Archive for August 27th, 2005

سوال اور جواب

August 27, 2005

سوال:
دینی مدارس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟

جواب:
فرقہ بندی، ولولہ انگیز تقریر، طریقئہ جہاد، شہید ہونے کے فوائد، قصے کہانیاں، دوسرے فرقوں سے نفرت، دنیا سے بیزارگی، قیامت کا تصور، سنِ بلوغ کی کیفیت اور چار شادیوں کا قاعدہ ـ

سوال اور جواب

August 27, 2005

سوال:
دینی مدارس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟

جواب:
فرقہ بندی، ولولہ انگیز تقریر، طریقئہ جہاد، شہید ہونے کے فوائد، قصے کہانیاں، دوسرے فرقوں سے نفرت، دنیا سے بیزارگی، قیامت کا تصور، سنِ بلوغ کی کیفیت اور چار شادیوں کا قاعدہ ـ

اچھی بات نہیں

August 27, 2005

اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں، یہاں اپنے شہر میں بھی روزی روٹی کیلئے کئی راستے ہیں، اسلئے گھر واپس آجا ـ ٹیلیفون پر امّی مجھ سے ہمیشہ یہی باتیں کرتی ہیں اور انکی انہی باتوں سے کبھی کبھی چڑچڑا ہوجاتا ہوں ـ

ملک سے باہر جانا، گھومنا پھرنا، دوسرے ممالک کے کلچرس دیکھنا وہاں کی آب و ہوا کا لطف اٹھانا ـ یہ سب تقریبا ہر شہری کی خواہش ہے اور بہت سارے لوگ میری طرح بھی ہیں جو روزی روٹی کیلئے ملک سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں ـ

کوئی تعلیم کیلئے تو کوئی تجارت اور نوکری کیلئے، کوئی خاندانی جھگڑوں سے پریشان تو کسی کو اپنوں سے نفرت، گھر میں پھوٹ، جائیداد سے بے دخل اور قانونی کارروائیوں سے نجات کیلئے ـ ـ ـ پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ پردیس میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں ـ

کوئی اپنوں کو بھول کر عیش کر رہا ہے تو کوئی اپنے گھر والوں کو یاد کرکے رو رہا ہے مگر واپس جانے کیلئے اس کا دل نہیں چاہتا ـ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پردیس میں کوئی اپنا نہیں، دکھ درد بانٹنے کیلئے کوئی نہیں، بیماری میں کوئی ساتھ نہیں، کوئی کسی کا نہیں ـ پردیسی اکیلا ہوتا ہے چاہے اسکے درجن بھر دوست ساتھ ہوں ـ

اپنا ملک، جہاں بھر پور اپنائیت ہے، ہموطن چاہے اجنبی ہوں پھر بھی آپس میں خلوص ہے ـ پردیس میں نوکری کرنا تو بری بات نہیں، غیروں میں رہنا ایک سبق ہے تاکہ اپنوں کی قدر معلوم ہو اور دنیا گھومنا ضروری ہے تاکہ جینے میں لطف آئے ـ سب سے بڑا لطف یہ ہے کہ اپنوں کے ساتھ رہیں، یہی زندگی بھر کا سہارا ہیں ـ اسلئے گھر واپس آجا پردیسی، اپنے گھر میں بھی ہے دال روٹی اور اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں ـ

اچھی بات نہیں

August 27, 2005

اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں، یہاں اپنے شہر میں بھی روزی روٹی کیلئے کئی راستے ہیں، اسلئے گھر واپس آجا ـ ٹیلیفون پر امّی مجھ سے ہمیشہ یہی باتیں کرتی ہیں اور انکی انہی باتوں سے کبھی کبھی چڑچڑا ہوجاتا ہوں ـ

ملک سے باہر جانا، گھومنا پھرنا، دوسرے ممالک کے کلچرس دیکھنا وہاں کی آب و ہوا کا لطف اٹھانا ـ یہ سب تقریبا ہر شہری کی خواہش ہے اور بہت سارے لوگ میری طرح بھی ہیں جو روزی روٹی کیلئے ملک سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں ـ

کوئی تعلیم کیلئے تو کوئی تجارت اور نوکری کیلئے، کوئی خاندانی جھگڑوں سے پریشان تو کسی کو اپنوں سے نفرت، گھر میں پھوٹ، جائیداد سے بے دخل اور قانونی کارروائیوں سے نجات کیلئے ـ ـ ـ پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ پردیس میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں ـ

کوئی اپنوں کو بھول کر عیش کر رہا ہے تو کوئی اپنے گھر والوں کو یاد کرکے رو رہا ہے مگر واپس جانے کیلئے اس کا دل نہیں چاہتا ـ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پردیس میں کوئی اپنا نہیں، دکھ درد بانٹنے کیلئے کوئی نہیں، بیماری میں کوئی ساتھ نہیں، کوئی کسی کا نہیں ـ پردیسی اکیلا ہوتا ہے چاہے اسکے درجن بھر دوست ساتھ ہوں ـ

اپنا ملک، جہاں بھر پور اپنائیت ہے، ہموطن چاہے اجنبی ہوں پھر بھی آپس میں خلوص ہے ـ پردیس میں نوکری کرنا تو بری بات نہیں، غیروں میں رہنا ایک سبق ہے تاکہ اپنوں کی قدر معلوم ہو اور دنیا گھومنا ضروری ہے تاکہ جینے میں لطف آئے ـ سب سے بڑا لطف یہ ہے کہ اپنوں کے ساتھ رہیں، یہی زندگی بھر کا سہارا ہیں ـ اسلئے گھر واپس آجا پردیسی، اپنے گھر میں بھی ہے دال روٹی اور اپنوں سے ہمیشہ دور رہنا اچھی بات نہیں ـ