Archive for June, 2005
June 25, 2005

’بلاگ سم‘ پر رجسٹریشن پھر جانچنے کے بعد بہت اچھا لگا اور یہ اردو یونیکوڈ کو بھی سپورٹ کرتا ہے ـ مطلب یہ کہ بلاگ سپاٹ سے کئی گنا بہتر ہے لیکن پتہ نہیں کیوں بلاگ سپاٹ ہی بہتر لگتا ہے ـ BLOGSOME پر ایک بلاگ بنانا میری پریشانی میں مزید اضافہ ہے ـ پہلے سے اپنے تین بلاگز، تین ویب سائٹس اور چھ ایمیل اکاؤنٹس کیوجہ سے پریشان ہوں ـ فی الحال سب سے بڑی مصیبت چیٹنگ میں پچھلے دو سالوں سے ایکساتھ تین لڑکیوں کے درمیان تپ رہا ہوں ـ بیچارے کو ہمیشہ کنفیوز کہ کس سے کیا بات ہوئی تھی ـ ان مصیبتوں میں BLOGSOME پر ایک بلاگ بناؤں؟ توبہ توبہ ـ
shuaib.blogsome.com
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
June 25, 2005

’بلاگ سم‘ پر رجسٹریشن پھر جانچنے کے بعد بہت اچھا لگا اور یہ اردو یونیکوڈ کو بھی سپورٹ کرتا ہے ـ مطلب یہ کہ بلاگ سپاٹ سے کئی گنا بہتر ہے لیکن پتہ نہیں کیوں بلاگ سپاٹ ہی بہتر لگتا ہے ـ BLOGSOME پر ایک بلاگ بنانا میری پریشانی میں مزید اضافہ ہے ـ پہلے سے اپنے تین بلاگز، تین ویب سائٹس اور چھ ایمیل اکاؤنٹس کیوجہ سے پریشان ہوں ـ فی الحال سب سے بڑی مصیبت چیٹنگ میں پچھلے دو سالوں سے ایکساتھ تین لڑکیوں کے درمیان تپ رہا ہوں ـ بیچارے کو ہمیشہ کنفیوز کہ کس سے کیا بات ہوئی تھی ـ ان مصیبتوں میں BLOGSOME پر ایک بلاگ بناؤں؟ توبہ توبہ ـ
shuaib.blogsome.com
Posted in عام خیالات | 1 Comment »
June 22, 2005
موبائل فون میں بہت سارے رنگ ٹونز استعمال کئے جاتے ہیں، روایت ہے کہ فون رنگ کو ’’ٹرن ٹرن‘‘ ہی لکھا جاتا ہے ـ شہر میں شام ہوتے ہی کال گرلز کو فون کالیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، شام ہونے کے بعد یہی لڑکیاں سب سے زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں اور پریشان بھی کہ پہلے کس کالر کو اٹینڈ کریں ـ روپیہ پیسہ تو خوب ملتا ہے مگر بیچاریوں کی قسمت میں سکون نام کی چیز نہیں، رات بھر جاگنا اور پورا دن سوتے رہنا پھر شام پہر بیڈ سے اٹھتے ہی کرفیو کے عالم میں نہا دھوکر میک اپ کرلینے کے بعد سڑکوں پر اتر آتی ہیں ـ دولتمندوں کو، منیجروں کو، انجینئروں کو، مالکوں اور نوکروں کو، اربابِ اقتدار کو یہاں تک کہ معمولی مزدوروں کو بھی خوش کرنے پر تلی ہوئی یہ چھوکریاں اس بات پہ پرسکون رہتی ہیں کہ انہوں نے ہر ایک کو خوش کیا ہے اور کبھی کسی کا دل نہیں توڑا، کسی کو حقارت بھری نظروں سے نہیں دیکھا بلکہ ہر ایک کو ایک ہی نظر سے دیکھا ـ جھوٹی مسکراہٹ مگر صاف دل والیاں، ان میں بھید بھاؤ، ذات پات یا پھر مذہبی اختلافات جیسی بدکاریاں نہیں ہوتیں، مختلف ممالک سے آئی ہوئی یہ لڑکیاں ہر ایک کو خوش آمدید کہتی ہیں کسی سے نام، مذہب، ملک بالکل نہیں پوچھتیں ـ یہاں اکثر لوگ تھوڑی دیر سکون کیلئے انہیں کے پاس جاتے ہیں، مختلف ممالک سے یہاں مقیم بزنس مین یا پھر معمولی نوکری کرنیوالا، صبح سے شام تک کڑی محنت کرنے کے بعد، تن تنہا، اپنوں سے دور اجنبی شہر میں اگر کوئی حسینہ اسے دیکھ کر مسکرا دے تو وہ باغ باغ ہوجائے اور تھوڑی دیر کیلئے اپنے میں خوشی محسوس کرلے، مرجھے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لے آئے ـ امارات کے کراؤن پرنس اور دبئی کے شیخ محمد نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میڈیا سے کہا تھا ’’امارات اسلامی ملک ہے مگر یہاں عالمی انسانی حقوق کی پاسداری بھی ہے اور دبئی کمرشیل کے علاوہ ایک ٹورسٹ شہر ہے، یہاں مختلف ممالک کے لاکھوں لوگ جو مختلف مذہبوں اور فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں، روزی روٹی کیلئے قیام کرتے ہیں ـ اس لحاظ سے ہم عالمی انسانی حقوق کے تمام قوانین پر عمل پیرا ہیں اور رہی بات اسلامی ملک کی، یہاں پر شریعت صرف مسلم ممالک کے باشندوں پر نافذ ہے علاوہ ازیں یہاں ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے راستہ اختیار کرسکتا ہے، اچھا یا برا ـ چاہے وہ عبادت خانہ جائے یا میخانہ یہ انسان کی شخصیت پر منحصر ہےـ‘‘

Posted in عام خیالات | 1 Comment »
June 22, 2005
موبائل فون میں بہت سارے رنگ ٹونز استعمال کئے جاتے ہیں، روایت ہے کہ فون رنگ کو ’’ٹرن ٹرن‘‘ ہی لکھا جاتا ہے ـ شہر میں شام ہوتے ہی کال گرلز کو فون کالیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، شام ہونے کے بعد یہی لڑکیاں سب سے زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں اور پریشان بھی کہ پہلے کس کالر کو اٹینڈ کریں ـ روپیہ پیسہ تو خوب ملتا ہے مگر بیچاریوں کی قسمت میں سکون نام کی چیز نہیں، رات بھر جاگنا اور پورا دن سوتے رہنا پھر شام پہر بیڈ سے اٹھتے ہی کرفیو کے عالم میں نہا دھوکر میک اپ کرلینے کے بعد سڑکوں پر اتر آتی ہیں ـ دولتمندوں کو، منیجروں کو، انجینئروں کو، مالکوں اور نوکروں کو، اربابِ اقتدار کو یہاں تک کہ معمولی مزدوروں کو بھی خوش کرنے پر تلی ہوئی یہ چھوکریاں اس بات پہ پرسکون رہتی ہیں کہ انہوں نے ہر ایک کو خوش کیا ہے اور کبھی کسی کا دل نہیں توڑا، کسی کو حقارت بھری نظروں سے نہیں دیکھا بلکہ ہر ایک کو ایک ہی نظر سے دیکھا ـ جھوٹی مسکراہٹ مگر صاف دل والیاں، ان میں بھید بھاؤ، ذات پات یا پھر مذہبی اختلافات جیسی بدکاریاں نہیں ہوتیں، مختلف ممالک سے آئی ہوئی یہ لڑکیاں ہر ایک کو خوش آمدید کہتی ہیں کسی سے نام، مذہب، ملک بالکل نہیں پوچھتیں ـ یہاں اکثر لوگ تھوڑی دیر سکون کیلئے انہیں کے پاس جاتے ہیں، مختلف ممالک سے یہاں مقیم بزنس مین یا پھر معمولی نوکری کرنیوالا، صبح سے شام تک کڑی محنت کرنے کے بعد، تن تنہا، اپنوں سے دور اجنبی شہر میں اگر کوئی حسینہ اسے دیکھ کر مسکرا دے تو وہ باغ باغ ہوجائے اور تھوڑی دیر کیلئے اپنے میں خوشی محسوس کرلے، مرجھے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لے آئے ـ امارات کے کراؤن پرنس اور دبئی کے شیخ محمد نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میڈیا سے کہا تھا ’’امارات اسلامی ملک ہے مگر یہاں عالمی انسانی حقوق کی پاسداری بھی ہے اور دبئی کمرشیل کے علاوہ ایک ٹورسٹ شہر ہے، یہاں مختلف ممالک کے لاکھوں لوگ جو مختلف مذہبوں اور فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں، روزی روٹی کیلئے قیام کرتے ہیں ـ اس لحاظ سے ہم عالمی انسانی حقوق کے تمام قوانین پر عمل پیرا ہیں اور رہی بات اسلامی ملک کی، یہاں پر شریعت صرف مسلم ممالک کے باشندوں پر نافذ ہے علاوہ ازیں یہاں ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے راستہ اختیار کرسکتا ہے، اچھا یا برا ـ چاہے وہ عبادت خانہ جائے یا میخانہ یہ انسان کی شخصیت پر منحصر ہےـ‘‘

Posted in عام خیالات | 1 Comment »
June 18, 2005
سوچ نہیں سکتا پھر بھی محسوس ہوتا ہے جیسے پیدا ہوتے ہی کمپیوٹر گیمز کھیلنا شروع کردیا تھا ـ مختلف گیمز کے تمام لیولز کو تقریبا دس پندرہ مرتبہ تمام کردیا، یاد نہیں آتا ایسا کونسا کمپیوٹر گیم ہے جسے میں جانتا نہیں، مختلف کمپنیوں کے مختلف گیمز کو بار بار خوب مزے لیکر کھیلا، فی الحال کمپیوٹر گیمز کھیلنے میں بوریت محسوس ہو رہی ہے ـ روزانہ رات کا کھانا کھالینے کے بعد جب سب ٹی وی دیکھنے بیٹھتے ہیں اور میں کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے میں مگن بالکل ایسے جیسے چند لوگوں کو کھانا کھاتے ہی سگریٹ پینا ضروری ہے ـ اب جب کمپیوٹر گیمز سے بوریت ہو رہی ہے؟ فی الحال بلاگ کیلئے مختلف ٹمپلیٹ بنانے کا چسکہ لگ گیا ہے ـ آفس میں کام کے دوران انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس سے HTML اور JAVA سکرپٹ سیکھ رہا ہوں، تمام سکرپٹس کو فلاپی میں کاپی کرلینے کے بعد رات کو اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر تجربے کرتا ہوں، بہت مزہ آرہا ہے کیونکہ کچھ نیا سیکھ رہا ہوں ویسے بیچارے کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن نہیں ہے، مجبوری ہے کیونکہ ہر ہفتے شہر در شہر کام کے سلسلے میں سفر کرنا پڑتا ہے ـ اب ٹمپلیٹس بناتے بناتے بھی بور ہوچکا ہوں، ضرورت ہے ایک ایسے کمپیوٹر گیم کی جس میں بہت برکت ہو اور اتنا مشکل ہو کہ ہر ایک مرحلے سے گذرنے کیلئے ایک ہفتہ لگے ـ

موسم بہت گرم ہے باہر نکلنا عذاب ہے اور گھر میں اے سی کی تھنڈی ہوا میں بیٹھ کر کمپیوٹر پر گیمز کھیلتے ہوئے بہت لطف آتا ہے ـ
Posted in عام خیالات | 6 Comments »