذریعہ انٹرنیٹ پر لکھا جاسکتا ہے ـ شروع میں بلاگنگ کا مقصد کچھ نہیں تھا مگر اب مقصد صرف یہی ہے کہ یہ بلاگ میری آن لائن ڈائری ہے اسکے ساتھ اپنی سوچ اور خیالات کو لکھ کر محفوظ رکھ سکوں ـ اردو میں بلاگ اسلئے بھی کہ میرے تمام قریبی دوستوں اور جان پہچان والوں کو اردو پڑھنا نہیں آتا ورنہ وہ میری تحریریں پڑھ کر مجھے غلط سمجھیں گے حالاں کہ میرے بلاگ پر سے اردو دانوں کا گذر ہوتا ہے پھر بھی مطمئن ہوں کیونکہ اس بلاگ پر اکثر تحریریں ایسی ہیں جیسے میں خود سے باتیں کر رہا ہوں یا پھر اپنے بلاگ سے مخاطب ہوں ـ میری تحریروں میں اکثر روز مرّہ اور ذاتی خیالات ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اردو بلاگس کی تحریریں معیاری اور معلومات سے بھرپور ہوتی ہیں اسلئے میرا بلاگ تمام دوسرے اردو بلاگس میں منفرد بلاگ ہے ـ

منفرد بلاگ

April 28, 2005

پچھلے دس سالوں سے گرافک کے میدان میں سانس لے رہا ہوں اور یہ دس سال ایسا لگ رہا ہے جیسے پیدائشی گرافک ڈیزائنر ہوں ـ اسکول اور کالج میں ساتھ پڑھنے والے دوست آج پروگرامر، انجینئر اور باقی آئی ٹی کے میدان میں گھس کر خوب گل کھلا رہے ہیں جبکہ میں نے گرافک اور ملٹی میڈیا کو اپنالیا ـ عرصہ دراز سے بلاگ سے واقف تھا ہی مگر میرے لئے ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ اسوقت بلاگنگ کیلئے ذاتی ویب سائٹ کا ہونا ضروری تھا مگر اب تو بلاگ بنانا مفت اور آسان ہوچکا ہے ـ فی الحال خیال آیا بلاگر پر اپنے بلاگ کیلئے ٹمپلیٹ بنایا جائے، بلاگر پر ٹمپلیٹ میرے لئے مشکل کام تھا مگر تجربہ کامیاب رہا ـ پروگرامنگ کیلئے شروع سے چڑ ہے اور HTML سر درد جیسا ہے ـ

اردو بلاگ شروع کرنے کا شوق اسلئے آیا کہ اب اردو کو یونیکوڈ کے ذریعہ انٹرنیٹ پر لکھا جاسکتا ہے ـ شروع میں بلاگنگ کا مقصد کچھ نہیں تھا مگر اب مقصد صرف یہی ہے کہ یہ بلاگ میری آن لائن ڈائری ہے اسکے ساتھ اپنی سوچ اور خیالات کو لکھ کر محفوظ رکھ سکوں ـ اردو میں بلاگ اسلئے بھی کہ میرے تمام قریبی دوستوں اور جان پہچان والوں کو اردو پڑھنا نہیں آتا ورنہ وہ میری تحریریں پڑھ کر مجھے غلط سمجھیں گے حالاں کہ میرے بلاگ پر سے اردو دانوں کا گذر ہوتا ہے پھر بھی مطمئن ہوں کیونکہ اس بلاگ پر اکثر تحریریں ایسی ہیں جیسے میں خود سے باتیں کر رہا ہوں یا پھر اپنے بلاگ سے مخاطب ہوں ـ میری تحریروں میں اکثر روز مرّہ اور ذاتی خیالات ہوتے ہیں جبکہ دوسرے اردو بلاگس کی تحریریں معیاری اور معلومات سے بھرپور ہوتی ہیں اسلئے میرا بلاگ تمام دوسرے اردو بلاگس میں منفرد بلاگ ہے ـ

لکّی نمبر

April 18, 2005

پچھلے ہفتے ایک نئے برانڈ ’’ورری‘‘ جو فرانس کا ہے، ہماری کمپنی نے بڑے پیمانے پر فیشن شو منعقد کیا ـ دفتر میں ہی سارا کام ختم کرکے فیشن شو کے دو داخلہ پاس لئے اور دوست کو لیکر Corel Beach Resort (فائیو اسٹار ہوٹل) پہنچا ـ داخلہ پاس کے ساتھ Lucky ڈرا کوپن بھی شامل تھے، نام لکھ کر کوپن جمع کروا دیا ـ کمپنی مالکان کی نظروں سے دور رہے تاکہ قریب بلاکر کسی کام پر نہ لگوادیں، پیچھے دوستوں کے درمیان جاکر بیٹھ گئے ـ فیشن شو زبردست رہا، ہمارے مارکیٹنگ منیجرس بھی پتہ نہیں کہاں کہاں سے چھانٹ کر ماڈلز پکڑ لاتے ہیں ـ

لکّی ڈرا کا اعلان ہوا، خوش نصیب کا نام سننے سینکڑوں کان کھڑے ہوگئے ـ گرررر ـ ناچیز کا نام نکل آیا ـ ـ انگلیاں خود بخود دانتوں میں پس گئیں، جی چاہا بھاگ نکلیں ـ اسٹیج کے برابر کمپنی کے مالکان براجمان تھے اور یہ فیشن شو امیر ترین اور اونچی سوسائٹی والوں کیلئے تھا ہم تو اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والے لوگ ہیں ـ انتظامات دوسری کمپنیوں نے کئے تھے اسلئے داخلہ پاس ضروری تھا ـ لکّی ڈرا کوپن تو ایک فیصد بھی خیال نہ رہا کہ بدنصیب کا ہی نام نکل آئے گا ـ ایک شریر نے کھینچتے ہوئے اسٹیج پر لا چھوڑا ـ بہت سارے Gifts کیساتھ مبارکبادیاں وصول ہوئیں پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ـ کمپنی کے ساتھی دور کھڑے پھٹی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ہمارے مالکان نوکیلے دانت دکھا رہے تھے ـ جناب کے طوطے اڑگئے اور پیر بھی ڈگمانے لگے ـ

لکّی نمبر

April 18, 2005

پچھلے ہفتے ایک نئے برانڈ ’’ورری‘‘ جو فرانس کا ہے، ہماری کمپنی نے بڑے پیمانے پر فیشن شو منعقد کیا ـ دفتر میں ہی سارا کام ختم کرکے فیشن شو کے دو داخلہ پاس لئے اور دوست کو لیکر Corel Beach Resort (فائیو اسٹار ہوٹل) پہنچا ـ داخلہ پاس کے ساتھ Lucky ڈرا کوپن بھی شامل تھے، نام لکھ کر کوپن جمع کروا دیا ـ کمپنی مالکان کی نظروں سے دور رہے تاکہ قریب بلاکر کسی کام پر نہ لگوادیں، پیچھے دوستوں کے درمیان جاکر بیٹھ گئے ـ فیشن شو زبردست رہا، ہمارے مارکیٹنگ منیجرس بھی پتہ نہیں کہاں کہاں سے چھانٹ کر ماڈلز پکڑ لاتے ہیں ـ

لکّی ڈرا کا اعلان ہوا، خوش نصیب کا نام سننے سینکڑوں کان کھڑے ہوگئے ـ گرررر ـ ناچیز کا نام نکل آیا ـ ـ انگلیاں خود بخود دانتوں میں پس گئیں، جی چاہا بھاگ نکلیں ـ اسٹیج کے برابر کمپنی کے مالکان براجمان تھے اور یہ فیشن شو امیر ترین اور اونچی سوسائٹی والوں کیلئے تھا ہم تو اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والے لوگ ہیں ـ انتظامات دوسری کمپنیوں نے کئے تھے اسلئے داخلہ پاس ضروری تھا ـ لکّی ڈرا کوپن تو ایک فیصد بھی خیال نہ رہا کہ بدنصیب کا ہی نام نکل آئے گا ـ ایک شریر نے کھینچتے ہوئے اسٹیج پر لا چھوڑا ـ بہت سارے Gifts کیساتھ مبارکبادیاں وصول ہوئیں پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ـ کمپنی کے ساتھی دور کھڑے پھٹی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ہمارے مالکان نوکیلے دانت دکھا رہے تھے ـ جناب کے طوطے اڑگئے اور پیر بھی ڈگمانے لگے ـ

Apple

April 18, 2005

پرنٹ انڈسٹری میں اکثر ایپل میکنٹوش کا رواج ہے لیکن چھوٹی انڈسٹریاں Mac سسٹم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں مگر کیا بات ہے ہماری ملٹی نیشنل کمپنی جس کے تقریبا ایک سو سے زیادہ شورومس پورے مڈل ایسٹ میں پھیلے ہوئے ہیں اور تقریبا پانچ لاکھ درھم روزانہ آمدنی ہوتی ہے ـ جب اپنے مالک سے ایپل میکنٹوش کی فرمائش کیا تو آئی ٹی منیجر سے کوٹیشن دریافت ہوا اور جب قیمت کا پتہ چلا تو مالک چکرا گیا ـ مجھ سے پوچھا: کیا PC میں جو کام ہوتا ہے وہ کافی نہیں ہے ـ میں نے بہتر سمجھانے کی کوشش کی کہ جسطرح دفتر میں لنگی پہن کر آنا اچھی بات نہیں حالاں کہ لنگی پہن کر کام کیا جاسکتا ہے ـ اسی طرح گرافک کے سارے کام میکنٹوش پر ہی اچھے لگتے ہیں اور یہ سسٹم گرافک کیلئے بطور خاص ہے ـ مالک عربی، سارے ڈیپارٹمنٹس کے چیف عربی یہاں تک کہ آئی ٹی منیجر بھی عربی اور عربیوں کی عقل موٹی ہوتی ہے ـ انڈیا میں گرافک کیلئے زیادہ تر ایپل میکنٹوش کا رواج ہے ـ