Archive for April 5th, 2005

اردو کانفرنس ـ اسلام آباد

April 5, 2005

کالم نویس ـ زبیر رضوی

’’گذشتہ ماہ عالمی اردو کانفرنس میں
’ہندوستان میں اردو‘ کے حالات پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں اس کالم نویس کو مدعو کیا
گیا تھا، زیر نظر مضمون ایک طرح سے وہاں کی رواداد ہے
‘‘

پا
کستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ٩ مارچ سے ٣١ مارچ تک پانچ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے مختلف اجلاسوں اور مباحثوں میں جو راگ بڑی حاوی رہی وہ یہ تھی کہ پاکستان میں اردو بھلے ہی رابطے کی زبان ہے مگر اتنے برس گزرنے کے بعد بھی اسے سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جاسکا ـ آج مرکزی سرکار کا تمام کام کاج انگریزی میں ہوتا ہے اور انگریزی کو پاکستانی معاشرے میں پہلے سے بہت زیادہ فروغ حاصل ہو رہا ہے ـ انگریزی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک کھلی ہوئی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ہندوستان کے ٹی وی چینلوں کی مقبولیت اور ان میں استعمال ہونے والی ملی جلی ہندی، انگریزی زبان اور لہجے نے پاکستان کی نئی نسل کا لہجہ اور کلچر ہی بدل دیا ہے ـ اس سلسلہ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ مغربی طرز کے جس کلچر نے ہندوستانی نسل کو متاثر کیا اب وہی کلچر بھارتیہ فیوژن کے ساتھ پاکستانی نسل کو ’’رول ماڈل‘‘ کے طور پر متاثر کر رہا ہے ـ بظاہر اس کانفرنس کی میزبانی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد تھی اسے اردو روز نامہ جنگ اور اس کے ٹی وی چینل ’’جیو‘‘ کی میڈیا تعاون بھی حاصل تھا ـ اس تعاون کے باعث کانفرنس کے اجلاسوں میں تو کم مگر اس کے ثقافتی پروگراموں میں عوام کی شرکت امڈ پڑنے والی تھی ـ یہ پہلی اردو کانفرنس تھی جس میں اردو کے حوالے سے فنون لطیفہ اور مختلف ثقافتی پہلوؤں کو بڑی خوبی سے مربوط کیا گیا تھا مثلا اردو دسترخوان، اردو فیشن شو، اور اردو سنگیت اور تھیٹر، اردو کلاسک سے اقتباسات کی ڈرامائی پیشکش، غالب، اقبال اور فیض تین عہد ساز شاعر پورے ایک دن کے اجلاس کا موضوع تھا، جس میں آفتاب احمد، ڈاکٹر جاوید اقبال اور لدمیلا واسیلووا نے اپنے مقالے پڑھے اور بعد میں ان کے کلام کی کئی انداز سے پیشکش کی گئی ـ اس کانفرنس کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ اس میں ہمارے ملک کی کانفرنسوں کے برخلاف ادیبوں کی تعداد زیادہ تھی سیاسی اور اردو کے فروغ کے دوسرے دعویداروں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی ـ

اسلام آباد، اس شہر کو ادبی اور ثقافتی پہچان دینے کی کوشش تو کی مگر لاہور اور کراچی والے اردو کے خزانے کو اسلام آباد منتقل کرنے کے لئے ابھی آمادہ نہ تھے ـ دلیل یہ تھی کہ اسلام آباد اردو لکچر سے کہیں زیادہ مغربی طرز کے نوکر شاہی لکچر کا نمائندہ ہے بھلے ہی یہ شہر جنوبی ایشیاء کی منصوبہ بند تعمیرات کے فن سے مالا مال تو ہے اور وہاں ضیا جالندھری، احمد فراز منشا یا رشید امجد، خالد حسن افتخار عارف، مظہر الاسلام جیسے شاعر، افسانہ نگار آباد ہیں مگر اردو اپنے تمام تر حسن و جمال اور نئی رعنائیوں کے ساتھ لاہور اور کراچی ہی میں پھل پھول رہی ہے ـ بزرگ شاعر احمد ندیم قاسمی کا ہفتہ وار کالم کانفرنس کے دوران سرفہرست تھا کیونکہ قاسمی صاحب کو کانفرنس کا اختتام کرنا تھا ـ پہلے دن ان کے بجائے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا طنز و مزاح سے بھر پور خطبہ استقبالیہ تھا جس میں پاکستانی سیاست، معاشرے اور نوکر شاہی کے کئی پہلوؤں کو ہدف بنایا گیا تھا ـ یوسفی داد سے بے نیاز اپنے مخصوص انداز میں اپنی تحریر پڑھتے جاتے اور پھر تالیاں بجانے کا موقع دینے کے لئے رک بھی جاتے تھے ـ

ہماری مراد اس وقت برآئی جب ہمیں یہ خبر سنائی گئی کہ صدر پرویز مشرف نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مندوبین سے ایوان صدر میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ـ کوئی دو گھنٹے کے انتظار کے بعد صدر سے ہاتھ ملاکر اپنی جگہ بیٹھے تو پھر وہ ستر منٹ تک باتیں کرتے رہے ـ صدر مشرف نے کہا کہ اردو کو پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ ملنا چاہئے، دونوں ملکوں کے درمیان ادب، کتاب اور افکار و خیال کا آزادانہ تبادلہ ہونا چاہئے، طالب علموں اور ریسرچ اسکالرس کو ایک دوسرے کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی سہولت ملنی چاہئے ـ صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی پر کچھ اس انداز سے اپنی بات کہی کہ لگا اس بار وہ ہر رکاوٹ کو دور کرنے پر تلے ہیں ـ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ٹکراؤ اور تصادم بہت ہوچکا اب ہمیں کبھی کرکٹ اور کبھی اردو کانفرنس اور کبھی دوسرے عوامی رشتوں کے حوالے سے قریب آنا ہے ـ انہوں نے ڈیوڈ میتھوز، کرسٹینا جیسے غیر اردو معاشرے سے تعلق رکھنے والے اردو استادوں کو اپنی حکومت اور پاکستانی اردو اداروں سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ـ

کانفرنس کے دوران اس اعتراف کی گونج کئی بار سنائی دی کہ تقسیم ملک سے جہاں ہزاروں خاندان اجڑ گئے اور انہیں تہذیبی اور معاشرتی سطح پر بہت کچھ کھونا پڑا اردو پر بھی برا وقت آیا اور اسے کئی برسوں تک منقسم ہندوستان میں اپنی کھوئی ہوئی پہچان اور لسانی شہریت کو منوانے کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑی لیکن پاکستانی باشندوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو کانا پھوسی کے انداز میں پوچھتے تھے کہ کیا واقعی اردو بھارت میں ختم ہوگئی؟ اردو کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی شرکت، ان کے مضامین اور گفتگو نے بڑی حد تک ہندوستان میں اردو کے خاتمے کے تاثر کو

جھٹلایا ـ

شکریہ روزنامہ انقلاب ممبئی ـ کالم نویس زبیر رضوی

اردو کانفرنس ـ اسلام آباد

April 5, 2005

کالم نویس ـ زبیر رضوی

’’گذشتہ ماہ عالمی اردو کانفرنس میں
’ہندوستان میں اردو‘ کے حالات پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں اس کالم نویس کو مدعو کیا
گیا تھا، زیر نظر مضمون ایک طرح سے وہاں کی رواداد ہے
‘‘

پا
کستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ٩ مارچ سے ٣١ مارچ تک پانچ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے مختلف اجلاسوں اور مباحثوں میں جو راگ بڑی حاوی رہی وہ یہ تھی کہ پاکستان میں اردو بھلے ہی رابطے کی زبان ہے مگر اتنے برس گزرنے کے بعد بھی اسے سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جاسکا ـ آج مرکزی سرکار کا تمام کام کاج انگریزی میں ہوتا ہے اور انگریزی کو پاکستانی معاشرے میں پہلے سے بہت زیادہ فروغ حاصل ہو رہا ہے ـ انگریزی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک کھلی ہوئی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ہندوستان کے ٹی وی چینلوں کی مقبولیت اور ان میں استعمال ہونے والی ملی جلی ہندی، انگریزی زبان اور لہجے نے پاکستان کی نئی نسل کا لہجہ اور کلچر ہی بدل دیا ہے ـ اس سلسلہ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ مغربی طرز کے جس کلچر نے ہندوستانی نسل کو متاثر کیا اب وہی کلچر بھارتیہ فیوژن کے ساتھ پاکستانی نسل کو ’’رول ماڈل‘‘ کے طور پر متاثر کر رہا ہے ـ بظاہر اس کانفرنس کی میزبانی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد تھی اسے اردو روز نامہ جنگ اور اس کے ٹی وی چینل ’’جیو‘‘ کی میڈیا تعاون بھی حاصل تھا ـ اس تعاون کے باعث کانفرنس کے اجلاسوں میں تو کم مگر اس کے ثقافتی پروگراموں میں عوام کی شرکت امڈ پڑنے والی تھی ـ یہ پہلی اردو کانفرنس تھی جس میں اردو کے حوالے سے فنون لطیفہ اور مختلف ثقافتی پہلوؤں کو بڑی خوبی سے مربوط کیا گیا تھا مثلا اردو دسترخوان، اردو فیشن شو، اور اردو سنگیت اور تھیٹر، اردو کلاسک سے اقتباسات کی ڈرامائی پیشکش، غالب، اقبال اور فیض تین عہد ساز شاعر پورے ایک دن کے اجلاس کا موضوع تھا، جس میں آفتاب احمد، ڈاکٹر جاوید اقبال اور لدمیلا واسیلووا نے اپنے مقالے پڑھے اور بعد میں ان کے کلام کی کئی انداز سے پیشکش کی گئی ـ اس کانفرنس کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ اس میں ہمارے ملک کی کانفرنسوں کے برخلاف ادیبوں کی تعداد زیادہ تھی سیاسی اور اردو کے فروغ کے دوسرے دعویداروں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی ـ

اسلام آباد، اس شہر کو ادبی اور ثقافتی پہچان دینے کی کوشش تو کی مگر لاہور اور کراچی والے اردو کے خزانے کو اسلام آباد منتقل کرنے کے لئے ابھی آمادہ نہ تھے ـ دلیل یہ تھی کہ اسلام آباد اردو لکچر سے کہیں زیادہ مغربی طرز کے نوکر شاہی لکچر کا نمائندہ ہے بھلے ہی یہ شہر جنوبی ایشیاء کی منصوبہ بند تعمیرات کے فن سے مالا مال تو ہے اور وہاں ضیا جالندھری، احمد فراز منشا یا رشید امجد، خالد حسن افتخار عارف، مظہر الاسلام جیسے شاعر، افسانہ نگار آباد ہیں مگر اردو اپنے تمام تر حسن و جمال اور نئی رعنائیوں کے ساتھ لاہور اور کراچی ہی میں پھل پھول رہی ہے ـ بزرگ شاعر احمد ندیم قاسمی کا ہفتہ وار کالم کانفرنس کے دوران سرفہرست تھا کیونکہ قاسمی صاحب کو کانفرنس کا اختتام کرنا تھا ـ پہلے دن ان کے بجائے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا طنز و مزاح سے بھر پور خطبہ استقبالیہ تھا جس میں پاکستانی سیاست، معاشرے اور نوکر شاہی کے کئی پہلوؤں کو ہدف بنایا گیا تھا ـ یوسفی داد سے بے نیاز اپنے مخصوص انداز میں اپنی تحریر پڑھتے جاتے اور پھر تالیاں بجانے کا موقع دینے کے لئے رک بھی جاتے تھے ـ

ہماری مراد اس وقت برآئی جب ہمیں یہ خبر سنائی گئی کہ صدر پرویز مشرف نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مندوبین سے ایوان صدر میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ـ کوئی دو گھنٹے کے انتظار کے بعد صدر سے ہاتھ ملاکر اپنی جگہ بیٹھے تو پھر وہ ستر منٹ تک باتیں کرتے رہے ـ صدر مشرف نے کہا کہ اردو کو پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ ملنا چاہئے، دونوں ملکوں کے درمیان ادب، کتاب اور افکار و خیال کا آزادانہ تبادلہ ہونا چاہئے، طالب علموں اور ریسرچ اسکالرس کو ایک دوسرے کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی سہولت ملنی چاہئے ـ صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی پر کچھ اس انداز سے اپنی بات کہی کہ لگا اس بار وہ ہر رکاوٹ کو دور کرنے پر تلے ہیں ـ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ٹکراؤ اور تصادم بہت ہوچکا اب ہمیں کبھی کرکٹ اور کبھی اردو کانفرنس اور کبھی دوسرے عوامی رشتوں کے حوالے سے قریب آنا ہے ـ انہوں نے ڈیوڈ میتھوز، کرسٹینا جیسے غیر اردو معاشرے سے تعلق رکھنے والے اردو استادوں کو اپنی حکومت اور پاکستانی اردو اداروں سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ـ

کانفرنس کے دوران اس اعتراف کی گونج کئی بار سنائی دی کہ تقسیم ملک سے جہاں ہزاروں خاندان اجڑ گئے اور انہیں تہذیبی اور معاشرتی سطح پر بہت کچھ کھونا پڑا اردو پر بھی برا وقت آیا اور اسے کئی برسوں تک منقسم ہندوستان میں اپنی کھوئی ہوئی پہچان اور لسانی شہریت کو منوانے کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑی لیکن پاکستانی باشندوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو کانا پھوسی کے انداز میں پوچھتے تھے کہ کیا واقعی اردو بھارت میں ختم ہوگئی؟ اردو کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی شرکت، ان کے مضامین اور گفتگو نے بڑی حد تک ہندوستان میں اردو کے خاتمے کے تاثر کو

جھٹلایا ـ

شکریہ روزنامہ انقلاب ممبئی ـ کالم نویس زبیر رضوی

جاپان میں اردو

April 5, 2005

گذشتہ دنوں ٹوکیو سے ایک ایسا مہمان ممبئی آیا ہوا تھا جسے ٹوکیو یونیورسٹی اور اس یونیورسٹی کے شعبہ ’فارین لینگویجز (اردو) سے وابستہ ہونے کی سعادت حاصل ہے ـ اس مہمان کا نام ہے ناکامورا مایوکو، جاپان کے قصبہ اشکوہ، جو ٹوکیو سے قریب ہی واقع ہے، سے تعلق رکھنے والی اس ٢٠ سالہ طالبہ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادہ مزاجی اور جھک کر آداب کہنے کی خوبصورت ادا نہیں بلکہ اردو دانی ہے ـ وہ جب اردو بولتی ہے تو اسے لقمہ نہیں دینا پڑتا اور کوئی لفظ سمجھانا نہیں پڑتا ـ

ناکامورا، اردو میں کسی دوسری زبان کے الفاظ کا سہارا بھی نہیں لیتی، اس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ انگریزی جاننے کی حد تک ہی جانتی ہے ـ صحیح معنوں میں اگر وہ کوئی زبان جانتی ہے تو اس کی اپنی زبان جاپانی ہے یا پھر اردو ـ

ناکامورا مایوکو، ٹوکیو یونیورسٹی میں ایم اے کی طالبہ ہیں اور ’’حیدرآباد میں اردو ـ کل اور آج‘‘ کے وسیع تر موضوع پر مقالہ لکھ رہی ہیں ـ اپنے اس مقالے میں انہیں نظام کے دور کی اردو اور آج کے حیدرآباد کی اردو کا تقابلی جائزہ پیش کرنا ہے ـ ریسرچ کے اسی مقصد کے تحت وہ ہندوستان آئیں اور واپسی میں چند روز ممبئی میں قیام کیا ـ اسی دوران انہوں نے دفتر انقلاب کا دورہ بھی کیا اور انقلاب کے ادارتی عملے سے ملاقات کی ـ

آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟ اس سوال کے جواب میں ناکامورا مسکراتے ہوئے کہنے لگیں ’’کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جس نے مجھ سے یہ سوال نہ کیا ہو ـ دراصل مجھے ایشیائی زبانوں اور تہذیبوں سے دلچسپی تھی، ان میں کسی ایک زبان یا تہذیب کا انتخاب کرنا تھا ـ میں نے مختلف زبانوں کے نام سن رکھے تھے لیکن اردو کا نام میرے لئے نیا تھا ـ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس نئی زبان سے وابستہ ہوا جائے ـ یہی وجہ تھی جو میں نے اردو کا انتخاب کیا‘‘ ـ

اردو کیسی لگتی ہے آپ کو ـ یہ سوال سن کر ناکامورا کی چمک جاگتی ہے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتی ہیں ’’بہت شیریں زباں ہے‘‘ ـ یہ جاپانی طالبہ ’’زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’زباں‘‘ کہتی ہے ـ اس کا تلفظ اتنا صاف ہے کہ بہت سے اردو والے بھی اس کے سامنے پانی بھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ـ وہ اہل ہندی اور اہل اردو کے درمیان تلفظ کے فرق سے بھی بخوبی واقف ہے، اسی لئے دوران گفتگو کہنے لگی ’’کئی ہندی والے خوبصورت کو ’’کھوبصورت‘‘ بولتے ہیں‘‘ ـ

یہ جان لینے کے بعد کہ ناکامورا نے اردو کا انتخاب کیوں کیا، ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان ہی کیوں آئیں، پاکستان بھی تو جاسکتی تھیں ـ بقول ناکامورا ’’ہمارے یہاں کے بہت سے طلبہ اردو کے سلسلے میں پاکستان جایا کرتے تھے، میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہندوستان جاؤں جہاں اکثر طلبہ نہیں جاتے ـ اس کے علاوہ میرا موضوع چونکہ حیدرآباد سے متعلق تھا اس لئے بھی مجھے یہیں آنا تھا‘‘ ـ

ناکامورا نے بنیادی اردو ٢ سال میں سیکھی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے رموز و نکات سے آگاہی حاصل کرتی گئیں ـ جس طرح اس کا تلفظ صاف ہے اسی طرح اس کی تحریر شفاف ہے ـ ناکامورا سے گفتگو کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ جاپان میں اردو زبان کی تعلیم کی بنیاد ١٩٠٨ میں ڈالی گئی تھی اور اس کے موجد ہندوستان کے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی تھے البتہ جاپانی پروفیسر آرگامو نے اس کی تدریس کے شعبے کو اس قدر استحکام اور وسعت بخشی کہ وہ حقیقی معنوں میں وہاں کے ’’بابائے اردو‘‘ کہلائے اور اس ضمن میں گذشتہ نسل کی نمائندگی کرتے رہے ـ ان کے بعد کے دور میں اس منصب پر ان کے شاگرد پروفیسر سوزوکی تاکیشی نے اردو زبان کی تدریس و تعلیم کو وسعت دی ـ

اردو سیکھ لینے سے اپنے کیریئر میں ناکامورا کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ یہ پوچھنے پر اس طالبہ نے ایک ایسی بات بتائی جو کم از کم ہندوستان کے لئے نئی ہے ـ اس نے کہا کہ ’’جاپان میں ’جیسی تعلیم ویسا کام‘ کا فارمولہ رائج نہیں ہے بلکہ ’جیسا کام ویسی تربیت‘ کے ضابطے کے مطابق کام ہوتا ہے ـ میری ہی مثال، میرا انتخاب بی اے یا ایم اے کی بنیاد پر ہوگا اور جس نوعیت کے کام کے لئے ہوگا اس کی علاحدہ ٹریننگ دی جائے گی ـ یہ الگ بات ہے کہ میں اردو سے وابستہ رہنے کے لئے کوئی ایسا کام کروں جو اردو سے متعلق ہو ـ مثال کے طور پر میں تحقیق کے اداروں میں کام کرسکتی ہوں، بحیثیت پارٹ ٹائم لیکچرر اردو پڑھانے پر مامور کی جاسکتی ہوں یا پھر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اردو شعبوں سے وابستہ ہوسکتی ہوں‘‘ ـ

کیا جاپانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اردو سروس ہے؟ ناکامورا نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی اردو آبادی (جو ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں پر مشتمل ہے) کے لئے اردو سروس کا باقاعدہ اہتمام ہے ـ جب ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اردو سیکھنے پر والدین کی جانب سے کوئی اعتراض کیا گیا تھا، تو ناکامورا نے بتایا ’’ہمارے یہاں یہ فیصلہ کہ بچہ کیا پڑھے، کیا نہ پڑھے والدین نہیں کرتے ـ طالب علم خود یہ فیصلہ کرتا ہے‘‘ ـ

اردو کی اس طالبہ سے بذریعہ ای میل رابطہ
mayuko@sannet.net.jp

پتہ
Nakamura Mayuko,
Dept of South & West Asian Studies,
Tokyo University of Foreign Studies, Japan
شکریہ روز نامہ انقلاب

جاپان میں اردو

April 5, 2005

گذشتہ دنوں ٹوکیو سے ایک ایسا مہمان ممبئی آیا ہوا تھا جسے ٹوکیو یونیورسٹی اور اس یونیورسٹی کے شعبہ ’فارین لینگویجز (اردو) سے وابستہ ہونے کی سعادت حاصل ہے ـ اس مہمان کا نام ہے ناکامورا مایوکو، جاپان کے قصبہ اشکوہ، جو ٹوکیو سے قریب ہی واقع ہے، سے تعلق رکھنے والی اس ٢٠ سالہ طالبہ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادہ مزاجی اور جھک کر آداب کہنے کی خوبصورت ادا نہیں بلکہ اردو دانی ہے ـ وہ جب اردو بولتی ہے تو اسے لقمہ نہیں دینا پڑتا اور کوئی لفظ سمجھانا نہیں پڑتا ـ

ناکامورا، اردو میں کسی دوسری زبان کے الفاظ کا سہارا بھی نہیں لیتی، اس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ انگریزی جاننے کی حد تک ہی جانتی ہے ـ صحیح معنوں میں اگر وہ کوئی زبان جانتی ہے تو اس کی اپنی زبان جاپانی ہے یا پھر اردو ـ

ناکامورا مایوکو، ٹوکیو یونیورسٹی میں ایم اے کی طالبہ ہیں اور ’’حیدرآباد میں اردو ـ کل اور آج‘‘ کے وسیع تر موضوع پر مقالہ لکھ رہی ہیں ـ اپنے اس مقالے میں انہیں نظام کے دور کی اردو اور آج کے حیدرآباد کی اردو کا تقابلی جائزہ پیش کرنا ہے ـ ریسرچ کے اسی مقصد کے تحت وہ ہندوستان آئیں اور واپسی میں چند روز ممبئی میں قیام کیا ـ اسی دوران انہوں نے دفتر انقلاب کا دورہ بھی کیا اور انقلاب کے ادارتی عملے سے ملاقات کی ـ

آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟ اس سوال کے جواب میں ناکامورا مسکراتے ہوئے کہنے لگیں ’’کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جس نے مجھ سے یہ سوال نہ کیا ہو ـ دراصل مجھے ایشیائی زبانوں اور تہذیبوں سے دلچسپی تھی، ان میں کسی ایک زبان یا تہذیب کا انتخاب کرنا تھا ـ میں نے مختلف زبانوں کے نام سن رکھے تھے لیکن اردو کا نام میرے لئے نیا تھا ـ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس نئی زبان سے وابستہ ہوا جائے ـ یہی وجہ تھی جو میں نے اردو کا انتخاب کیا‘‘ ـ

اردو کیسی لگتی ہے آپ کو ـ یہ سوال سن کر ناکامورا کی چمک جاگتی ہے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتی ہیں ’’بہت شیریں زباں ہے‘‘ ـ یہ جاپانی طالبہ ’’زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’زباں‘‘ کہتی ہے ـ اس کا تلفظ اتنا صاف ہے کہ بہت سے اردو والے بھی اس کے سامنے پانی بھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ـ وہ اہل ہندی اور اہل اردو کے درمیان تلفظ کے فرق سے بھی بخوبی واقف ہے، اسی لئے دوران گفتگو کہنے لگی ’’کئی ہندی والے خوبصورت کو ’’کھوبصورت‘‘ بولتے ہیں‘‘ ـ

یہ جان لینے کے بعد کہ ناکامورا نے اردو کا انتخاب کیوں کیا، ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان ہی کیوں آئیں، پاکستان بھی تو جاسکتی تھیں ـ بقول ناکامورا ’’ہمارے یہاں کے بہت سے طلبہ اردو کے سلسلے میں پاکستان جایا کرتے تھے، میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہندوستان جاؤں جہاں اکثر طلبہ نہیں جاتے ـ اس کے علاوہ میرا موضوع چونکہ حیدرآباد سے متعلق تھا اس لئے بھی مجھے یہیں آنا تھا‘‘ ـ

ناکامورا نے بنیادی اردو ٢ سال میں سیکھی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے رموز و نکات سے آگاہی حاصل کرتی گئیں ـ جس طرح اس کا تلفظ صاف ہے اسی طرح اس کی تحریر شفاف ہے ـ ناکامورا سے گفتگو کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ جاپان میں اردو زبان کی تعلیم کی بنیاد ١٩٠٨ میں ڈالی گئی تھی اور اس کے موجد ہندوستان کے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی تھے البتہ جاپانی پروفیسر آرگامو نے اس کی تدریس کے شعبے کو اس قدر استحکام اور وسعت بخشی کہ وہ حقیقی معنوں میں وہاں کے ’’بابائے اردو‘‘ کہلائے اور اس ضمن میں گذشتہ نسل کی نمائندگی کرتے رہے ـ ان کے بعد کے دور میں اس منصب پر ان کے شاگرد پروفیسر سوزوکی تاکیشی نے اردو زبان کی تدریس و تعلیم کو وسعت دی ـ

اردو سیکھ لینے سے اپنے کیریئر میں ناکامورا کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ یہ پوچھنے پر اس طالبہ نے ایک ایسی بات بتائی جو کم از کم ہندوستان کے لئے نئی ہے ـ اس نے کہا کہ ’’جاپان میں ’جیسی تعلیم ویسا کام‘ کا فارمولہ رائج نہیں ہے بلکہ ’جیسا کام ویسی تربیت‘ کے ضابطے کے مطابق کام ہوتا ہے ـ میری ہی مثال، میرا انتخاب بی اے یا ایم اے کی بنیاد پر ہوگا اور جس نوعیت کے کام کے لئے ہوگا اس کی علاحدہ ٹریننگ دی جائے گی ـ یہ الگ بات ہے کہ میں اردو سے وابستہ رہنے کے لئے کوئی ایسا کام کروں جو اردو سے متعلق ہو ـ مثال کے طور پر میں تحقیق کے اداروں میں کام کرسکتی ہوں، بحیثیت پارٹ ٹائم لیکچرر اردو پڑھانے پر مامور کی جاسکتی ہوں یا پھر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اردو شعبوں سے وابستہ ہوسکتی ہوں‘‘ ـ

کیا جاپانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اردو سروس ہے؟ ناکامورا نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی اردو آبادی (جو ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں پر مشتمل ہے) کے لئے اردو سروس کا باقاعدہ اہتمام ہے ـ جب ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اردو سیکھنے پر والدین کی جانب سے کوئی اعتراض کیا گیا تھا، تو ناکامورا نے بتایا ’’ہمارے یہاں یہ فیصلہ کہ بچہ کیا پڑھے، کیا نہ پڑھے والدین نہیں کرتے ـ طالب علم خود یہ فیصلہ کرتا ہے‘‘ ـ

اردو کی اس طالبہ سے بذریعہ ای میل رابطہ
mayuko@sannet.net.jp

پتہ
Nakamura Mayuko,
Dept of South & West Asian Studies,
Tokyo University of Foreign Studies, Japan
شکریہ روز نامہ انقلاب