Archive for August, 2005

مصنوعی جزیرے

August 31, 2005

عالمی شہرت یافتہ پاپ سنگر مائیکل جیکسن اچانک دوحہ اور دبئی کے دورے پر چلے آئے ـ اخباری رپورٹوں سے پتہ چلا کہ دبئی میں بنائے جارہے پامس (مصنوعی جزیروں) پر اپنے لئے پراپرٹی خریدنے آئے تھے ـ اِن مصنوعی جزیروں پر اب تک کئی عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے اپنے لئے پراپرٹیاں خرید چکے ہیں جن میں امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، ٹام کرائس وغیرہ اور اب مائیکل جیکسن بھی چلے آئے ـ جدید ٹیکنالوجی سے یہاں دبئی میں سمندر کے اوپر بچھائے جارہے مصنوعی جزیرے (پامس) کی قیمتیں شاید آسمان سے بھی اونچی ہیں، یہاں امیر اور دولت مند لوگ جن میں ہندوستانی بھی شامل ہیں، کروڑوں ڈالرس پھینک کر مصنوعی جزیروں پر عالیشان بنگلے خریدے جارہے ہیں ـ دبئی چھوٹا سا شہر ہے جو پھیلنے سے مجبور ہے، ایک طرف ریگستان اور دوسری طرف سمندر اسلئے یہاں پر آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دیو قامت بلڈنگیں کثیر تعداد میں موجود ہیں ـ یہاں کے دولتمند لوگوں کو کیا سوجھی کہ سمندر پر مصنوعی زمینیں (جزیرے) بناکر شہر کے شور و غل سے دور سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں ـ فی الحال کئی جزیرے بن کر فروخت بھی ہوگئے جن میں پام جبل علی، پام جمیرا، پام ورلڈ (دنیا کے نقشے کی طرح بنائے گئے جزیرے) اور اب پام دائرہ بھی فروخت کیلئے تیار ہے ـ

مائیکل جیکسن : دبئی میں دو دن عربوں کے درمیان گذارنے کے بعد اپنے آپ میں کیا محسوس ہوا؟

مصنوعی جزیرے

August 31, 2005

عالمی شہرت یافتہ پاپ سنگر مائیکل جیکسن اچانک دوحہ اور دبئی کے دورے پر چلے آئے ـ اخباری رپورٹوں سے پتہ چلا کہ دبئی میں بنائے جارہے پامس (مصنوعی جزیروں) پر اپنے لئے پراپرٹی خریدنے آئے تھے ـ اِن مصنوعی جزیروں پر اب تک کئی عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے اپنے لئے پراپرٹیاں خرید چکے ہیں جن میں امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، ٹام کرائس وغیرہ اور اب مائیکل جیکسن بھی چلے آئے ـ جدید ٹیکنالوجی سے یہاں دبئی میں سمندر کے اوپر بچھائے جارہے مصنوعی جزیرے (پامس) کی قیمتیں شاید آسمان سے بھی اونچی ہیں، یہاں امیر اور دولت مند لوگ جن میں ہندوستانی بھی شامل ہیں، کروڑوں ڈالرس پھینک کر مصنوعی جزیروں پر عالیشان بنگلے خریدے جارہے ہیں ـ دبئی چھوٹا سا شہر ہے جو پھیلنے سے مجبور ہے، ایک طرف ریگستان اور دوسری طرف سمندر اسلئے یہاں پر آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دیو قامت بلڈنگیں کثیر تعداد میں موجود ہیں ـ یہاں کے دولتمند لوگوں کو کیا سوجھی کہ سمندر پر مصنوعی زمینیں (جزیرے) بناکر شہر کے شور و غل سے دور سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں ـ فی الحال کئی جزیرے بن کر فروخت بھی ہوگئے جن میں پام جبل علی، پام جمیرا، پام ورلڈ (دنیا کے نقشے کی طرح بنائے گئے جزیرے) اور اب پام دائرہ بھی فروخت کیلئے تیار ہے ـ

مائیکل جیکسن : دبئی میں دو دن عربوں کے درمیان گذارنے کے بعد اپنے آپ میں کیا محسوس ہوا؟

سوال اور جواب

August 27, 2005

سوال:
دینی مدارس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟

جواب:
فرقہ بندی، ولولہ انگیز تقریر، طریقئہ جہاد، شہید ہونے کے فوائد، قصے کہانیاں، دوسرے فرقوں سے نفرت، دنیا سے بیزارگی، قیامت کا تصور، سنِ بلوغ کی کیفیت اور چار شادیوں کا قاعدہ ـ

سوال اور جواب

August 27, 2005

سوال:
دینی مدارس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟

جواب:
فرقہ بندی، ولولہ انگیز تقریر، طریقئہ جہاد، شہید ہونے کے فوائد، قصے کہانیاں، دوسرے فرقوں سے نفرت، دنیا سے بیزارگی، قیامت کا تصور، سنِ بلوغ کی کیفیت اور چار شادیوں کا قاعدہ ـ

اچھی بات نہیں

August 27, 2005

اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں، یہاں اپنے شہر میں بھی روزی روٹی کیلئے کئی راستے ہیں، اسلئے گھر واپس آجا ـ ٹیلیفون پر امّی مجھ سے ہمیشہ یہی باتیں کرتی ہیں اور انکی انہی باتوں سے کبھی کبھی چڑچڑا ہوجاتا ہوں ـ

ملک سے باہر جانا، گھومنا پھرنا، دوسرے ممالک کے کلچرس دیکھنا وہاں کی آب و ہوا کا لطف اٹھانا ـ یہ سب تقریبا ہر شہری کی خواہش ہے اور بہت سارے لوگ میری طرح بھی ہیں جو روزی روٹی کیلئے ملک سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں ـ

کوئی تعلیم کیلئے تو کوئی تجارت اور نوکری کیلئے، کوئی خاندانی جھگڑوں سے پریشان تو کسی کو اپنوں سے نفرت، گھر میں پھوٹ، جائیداد سے بے دخل اور قانونی کارروائیوں سے نجات کیلئے ـ ـ ـ پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ پردیس میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں ـ

کوئی اپنوں کو بھول کر عیش کر رہا ہے تو کوئی اپنے گھر والوں کو یاد کرکے رو رہا ہے مگر واپس جانے کیلئے اس کا دل نہیں چاہتا ـ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پردیس میں کوئی اپنا نہیں، دکھ درد بانٹنے کیلئے کوئی نہیں، بیماری میں کوئی ساتھ نہیں، کوئی کسی کا نہیں ـ پردیسی اکیلا ہوتا ہے چاہے اسکے درجن بھر دوست ساتھ ہوں ـ

اپنا ملک، جہاں بھر پور اپنائیت ہے، ہموطن چاہے اجنبی ہوں پھر بھی آپس میں خلوص ہے ـ پردیس میں نوکری کرنا تو بری بات نہیں، غیروں میں رہنا ایک سبق ہے تاکہ اپنوں کی قدر معلوم ہو اور دنیا گھومنا ضروری ہے تاکہ جینے میں لطف آئے ـ سب سے بڑا لطف یہ ہے کہ اپنوں کے ساتھ رہیں، یہی زندگی بھر کا سہارا ہیں ـ اسلئے گھر واپس آجا پردیسی، اپنے گھر میں بھی ہے دال روٹی اور اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں ـ