Archive for September, 2005

بش خوش ہوا

September 27, 2005

ہندوستان بھی ایران کے خلاف

امریکہ نے ایران کے خلاف بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی قرار داد میں ہندوستان کے تازہ موقف پر شکریہ ادا کیا، امریکی نائب وزیر خارجہ نکولاس برنز نے کہا ’’ہم ہندوستان کے مشکور ہیں، ایران کو الگ تھلگ کرنے واشنگٹن کی کوشش کا ساتھ دیا ـ ‘‘ ایران کے خلاف ووٹ دینے پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا، بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر خارجہ ہند مسٹر یشونت سنہا نے کہا ہندوستان اپنے دوست (ایران) کا ساتھ دینے کی بجائے امریکہ کے دباؤ میں آگیا ـ مارکسی پارٹی نے کہا منموہن سنگھ حکومت امریکی دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور اپنے معلنہ موقف سے منحرف ہوگئی ہے ـ مارکسی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عملا ہندوستان کو امریکہ کے ایک حلیف ملک میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ہند، امریکہ کی ’’دھمکی‘‘ سے پست ہمت ہوگئی ہے اور وہ دھمکی یہ تھی کہ ہندوستان کو، دونوں میں سے کسی ایک موقف کا انتخاب کرنا ہوگا کہ آیا وہ، امریکہ کے ساتھ ہے یا ایران کے ـ سیاسی جماعت سی پی آئی نے اپنے بیان میں کہا یہ بات صاف ہے کہ حکومت ہند اپنے آپ کو امریکہ اور یوروپین یونین سے ہم آہنگ کر رہی ہے، ہندوستان کو اس حقیقت پر نظر رکھنی چاہئے کہ روس، چین اور تیسری دنیا کے کئی ممالک نے مذکورہ قرار داد پر رائے دہی میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے ـ

چین، روس اور جنوبی افریقہ اِن ١٢ ممالک میں شامل تھے جنہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ـ وینزویلا اس قرار داد کے خلاف ووٹ دینے والا واحد ملک تھا ـ برنز نے کہا ہندوستان کا ووٹ اس معاملے کو ترقی یافتہ ممالک کے خلاف ترقی پذیر ممالک کو یکجا کرنے کی کوشش کیلئے ایک دھچکہ ہے ـ ٢٢ ممالک نے قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالے، یہ قرار داد اس متن سے کم تر ہے جو پہلے یوروپ کی تین بڑی طاقتوں: فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے تیار کیا تھا ـ اس میں کہا گیا تھا کہ ایران کا معاملہ فورا کونسل کے سامنے لایا جائے ـ تازہ قرار داد کیلئے تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے ـ

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے اس قرار داد کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ردّعمل کا اظہار قرار داد کا جائزہ لینے اور ویانا سے ایرانی وفد کی واپسی کے بعد کرے گا ـ ایران کے ایک اور سیکوریٹی اہلکار جاوید وعیدی نے کہا کہ مغرب ایران کے ایٹمی پروگرام پر کریک ڈاؤن کیلئے اکثریتی ووٹوں کے حصول میں ناکام ہوگیا ہے ـ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی ایجنسی کی قرار داد پر منقسم ہوگئی ہے ـ اقوام متحدہ کی اٹامک ایجنسی کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر اب بھی مزید سفارتکاری کی گنجائش موجود ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کا کیس نومبر سے قبل سلامتی کونسل کو نہیں بھیجا جانا چاہئے ـ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کا کیس فوری طور پر سلامتی کونسل میں نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں عالمی جوہری ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس نومبر میں پھر ہوگا ـ

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ نے گذشتہ روز ویانا میں ایک قرار داد منظور کی تھی تاکہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے ـ وہ ایجنسی کو یہ بات سمجھانے سے قاصر رہا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے ـ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی ووٹنگ سے پہلے ہندوستان نے روس، چین، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ملکر یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اس قرار داد کی حمایت نہیں کرے گا ـ لیکن ہندوستان نے اپنا ذہن بدلا اور قرار داد کی حمایت میں ووٹ ڈالا ـ

(مختلف اخبارات سے)

اسامہ سے اِک ملاقات

September 26, 2005

آخر آپ خلوت گاہ سے باہر کب آئیں گے؟
’’پہلے امریکہ کو وعدہ کرنا چاہئے کہ ہمیں ایک عام شہری کی زندگی گذارنے کا موقع دیا جائے گا‘‘
آپ نے کبھی کھلم کھلا جہاد کیا ہے؟
’’جی ہاں ـ اپنے ہی گھر والوں سے‘‘
سنا ہے آپ کے والد کی جائیداد کا حصہ آپ کو مل گیا ـ
’’ہرگز نہیں ـ میرا مطلب ہے جتنی امید تھی اتنا نہیں ملا‘‘
سوچئے اگر آپ امریکہ کے شہری ہوتے؟
’’تو میں اسامہ بن لادن سے ہرگز نفرت نہیں کرتا‘‘
اپنے گروپ کے بارے میں کیا خیالات ہیں؟
’’بہت ہی بہادر گروپ تھا، امریکہ کے غضب سے سب فرار ہیں‘‘
اپنے گروپ سے ابھی بھی رابطہ جاری ہے یا نہیں؟
’’بہت مشکل ہے، ہماری آخری امید الجزیرہ پر بھی امریکہ نے پانی بھر دیا‘‘
مان لو کہ امریکہ نے عالمی اتفاق رائے سے آپ کو معاف کردیا ـ
’’تو امریکہ کیلئے میری جان قربان، میرے بچوں کو امریکی فوج میں بھرتی کردوں گا تاکہ وہ دنیا بھر میں موجود دہشت گردوں کے خلاف لڑ کر شہید ہوجائیں‘‘
اوہممم ـ ـ تو آپ نیک خیالات بھی رکھتے ہیں ـ
’’ کیا کریں؟ کھلی فضا میں سانس لینا چاہتا ہوں‘‘
کیا ایسا نہیں کرسکتے کہ پھر سے اپنے گروپ کو اور مضبوط بنالیں ـ
’’ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں، پہلے کی بات الگ تھی ہمارے اندر جوش و جذبہ تھا ـ اب ہمارا گروپ پوری طرح بکھیر چکا ہے‘‘
اپنی فی الحال زندگی پر روشنی ڈالیں؟
’’فی الحال بغیر روشنی کے کمرے میں زندگی گذار رہا ہوں‘‘
دنیا کے بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ مرچکے ہیں ـ
’’کاش امریکی فوج بھی یہی سمجھ لے‘‘
کیا آپ پوری زندگی چھپے پھرتے رہیں گے؟
’’ہرگز نہیں ـ لیکن آثار یہی بتا رہے ہیں‘‘
مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟
’’روزانہ صبح سے شام تک یہی سوچ رہا ہوں‘‘
فی الحال آپ کی بیگمات اور بچوں کا کیا حال ہے؟
’’وہ سب اپنے اپنے گھروں میں نظر بند ہیں‘‘
کیا آپ کو اپنی بیگمات کی یاد نہیں آتی؟
’’فی الحال ہمارے ایک ساتھی نے انکی بہن سے ہماری شادی کا آفر دیا ہے‘‘
چلو چھوڑو ان سب باتوں کو، پہلے یہ بتاؤ کیا سوچ کر امریکہ کو لتاڑا تھا؟
’’ہم نے؟؟ ہاہاہا ـ ـ ـ کیا مذاق ہے، بھلا ہم امریکہ کو کیسے لتاڑ سکتے ہیں؟
جی ہاں! آپ نے امریکہ کو لتاڑا پھر امریکی فوج نے آپ کے گروپ پر حملے کئے اور آج تک آپ کو دھونڈتی پھر رہی ہے ـ
’’جناب یہ سب میڈیا کی خبریں ہیں، دراصل ہم امریکہ کے غلام ہیں ـ اسی کے کہنے پر ہم نے ہتھیار اٹھائے، اسی کے کہنے پر جہاد کے نعرے لگائے، اسی کے کہنے پر دھمکی آمیز ویڈیو تیار کروائے ـ ہم نے جو بھی کیا سب امریکہ کے حکم پر کیا، اور یہ بھی اسی کا فرمان ہے کہ ہم روپوش رہیں‘‘
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ـ
’’آپ نہیں سمجھیں گے کیونکہ یہ سیاست ہے ـ عالمی سیاست‘‘

ہجوم میں چہرہ

September 24, 2005

یہاں پردیس میں ہموطن تو لاکھوں ہیں مگر جب کوئی ہمشہری ملجائے تو کیا بات ہے ـ شاپنگ سنٹروں میں، بازاروں میں یا پھر سمندر کنارے کبھی کبھار کسی ہمشہری سے ملاقات کے بعد دل خوش ہوجاتا ہے ـ ویسے یہاں دنیا بھر کی سینکڑوں زبانیں بولنے والے موجود ہیں مگر جب ہجوم میں سے ہمارے شہر کی مقامی زبان کانوں سے ٹکراتی ہے تو قدم رک جاتے ہیں پھر آنکھیں آواز کی سمت ہجوم میں اپنے ہمشہری کو تلاش کرتی ہیں ـ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پردیس میں کہیں ہمارے ہی گلی محلے کا کوئی ملجائے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے ـ یہاں میں نے اپنے ایک پرانے دشمن کو گلے لگایا، بہت سال پہلے ہم دونوں نے آپس میں خوب جھگڑا کیا اور سالوں بعد یہاں اچانک ایکدوسرے کا سامنا ہوگیا تو مسکراکر آپس میں گلے لگ گئے، ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بچھڑا ہوا دوست مل گیا ـ

امام کے سامنے

September 22, 2005

سالوں بعد مسجد میں حاضری

سلام پھیرتے ہی مولانا مصلیوں کی طرف پلٹ کر بیٹھ گئے بالکل میرے سامنے ہوبہو، کیونکہ میں نے پہلی صف میں مولانا کے پیچھے نماز پڑھا تھا ـ مولانا نے پہلے مجھے گھورا کہ یہ نیا مصلی کون ہے؟ پھر باقی مصلیوں پر سرسری نگاہ دوڑاتے ہوئے اپنی ناک بھنویں چڑھائیں پھر کچھ ورد کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دعاء کیلئے اٹھالئے تو تمام مصلیوں کیساتھ میں نے بھی دعاء کیلئے ہاتھ اٹھا دیا ـ پانچ منٹ عربی میں دعا کرتے ہوئے اچانک اردو پر آگئے ’’اے اللہ ہمارے خطاؤں کو درگذر فرما‘‘ پوری مسجد آمین آمین سے گونجنا شروع ہوگئی ـ

مولانا نے اپنے چہرے پر مضبوط جھریاں لاتے ہوئے ایک ہلکی سی چیخ کیساتھ دعا جاری رکھی ’’یا اللہ امّتِ مسلمہ پر رحم فرما‘‘ اس پر مسجد میں درد بھرا آمین گونجا ـ یکایک مولانا نے اپنی شکل بگاڑلی جسے دیکھ کر میری ہنسی کھانسی میں نکل گئی ـ یہاں سے مولانا گڑگڑاتے ہوئے خدا سے فریاد کرتے جارہے تھے اور پوری مسجد میں شدید غم و رنج کے ساتھ آمین پر آمین گونجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ـ مولانا کی شکل دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ خدا سے فریاد کم بلکہ اپنی ڈیوٹی زیادہ نبھا رہے تھے ـ ان کا اندازِ فریاد اور مسلسل بگڑتی شکل کو دیکھ کر مجھ پر کھانسی کا دورہ شروع ہوگیا تو بازو بیٹھے ایک شخص نے کونی مار کر آہستہ سے کہا باہر جاکر کھانسو ـ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو تقریبا چالیس پچاس صفیں تھیں، کیسے ممکن تھا کہ سب کو ٹھوکریں مارتا ہوا باہر جاؤں؟

دعا جاری رکھتے ہوئے مولانا نے مجھے دیکھا، وہ سمجھ چکے تھے کہ سامنے والا بڑا بے ادب ہے اور انکی مصنوعی اداؤں کو بھی سمجھ چکا ہے ـ مولانا نے اپنی آنکھیں بند کرلئے اور مجھے دکھانے کیلئے کچھ زیادہ ہی اموشنل ہوگئے تو میں نے بھی اپنا سر جھکاکر آنکھیں بند کرلیں تاکہ اپنی کھانسی (ہنسی) روک سکوں ـ مولانا نے اپنی آنکھیں ایک ننھے بچے کی طرح مضبوطی سے بند کرتے ہوئے دعا جاری رکھی ’’یا اللہ کشمیر پر کرم فرما، یا اللہ عراق میں امن قائم کردے، فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ یا کریم افغانستان ـ ـ ـ ـ‘‘ مولانا کی یہ فریادیں سنکر میرا ذہن اپنے بچپن کی طرف چلایا گیا ـ ـ ـ

ـ ـ ـ ـ جمعہ کے دن ڈیڈی مجھے زبردستی کھینچتے ہوئے مسجد لیجاتے تھے اور وہاں کے مولانا بھی نماز کے بعد خدا سے بالکل ایسی ہی فریادیں کرتے تو مسجد میں غمگین آمین گونجتا تھا ـ اگر مسجد میں نظر نہ آؤں تو ڈیڈ گھر آکر میری خوب پٹائی کرتے کہ میرے ساتھ مسجد تو آیا مگر کہاں غائب ہوگیا تھا ـ آج اتنا عرصہ ہوگیا، سالوں سے کیجارہی دعاؤں سے عراق اور فلسطین میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ـ مجھے عبادت کا شوق نہیں مگر جمعہ کے دن دوستوں نے زبردستی مسجد لاکر امام صاحب کے پیچھے بٹھا دیا تھا، ایک لمبے عرصے کے بعد مسجد آیا تو کچھ عجیب عجیب سا محسوس ہورہا تھا ساتھ ہی اپنا بچپن بھی یاد آنے لگا ـ مسجد سے باہر نکلا تو دوست احباب اور جان پہچان والے متعجب نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگے ’’ارے دیکھو شعیب مسجد میں نماز پڑھنے آیا ہے‘‘ باری باری سب نے مجھے گلے لگایا جیسے میں نے آج ہی اسلام قبول کیا ـ

توجہ فرمائیں

September 20, 2005

بزرگوں کا کارنامہ

اخلاق، تہذیب، ایمانداری، حسن و سلوک اور محبت وغیرہ یہ ساری باتیں ہمیں بزرگوں سے ہی سیکھنی پڑتی ہیں تب جاکر ایک آدمی انسان کہلانے کے لائق ہوتا ہے ـ اگر خاندان میں کوئی بزرگ نہیں تو وہ خاندان بہت جلد تباہ اور برباد ہوجاتا ہے اسلئے خاندان میں ایک آدھ بزرگ کا ہونا بے حد ضروری ہے، کوئی بھی گھر جہاں بزرگ نہ ہوں تو وہ گھر ادھورا اور غیر محفوظ ہے ـ

ہزاروں سالوں سے لوگ بزرگوں کا احترام کرتے آرہے ہیں، انکی ہر بات کو سر آنکھوں سے تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ یہی ہماری تہذیب ہے اور بزرگوں سے رائے مشورہ کئے بغیر ایک عام انسان کچھ نہیں کرسکتا ـ دنیا بھر میں درجنوں مذہب اور ہزاروں فرقے، یہ کارنامہ ہمارے ہی بزرگوں کا ہے، ہم انسانوں کو مختلف فرقوں میں بانٹ کر چلے گئے ـ انہیں کون اور کیسے بتائے کہ ہم انسان انکے بنائے ہوئے قوموں میں بٹ کر کس بری حالت میں ہیں ـ

فی الحال اب اِس نئے دور کے بزرگوں سے ہم عاجزانہ گذارش کرتے ہیں کہ وہ بھی کچھ ایسا کارنامہ کر دکھائیں کہ دنیا میں موجود تمام قوموں کے لوگ سب ایک ہوجائیں اور قبروں میں سو رہے ہمارے پرانے زمانے کے بزرگ شرم سے پانی پانی ہوجائیں یہ جانکر کہ انکے بنائے ہوئے مضبوط فرقوں نے آج نفرت کی دیواروں کو توڑ کر سب ایک ہوگئے ہیں ـ امید ہے ہمارے نئے زمانے کے روشن خیال بزرگان ضرور توجہ فرمائیں گے ـ