Archive for April 1st, 2005

امام صاحبہ

April 1, 2005

خاتون کی امامت کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی حالاں کہ کئی مہذّب لوگوں کو دھچکا پہنچا ساتھ ہی اخبارات کو بھی ایک نیا موضوع مل گیا ـ عورت کی امامت کونسے تعجب کی بات ہے ـ عورت، جسے دنیا کا ہر معاشرہ عزت کرتا ہے ’’لیڈس فرسٹ‘‘ عورت پائلٹ ہے، سیاستدان ہے اور ملک کی حکمران بھی ـ عورت نے معاشرے میں ہر جگہ اپنا مقام بنالیا اور اب امامت کا مقام بھی پالیا ـ

تبصرہ

خدا نہ کرے کسی کی محبوبہ امام صاحبہ ہو اور محبوب مؤذن ـ عبادت گذار وقت سے پہلے عبادتگاہ پہنچ جائیں گے، پھر مستورات کیلئے پردے کے انتظام کو غیر ضروری قرار دیا جائے گا، برابری چاہنے والی عورتیں جلوسِ جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے کندھا بھی دیں گی ـ عورتیں نکاح پڑھائیں گی، خوبصورت معلّمہ سے نکاح پڑھوانا نیک شگون سمجھا جائیگا ـ پھر علما اور معلّمائیں رائے مشورے کیلئے آپس میں جڑ کر بیٹھیں گے، نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کوئی عبادت کا شوق لائیں گے ـ پھر بالآخر خوشیوں کے دن ایکدوسرے سے ملکر کر شکوے دور کریں گے، کسی کے بیچ پردہ نہ ہوگا ـ اسی بہانے مختلف فرقے آپس میں سب ایک ہوجائیں گے ـ کاش ایسا ہو ـ

امام صاحبہ

April 1, 2005

خاتون کی امامت کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی حالاں کہ کئی مہذّب لوگوں کو دھچکا پہنچا ساتھ ہی اخبارات کو بھی ایک نیا موضوع مل گیا ـ عورت کی امامت کونسے تعجب کی بات ہے ـ عورت، جسے دنیا کا ہر معاشرہ عزت کرتا ہے ’’لیڈس فرسٹ‘‘ عورت پائلٹ ہے، سیاستدان ہے اور ملک کی حکمران بھی ـ عورت نے معاشرے میں ہر جگہ اپنا مقام بنالیا اور اب امامت کا مقام بھی پالیا ـ

تبصرہ

خدا نہ کرے کسی کی محبوبہ امام صاحبہ ہو اور محبوب مؤذن ـ عبادت گذار وقت سے پہلے عبادتگاہ پہنچ جائیں گے، پھر مستورات کیلئے پردے کے انتظام کو غیر ضروری قرار دیا جائے گا، برابری چاہنے والی عورتیں جلوسِ جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے کندھا بھی دیں گی ـ عورتیں نکاح پڑھائیں گی، خوبصورت معلّمہ سے نکاح پڑھوانا نیک شگون سمجھا جائیگا ـ پھر علما اور معلّمائیں رائے مشورے کیلئے آپس میں جڑ کر بیٹھیں گے، نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کوئی عبادت کا شوق لائیں گے ـ پھر بالآخر خوشیوں کے دن ایکدوسرے سے ملکر کر شکوے دور کریں گے، کسی کے بیچ پردہ نہ ہوگا ـ اسی بہانے مختلف فرقے آپس میں سب ایک ہوجائیں گے ـ کاش ایسا ہو ـ

مختلف انداز

April 1, 2005

image by shuaib

مختلف انداز

April 1, 2005

image by shuaib

موٹو

April 1, 2005

Shuaib motoپرانے فلیٹ میں اکثر سوچتا رہتا، کاش یہاں پارک ہوتا تاکہ روز شام کو ورزش کے ذریعہ موٹاپا کم کرلیا جائے ـ اب یہاں نئے فلیٹ میں شفٹ ہوئے پانچ ماہ سے زیادہ ہوگیا اور بلڈنگ کے سامنے ہی صرف دس قدم پر ایک خوبصورت پارک بھی ہے ـ جوش میں آکر اسپورٹس ویئر بھی خرید لایا تاکہ روز شام کو دوڑ لگاؤں اور دوست احباب ’’شعیب موٹو‘‘ کے بجائے صرف شعیب پکاریں ـ سستی اور کاہلی کی وجہ سے ابھی تک ورزشیں شروع نہیں ہوئیں ـ پچھلے مہینے سے روزانہ رات کو لبنانی پتزا پر گذارا ہو رہا ہے، اس علاقے میں کھانے کیلئے ایسی ہی (چیز) بھری غذائیں ملتی ہیں ـ اب تو آفس میں شعیب کو کوئی نہیں جانتا، موٹو کے نام سے سب پہچانتے ہیں ـ