Archive for July, 2005

جمیرا

July 26, 2005

مزید تین مہینوں تک تمام پوسٹوں میں ’موسم گرما‘ کا ذکر ضرور رہے گا ـ اس خون پسینے والے موسم میں یہاں اکثر لوگ شام کے وقت سمندر کنارے آجاتے ہیں ـ

ابوظبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القیون، فجیرہ ـ ان تمام شہروں میں مختلف موڑ پر سمندر صاف دکھائی دیتا ہے ـ شارجہ میں مقیم ہماری بلڈنگ کے بالکل قریب سے ہی سمندر شروع ہوجاتا ہے ـ

اکثر بیچلرس دبئی میں ’جمیرا بیچ‘ جانا پسند کرتے ہیں، یہاں خوبصورت نظاروں کے علاوہ خوبصورت چہرے بھی دیکھنا نصیب ہوتا ہے ـ جمعہ کی شام ہم پورے آٹھ دوستوں نے ملکر جمیرا بیچ پر حملہ کردیا اور سورج غروب ہونے کے بعد بھی ہم پانی میں کھیلتے رہے، پانی سے باہر نکلیں تو پھر گرم مصیبت گلے لگالے گی، مگر واپس تو جانا ہی تھا اور گرمی نے پھر ہمیں دبوچ لیا ـ

سمندر کنارے خوب موج مستی ہوئی، منتظمین (دوستوں) نے کھانے پینے کا بندوبست کیا ـ ہنستے کھیلتے رات ایک بجے واپس گھر پہنچے ـ

دِل نے چاہا

July 23, 2005

میری گذشتہ پوسٹ پر دانیال اور اجمل صاحب کے اقتباسات کو پڑھ کر دِل نے چاہا مذہب اور سائنس کے متعلق چند سطریں اور لکھ دوں اور امید ہے میرا نام تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کی لِسٹ میں نہ آئے ـ میں خود انہیں پسند نہیں کرتا کیونکہ ان دونوں نے ایک خاص مذہب کی توہین کی تھی جبکہ میرے خیال میں انسانیت، بھائی چارہ، پیار، محبت امن اور دوستی یہی سب زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ ہے ـ

کیا وجہ تھی کہ مذہب وجود میں آئے تھے؟ وہ کون ہیں جنہوں نے مذہب کی بنیاد رکھی، مذہب کے قانون و قاعدے بنائے؟ اس دور میں کوئی نیا مذہب وجود میں نہیں آتا؟ آج سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالیں؟ اس وقت موجود تمام مذاہب سینکڑوں سال قبل وجود میں آئے تھے مگر اب کیوں نہیں؟

مہذب لوگوں کی دعائیں ایک پتھر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں جبکہ انسان کا ہی بنایا ہوا ایک بم پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے ـ انسان بچپن سے مذہبی رسومات میں پلا بڑھا اور وہ اپنے مذہب کی ہر بات کو آنکھ بند کرکے یقین کرلیتا ہے اگر اپنے مذہب میں واہیات بھی ہیں تب بھی ـ قصے کہانیوں نے ہم انسانوں کو مختلف قوموں میں بانٹ دیا ـ شاید ہی کوئی بتاسکے اس وقت دنیا میں کتنے مذہب ہیں؟

ایک طرف دنیا کا قدرتی نظام اور دوسری طرف طاقتور حاکم ـ یہاں انسان حاکم بھی ہے اور محکوم بھی ـ ایک بادشاہ دوسرے ملک کے بادشاہ کو شکست دیکر اسکی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا ـ اور آج بھی وہی روایت ہے، طاقتور ملک کمزور ملکوں پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے ـ عبادات اور دعاؤں سے جنگ جیتنا صرف قصے کہانیوں میں لکھا ہے ـ

عنقریب سائنسدان بتائیں گے کل صبح ٹھیک نو بجے فلاں جگہ زلزلہ ہوگا ـ مجھے یقین ہے مذہبی لوگ سائنسدان کو منحوس سمجھیں گے یا پھر اسے زلزلے سے ہوئی تباہیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کیونکہ بیچارے سائنسدان نے عوام کو زلزلے سے آگاہ کردیا ـ

چاند اور سورج کے درمیان زمین کا گردش کرنا کسی مذہب نے نہیں بلکہ سائنس نے دریافت کیا ہے ـ شکر ہے ان انسانوں کا جنہوں نے دنیا کو بتادیا کہ بارش کیسے برستا ہے، آسمان میں بجلیاں کیوں چمکتی ہیں، زلزلے کیوں ہوتے ہیں، چاند میں کیا ہے، سیاروں سے کیا فائدہ ہے وغیرہ ـ

مہذب لوگ سونامی کو خدا کا عذاب سمجھتے ہیں ـ سونامی سے لاکھوں اموات کا ذمہ دار کون ہے اور عراق میں ہلاک ہو رہے ہزاروں انسانوں کا ذمہ دار کون؟ قدرت کی مرضی دنیا میں جہاں چاہے عذاب نازل کردے مگر یہ کام تو امریکہ بھی کر رہا ہے ـ

دِل نے چاہا

July 23, 2005

میری گذشتہ پوسٹ پر دانیال اور اجمل صاحب کے اقتباسات کو پڑھ کر دِل نے چاہا مذہب اور سائنس کے متعلق چند سطریں اور لکھ دوں اور امید ہے میرا نام تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کی لِسٹ میں نہ آئے ـ میں خود انہیں پسند نہیں کرتا کیونکہ ان دونوں نے ایک خاص مذہب کی توہین کی تھی جبکہ میرے خیال میں انسانیت، بھائی چارہ، پیار، محبت امن اور دوستی یہی سب زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ ہے ـ

کیا وجہ تھی کہ مذہب وجود میں آئے تھے؟ وہ کون ہیں جنہوں نے مذہب کی بنیاد رکھی، مذہب کے قانون و قاعدے بنائے؟ اس دور میں کوئی نیا مذہب وجود میں نہیں آتا؟ آج سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالیں؟ اس وقت موجود تمام مذاہب سینکڑوں سال قبل وجود میں آئے تھے مگر اب کیوں نہیں؟

مہذب لوگوں کی دعائیں ایک پتھر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں جبکہ انسان کا ہی بنایا ہوا ایک بم پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے ـ انسان بچپن سے مذہبی رسومات میں پلا بڑھا اور وہ اپنے مذہب کی ہر بات کو آنکھ بند کرکے یقین کرلیتا ہے اگر اپنے مذہب میں واہیات بھی ہیں تب بھی ـ قصے کہانیوں نے ہم انسانوں کو مختلف قوموں میں بانٹ دیا ـ شاید ہی کوئی بتاسکے اس وقت دنیا میں کتنے مذہب ہیں؟

ایک طرف دنیا کا قدرتی نظام اور دوسری طرف طاقتور حاکم ـ یہاں انسان حاکم بھی ہے اور محکوم بھی ـ ایک بادشاہ دوسرے ملک کے بادشاہ کو شکست دیکر اسکی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا ـ اور آج بھی وہی روایت ہے، طاقتور ملک کمزور ملکوں پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے ـ عبادات اور دعاؤں سے جنگ جیتنا صرف قصے کہانیوں میں لکھا ہے ـ

عنقریب سائنسدان بتائیں گے کل صبح ٹھیک نو بجے فلاں جگہ زلزلہ ہوگا ـ مجھے یقین ہے مذہبی لوگ سائنسدان کو منحوس سمجھیں گے یا پھر اسے زلزلے سے ہوئی تباہیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کیونکہ بیچارے سائنسدان نے عوام کو زلزلے سے آگاہ کردیا ـ

چاند اور سورج کے درمیان زمین کا گردش کرنا کسی مذہب نے نہیں بلکہ سائنس نے دریافت کیا ہے ـ شکر ہے ان انسانوں کا جنہوں نے دنیا کو بتادیا کہ بارش کیسے برستا ہے، آسمان میں بجلیاں کیوں چمکتی ہیں، زلزلے کیوں ہوتے ہیں، چاند میں کیا ہے، سیاروں سے کیا فائدہ ہے وغیرہ ـ

مہذب لوگ سونامی کو خدا کا عذاب سمجھتے ہیں ـ سونامی سے لاکھوں اموات کا ذمہ دار کون ہے اور عراق میں ہلاک ہو رہے ہزاروں انسانوں کا ذمہ دار کون؟ قدرت کی مرضی دنیا میں جہاں چاہے عذاب نازل کردے مگر یہ کام تو امریکہ بھی کر رہا ہے ـ

دھماکوں کا موسم

July 23, 2005

عراق میں دھماکوں کا موسم ابھی جاری ہے کہ دوسرے ممالک پر بھی یہ لہولہان موسم چھا گیا ـ ہنسی خوشی کے چند لمحے پھر اچانک زبردست دھماکے اور ہر طرف خون میں لت پت انسانی لاشیں ـ

کہتے ہیں دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، مگر میرا یقین ہے، ایسی بھی ایک جنونی قوم ہے جو نفرت کی آگ میں جل کر ایسا وحشتناک قدم اٹھاتے ہیں ـ کہنے کو تو دہشت گرد یا فسادی مگر یہ لوگ کوئی غیر مخلوق نہیں بلکہ انسان ہی ہیں مگر وحشی ذہنیت والے ـ

بہت ہی ہمّت والے دہشت گرد، اپنی قوم کا نام روشن کرنے اور اپنے گناہوں کی تلافی کیلئے ایسا معزز کام کرتے ہیں، عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشتے ـ اپنی قوم کے فنڈ سے خریدے ہوئے ہتھیار اور بم، جو کسی دوسری قوم کے انسانوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں ـ اگر واقع ہمّت والے دہشت گرد ہیں تو اپنے دشمن سے مقابلہ کریں مگر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر اپنی طاقت نہ آزمائیں ـ

دھماکوں کا موسم

July 23, 2005

عراق میں دھماکوں کا موسم ابھی جاری ہے کہ دوسرے ممالک پر بھی یہ لہولہان موسم چھا گیا ـ ہنسی خوشی کے چند لمحے پھر اچانک زبردست دھماکے اور ہر طرف خون میں لت پت انسانی لاشیں ـ

کہتے ہیں دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، مگر میرا یقین ہے، ایسی بھی ایک جنونی قوم ہے جو نفرت کی آگ میں جل کر ایسا وحشتناک قدم اٹھاتے ہیں ـ کہنے کو تو دہشت گرد یا فسادی مگر یہ لوگ کوئی غیر مخلوق نہیں بلکہ انسان ہی ہیں مگر وحشی ذہنیت والے ـ

بہت ہی ہمّت والے دہشت گرد، اپنی قوم کا نام روشن کرنے اور اپنے گناہوں کی تلافی کیلئے ایسا معزز کام کرتے ہیں، عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشتے ـ اپنی قوم کے فنڈ سے خریدے ہوئے ہتھیار اور بم، جو کسی دوسری قوم کے انسانوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں ـ اگر واقع ہمّت والے دہشت گرد ہیں تو اپنے دشمن سے مقابلہ کریں مگر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر اپنی طاقت نہ آزمائیں ـ