Archive for May, 2005

’’شعیب‘‘

May 29, 2005


میں کیلی گرافر تو نہیں، ایک کتاب میں نام ’’محمد‘‘ کو کسی کاتب نے اس انداز سے لکھا تھا اور میں نے بھی اسی انداز سے اپنا نام ’’شعیب‘‘ CorelDRAW میں ڈیزائن کیا پھر Photoshop میں کچھ فلٹرس استعمال کرنے کے بعد واقع خوبصورت لگ رہا ہے ـ

’’شعیب‘‘

May 29, 2005


میں کیلی گرافر تو نہیں، ایک کتاب میں نام ’’محمد‘‘ کو کسی کاتب نے اس انداز سے لکھا تھا اور میں نے بھی اسی انداز سے اپنا نام ’’شعیب‘‘ CorelDRAW میں ڈیزائن کیا پھر Photoshop میں کچھ فلٹرس استعمال کرنے کے بعد واقع خوبصورت لگ رہا ہے ـ

صدام کی اوقات

May 29, 2005

ڈکٹیٹرشپ کے ذریعے پچیس سال سے زائد راج کرنے والے مرد آہن صدام حسین، شاید اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوں، ٧٩ء کا وہ زمانہ جب امریکہ سے آشیرواد لیا کرتے تھے پھر پتہ نہیں انہیں کس مکوڑے نے کاٹ لیا کہ خود کو بش سمجھنے لگے جبکہ انہیں اپنی بیوقوفی کا احساس تھا مگر پھر بھی اپنے تیل کے کنوؤں پر بھروسا تھا ـ خیر، آج انہیں اپنی کی ہوئی غلطیاں یاد آرہی ہیں اور انہیں اپنی اس بیوقوفی پر ہنسی بھی آرہی کہ خود کو بش سمجھنے لگے تھے ـ دس سال ایرانی تھپڑوں سے سلجھے ہوئے صدام کو عقل کیا آگئی کہ شروعات تو چھوٹے ملک کویت سے کرنی ہے مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں پر منہ کی کھانی پڑے گی، انہیں سمجھانے والا بھی کوئی نہیں تھا اور نہ وہ خود سمجھنے کی طاقت رکھتے تھے کیونکہ انپر بش بننے کا جنون جو سوار تھا ـ شایانِ شان زندگی بسر کرنے والا شخص آج دنیا کے سامنے سر جھکائے ہوئے ـ یہ پوسٹ تحریر کرتے ہوئے خیال آیا کہ کاش اگر صدام کی جگہ اسامہ بن لادن عراق کے صدر ہوتے؟ اتنی آسانی سے امریکہ کے ہاتھ نہ لگتے اور امریکہ آج بھی اسامہ کی طرح صدام کو دھونڈتا پھرتا اور شاید کہ بش امریکی صدارت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ـ

صدام کی اوقات

May 29, 2005

ڈکٹیٹرشپ کے ذریعے پچیس سال سے زائد راج کرنے والے مرد آہن صدام حسین، شاید اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوں، ٧٩ء کا وہ زمانہ جب امریکہ سے آشیرواد لیا کرتے تھے پھر پتہ نہیں انہیں کس مکوڑے نے کاٹ لیا کہ خود کو بش سمجھنے لگے جبکہ انہیں اپنی بیوقوفی کا احساس تھا مگر پھر بھی اپنے تیل کے کنوؤں پر بھروسا تھا ـ خیر، آج انہیں اپنی کی ہوئی غلطیاں یاد آرہی ہیں اور انہیں اپنی اس بیوقوفی پر ہنسی بھی آرہی کہ خود کو بش سمجھنے لگے تھے ـ دس سال ایرانی تھپڑوں سے سلجھے ہوئے صدام کو عقل کیا آگئی کہ شروعات تو چھوٹے ملک کویت سے کرنی ہے مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں پر منہ کی کھانی پڑے گی، انہیں سمجھانے والا بھی کوئی نہیں تھا اور نہ وہ خود سمجھنے کی طاقت رکھتے تھے کیونکہ انپر بش بننے کا جنون جو سوار تھا ـ شایانِ شان زندگی بسر کرنے والا شخص آج دنیا کے سامنے سر جھکائے ہوئے ـ یہ پوسٹ تحریر کرتے ہوئے خیال آیا کہ کاش اگر صدام کی جگہ اسامہ بن لادن عراق کے صدر ہوتے؟ اتنی آسانی سے امریکہ کے ہاتھ نہ لگتے اور امریکہ آج بھی اسامہ کی طرح صدام کو دھونڈتا پھرتا اور شاید کہ بش امریکی صدارت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ـ

فوٹو کا کمال

May 26, 2005

ژوسیا کی ممّی Web cam پر دیکھ کر کہنے لگی میں اسے خوبصورت لگ رہا ہوں اور میری آنکھیں بھی بہت پیاری ہیں ـ میں نے کہا آنٹی جی یہ کیسا مذاق ہے، آپ مجھے ذلیل کرنا تو نہیں چاہتیں؟ کیونکہ آج تک میرے مانباپ نے بھی مجھے خوبصورت نہیں کہا ـ

کہنے لگی ـ ارے نہیں، میرا مطلب ہے تم سچ مچ خوبصورت ہو اور ہاں ـ مجھے آنٹی نہیں Jolanta کہنا ـ جی چاہا لاگ آف ہو جاؤں کیونکہ اتنی بے عزتی مجھے گوارا نہیں کہ یوروپ کی گوری آنٹی جنوبی ہند کے بدمعاش کو خوبصورت کہہ رہی ہے ـ ویسے آنٹی جی مطلقہ ہیں ـ آجکل ژوسیا کی ممّی بھی مجھے sms کرنے لگی ہے، پہلا جملہ یہی ہوتا ہے ’’hello my young friend‘‘ ـ

دوسرے دن ژوسیا سے کہا اپنی ممّی کو سنبھال، وہ مجھ پر فدا ہونے کو ہے ـ مگر ژوسیا نے بھی زبردست مذاق اڑایا، کہنے لگی ـ ہاں ـ ممّی تمہیں بہت پسند کرتی ہے اور تمہاری تصویروں کو بڑے غور سے دیکھتی ہے اور یہ مذاق نہیں ـ میں نے کہا کیا مذاق نہیں، تصویروں میں جیسا ہوں ویسا ہوں نہیں وہ تو Adobe Photoshop کا کمال ہے ـ

ژوسیا کہہ چکی ہے کہ اسکی ماں اس کی سہیلی جیسی ہے اور بیٹی سے زیادہ جوان بننے کی کوشش میں رہتی ہے ـ ژوسیا جاتے جاتے مجھ پر بجلی گراکر چلی گئی ’’ممّی سے اچھی دوستی ہوگئی اکثر تمہارے بارے میں پوچھتی رہتی ہے، ڈرتی ہوں کہ تم میرے باپ بننے ـ ـ ـ‘‘