Archive for June 4th, 2005

پہلا نشہ

June 4, 2005

میں تو اپنی جگہ کھڑا تھا مگر آس پاس کا سارا ماحول گھومنے لگا جیسے 3D ایفیکٹ کی فلم ! دوستوں کا ہنسی مذاق، شور شرابہ اور میں بھی مسکراتا رہا پھر اچانک اپنے آپ میں بے چینی محسوس ہوئی اور زمین پر دھڑام سے گر پڑا، دوستوں نے جلدی سے مجھے سنبھالا، چائے پلائی ـ جب تھوڑا ہوش سنبھالا تو اجازت چاہا کہ اب مجھے واپس اپنے فلیٹ جانا ہے مگر دوستوں نے منع کیا اس حالت میں نہ جا سویرے چلے جانا ـ کل سویرے آٹھ بجے آفس میں ہونا چاہئیے اور کیسے ممکن ہے صبح دبئی سے شارجہ واپس آنا کیونکہ ٹریفک کا بے تحاشہ اژدھام ـ اپنی نوکری کی فکر تھی کیونکہ جوابدہی کا کام ہے، دوستوں کو بتائے بغیر نکل پڑا، لڑ کھڑاتے قدموں سے لفٹ میں داخل ہوتے ہی نیچے بیٹھ گیا، بلڈنگ سے باہر آیا تو زبردست قئے ہوا، دوست بہت یاد آرہے تھے کہ انہیں بتائے بغیر چلا آیا ـ

آج ہمارا ہمشہری دوست انڈیا واپس جا رہا ہے جس کیلئے ہم نے الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا اور سب دوست جانتے ہیں میں نے بیئر کے سوا آج تک کسی اور شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ـ اس پارٹی میں پتہ نہیں کس ظالم نے Orange جوس میں شراب گھول دیا اور سب پی کر ٹن ہوگئے ـ دوسرے دن اپنے روم میٹ کا شکریہ ادا کیا کہ مجھے سلامتی سے واپس لے آیا مگر یہ جانکر حیرت ہوئی صبح تین بجے میں خود واپس آگیا تھا! پتہ نہیں کیسے آیا اور کب سویا صرف اتنا یاد ہے ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد ڈرائیور سے کہا تھا شارجہ لے چلو ـ جب دوستوں سے اپنی گذشتہ رات والی کیفیت بیان کیا تو سب ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہوگئے، میرا مذاق اڑایا بچہ اب جوان ہوگیا کہ پہلی بار نشہ کر گیا ـ پتہ چلا Orange جوس میں VODKA شامل تھا جو کہ برفیلے ملکوں کا پسندیدہ مشروب ہے اور سو فیصد الکوحل ہے ـ

پہلا نشہ

June 4, 2005

میں تو اپنی جگہ کھڑا تھا مگر آس پاس کا سارا ماحول گھومنے لگا جیسے 3D ایفیکٹ کی فلم ! دوستوں کا ہنسی مذاق، شور شرابہ اور میں بھی مسکراتا رہا پھر اچانک اپنے آپ میں بے چینی محسوس ہوئی اور زمین پر دھڑام سے گر پڑا، دوستوں نے جلدی سے مجھے سنبھالا، چائے پلائی ـ جب تھوڑا ہوش سنبھالا تو اجازت چاہا کہ اب مجھے واپس اپنے فلیٹ جانا ہے مگر دوستوں نے منع کیا اس حالت میں نہ جا سویرے چلے جانا ـ کل سویرے آٹھ بجے آفس میں ہونا چاہئیے اور کیسے ممکن ہے صبح دبئی سے شارجہ واپس آنا کیونکہ ٹریفک کا بے تحاشہ اژدھام ـ اپنی نوکری کی فکر تھی کیونکہ جوابدہی کا کام ہے، دوستوں کو بتائے بغیر نکل پڑا، لڑ کھڑاتے قدموں سے لفٹ میں داخل ہوتے ہی نیچے بیٹھ گیا، بلڈنگ سے باہر آیا تو زبردست قئے ہوا، دوست بہت یاد آرہے تھے کہ انہیں بتائے بغیر چلا آیا ـ

آج ہمارا ہمشہری دوست انڈیا واپس جا رہا ہے جس کیلئے ہم نے الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا اور سب دوست جانتے ہیں میں نے بیئر کے سوا آج تک کسی اور شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ـ اس پارٹی میں پتہ نہیں کس ظالم نے Orange جوس میں شراب گھول دیا اور سب پی کر ٹن ہوگئے ـ دوسرے دن اپنے روم میٹ کا شکریہ ادا کیا کہ مجھے سلامتی سے واپس لے آیا مگر یہ جانکر حیرت ہوئی صبح تین بجے میں خود واپس آگیا تھا! پتہ نہیں کیسے آیا اور کب سویا صرف اتنا یاد ہے ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد ڈرائیور سے کہا تھا شارجہ لے چلو ـ جب دوستوں سے اپنی گذشتہ رات والی کیفیت بیان کیا تو سب ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہوگئے، میرا مذاق اڑایا بچہ اب جوان ہوگیا کہ پہلی بار نشہ کر گیا ـ پتہ چلا Orange جوس میں VODKA شامل تھا جو کہ برفیلے ملکوں کا پسندیدہ مشروب ہے اور سو فیصد الکوحل ہے ـ

پاکستان میں دوغلی باتیں

June 4, 2005

گذشتہ ہفتے پاکستان میں سلسلہ وار بم دھماکے سرخیوں میں رہے اور اس ہفتہ ایل کے اڈوانی کے چرچے ہند و پاک کے اخبارات میں کچھ زیادہ ہی عروج پر ہیں جسکی وجہ سے انکی شخصیت میں دو گنا اضافہ ہوگیا ـ ہندوستانی اخبارات نے اپنے ایڈیٹوریل میں اڈوانی کی شخصیت پر زبردست ضرب لگائی جب انہوں نے پاکستانی میڈیا کو دوغلی باتیں بتائیں ـ اچھا ہوا مشرف نے اڈوانی کو پاکستان آنے کا دعوت نامہ دیا اور اڈوانی پاکستان پہنچ کر یکلخت بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ـ اسوقت وی ایچ پی اور بی جے پی دونوں گروپ اڈوانی سے سخت ناراض ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اڈوانی اپنے الفاظ واپس لیں ساتھ ہی ہندوستان کے تمام ہندوؤں سے معافی مانگیں کیونکہ اڈوانی نے پاکستانی میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ بابری مسجد ڈھانا ایک بہت بڑی غلطی تھی ـ

سچ تو یہ ہے انسان اِس عمر میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ـ اگر اڈوانی ایک عام انسان ہوتے تو کچھ اور بات تھی مگر وہ تو ٹھہرے سیاستدان اور سیاستدان کا کیا اعتبار! انکی شخصیت اور زبان کچھ ایسی ہی ہے کہ الٹا پلٹا کچھ بھی کہہ دے سننے والے کو چاہئے کہ درگذر کردے یہ نہیں کہ اخبارات عوام میں ایک نیا موضوع چھیڑ دیں ـ

پاکستان میں دوغلی باتیں

June 4, 2005

گذشتہ ہفتے پاکستان میں سلسلہ وار بم دھماکے سرخیوں میں رہے اور اس ہفتہ ایل کے اڈوانی کے چرچے ہند و پاک کے اخبارات میں کچھ زیادہ ہی عروج پر ہیں جسکی وجہ سے انکی شخصیت میں دو گنا اضافہ ہوگیا ـ ہندوستانی اخبارات نے اپنے ایڈیٹوریل میں اڈوانی کی شخصیت پر زبردست ضرب لگائی جب انہوں نے پاکستانی میڈیا کو دوغلی باتیں بتائیں ـ اچھا ہوا مشرف نے اڈوانی کو پاکستان آنے کا دعوت نامہ دیا اور اڈوانی پاکستان پہنچ کر یکلخت بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ـ اسوقت وی ایچ پی اور بی جے پی دونوں گروپ اڈوانی سے سخت ناراض ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اڈوانی اپنے الفاظ واپس لیں ساتھ ہی ہندوستان کے تمام ہندوؤں سے معافی مانگیں کیونکہ اڈوانی نے پاکستانی میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ بابری مسجد ڈھانا ایک بہت بڑی غلطی تھی ـ

سچ تو یہ ہے انسان اِس عمر میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ـ اگر اڈوانی ایک عام انسان ہوتے تو کچھ اور بات تھی مگر وہ تو ٹھہرے سیاستدان اور سیاستدان کا کیا اعتبار! انکی شخصیت اور زبان کچھ ایسی ہی ہے کہ الٹا پلٹا کچھ بھی کہہ دے سننے والے کو چاہئے کہ درگذر کردے یہ نہیں کہ اخبارات عوام میں ایک نیا موضوع چھیڑ دیں ـ