Archive for October 24th, 2005

“پہیلی” کو آسکر کیلئے بھیج دیا

October 24, 2005

مغرب سے بے کار کی امیدیں



آسکر کیلئے “پہیلی” فلم کے انتخاب کے بعد ہی یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا یہی فلم سب سے بہترین ہے؟ اِسطرح کا ہنگامہ تقریبًا ہر سال پیدا ہوتا ہے ـ ایسا ہونا قدرتی بھی ہے اور ویسے بھی دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں ہندوستان میں ہی بنتی ہیں، نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی ـ اب جب “پہیلی” کا انتخاب “آسکر” کیلئے ہو ہی گیا ہے تو مختلف قسم کے خیالات سامنے آ رہے ہیں، بالخصوص اِس لئے بھی کہ فلم کے ہدایتکار امول پالیکر کا کہنا ہے کہ وہ فلم کیلئے کیجانے والی لابنگ کو لیکر پریشان نہیں ہیں ـ ویسے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی وہ عامر خان اور آشوتوش گوریکر سے بھی ملاقات کریں گے ـ بھلے ہی امول پالیکر “آسکر” کیلئے کی جانے والی لابنگ کے سلسلے میں پریشان نہ ہونے کی بات کہہ رہے ہوں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اِسکے تعلق سے وہ کچھ کریں گے ہی نہیں ـ اِن کے مطابق وہ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر کے ساتھ ملکر آگے کی حکمت عملی طے کریں گے ـ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امول پالیکر اور شاہ رخ خان امریکہ جاکر اِسطرح کی لابنگ کرتے ہیں یا نہیں، جس طرح عامر خان اور اشوتوش گوریکر نے اپنی بے حد کامیاب فلم لگان کیلئے کی تھی ـ لیکن اِس سے بہرحال اب انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آسکر کے نامزد کی گئی فلم کیلئے لابنگ نہیں کرنی پڑتی ہے ـ یہ لابنگ اب اتنے بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے امریکہ میں یہ مطالبہ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ انتخاب کے لئے کی جانے والی لابنگ کے بعد اگر کہیں تصحیح کی ضرورت ہے تو وہ “آسکر ایوارڈ” کے تعلق سے ہے ـ یہ مطالبہ اِس لئے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ ہالی ووڈ کے فلم پروڈیوسرس ہر سال 6 کروڑ ڈالر اپنی اِن فلموں کی تشہیر میں بہا دیتے ہیں جو آسکر کے لئے نامزد ہوتی ہیں ـ آسکر کی لابنگ کا چلن اتنا بڑھ گیا ہے کہ لابنگ کے لئے غلط طریقوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ـ 2001ء کے آسکر کیلئے جب ریاضی میں نوبل انعام یافتہ جان نیش کی حیات پر بنی فلم “اے بیوٹی فل مائنڈ” نامزد ہوئی اور اسے سب سے طاقتور دعویدار سمجھا جانے لگا تو اچانک “نیش” کی برائیاں اجاگر کی جانے لگیں ـ اُسوقت فلم کے ہدایت کار “ران ہاورڈ” نے کہا تھا کہ تشہیر کا یہ غلط طریقہ صرف اِن کی فلم کو آسکر جیتنے سے روکنے کیلئے کیا گیا تھا ـ

حقیقت جو بھی ہو، امریکہ میں یہ خیال عام ہوتا جارہا ہے کہ آسکر جیتنے کے لئے صرف ایک اچھی فلم بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اِس انعام کو حاصل کرنے کیلئے معمولی تشہیر کے علاوہ جیوری کے ارکان سے بھی رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے ـ یہی نہیں وہاں کے اخباروں میں اپنی فلم کے تعلق سے خوبیاں بیان کرنے کیلئے اشتہارات بھی دینے پڑتے ہیں ـ حالانکہ تمام بیرون ممالک ہدایتکاروں کیلئے یہ سب کرپانا اتنا آسان نہیں ـ آسکر کیلئے اِسطرح کی لابنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی اپنی فلم کیلئے تشہیر نہ کریں تو شاید آسکر والے اِسکی فلم کو دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کریں ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کو ایسی جگہ اپنی فلم بھیجنے کیلئے بے تابی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جہاں کی جیوری اسے صحیح ڈھنگ سے دیکھنے سمجھنے کا بھی وقت نہیں نکالتی؟ اگر آسکر جیوری بیرون ممالک فلموں کو صحیح ڈھنگ سے پرکھ اور سمجھ نہیں سکتی تو پھر اِن فلموں کے ہدایتکاروں، پروڈیوسروں کو امریکہ جاکر اور وہاں اِتنا زیادہ زر خرچ کرکے لابنگ کیوں کرتے ہیں؟ کچھ فلم پروڈیوسرس تو ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس امریکہ جاکر وہاں اپنی فلم کی تشہیر کرنے کیلئے بھی دولت نہیں ہوتی ـ یاد کیجئے کہ گذشتہ سال مراٹھی فلم “سواس” کے پروڈیوسر کو امریکہ میں اپنی فلم کی لابنگ کیلئے کس طرح سے چندہ جمع کرنا پڑا تھا؟ بڑی مشکل سے وہ اتنا روپیہ جمع کرپائے تھے کہ امریکہ جاکر اپنی فلم کی تشہیر کرپاتے ـ

“آسکر” اِن فلم ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کے لئے صحیح جگہ نہیں ہے جو مالی طور پر خستہ ہیں ـ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ آسکر ایک عزت و توقیر والا اعزاز ہے اور یہ انعام جیتنے والی فلم کے فلمساز، ہدایتکار، ہیرو وغیرہ پوری دنیا میں شہرت کے حامل بنتے ہیں، لیکن اِس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ اعزاز بنیادی طور پر ہالی ووڈ یا یوروپ میں بننے والی فلموں کیلئے ہے بھلے ہی ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی فلمیں ہالی ووڈ میں بنی فلم کی نقل ہوتی ہوں، لیکن باوجود اِسکے اِن میں ہندوستانی تہذیب کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی جھلگ بھی ہوتی ہے جو نظر آتی ہے ـ تہذیب کے معاملے میں ہندوستان اور مغرب میں اتنا فرق ہے کہ آسکر جیوری ہماری فلموں کو صحیح پس منظر میں سمجھ ہی نہیں سکتی ـ یہ تعجب نہیں ہے کہ اب تک ایک بھی ہندوستانی فلم “آسکر” حاصل نہیں کرپائی ـ اِس پر ملال یا افسوس والا انداز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے آج تک ہالی ووڈ کی فلموں کو اعزاز دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ـ کیا کبھی ہالی ووڈ کے کسی ہدایتکار یا پروڈیوسر نے اِس بنیاد پر اپنی کوئی فلم “آئیفا”، “فلم فیئر” اور “زی” جیسے فنکشنوں میں بھیجنے کی کوشش کی کہ اِن کی فلم نے ہندوستان میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے؟ ہالی ووڈ بہت بہترین فلمیں بناتا، لیکن اپنے سماج کیلئے ـ آسکر بے حد عزت والا اعزاز ہے لیکن ہالی ووڈ اور یوروپ کی فلموں کیلئے ـ ہندوستانی فلموں کیلئے آسکر کسوٹی نہیں ہوسکتا ـ

ایک عدد انعام حاصل کرنے کے لالچ میں ہندوستانی پروڈیوسرس کی اِس ذہنیت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم مغربی اصولوں کو کامیابی کی راہ سمجھ بیٹھے ہیں، بدقسمتی سے ہم نے تمام معاملات میں ایسا ہی رویہ اختیار کر رکھا ہے ـ مغرب کو جن ہندوستانی چیزوں کی سمجھ نہیں، اِن سے اچھے برے ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے ـ لیکن مغرب جب تک ہماری کسی چیز پر عظمت کی مہر نہیں لگاتا، تب تک ہمیں اِسکی عظمت پر شبہ رہتا ہے ـ یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بارہا ثابت ہوچکا ہے ـ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ کے موقر جریدے “ٹائم” نے جب پٹنہ کے سابق ضلع افسر گوتم گوسوامی کو ایشین ہیرو قرار دیا تھا تو ہم ہندوستانیوں نے بھی بغیر کسی تحقیقات کے انہیں “ہیرو” تسلیم کرلیا، جو آجکل سلاخوں کے پیچھے ہے ـ

تحریر : راجیو سچان ـ روز نامہ انقلاب

“پہیلی” کو آسکر کیلئے بھیج دیا

October 24, 2005

مغرب سے بے کار کی امیدیں



آسکر کیلئے “پہیلی” فلم کے انتخاب کے بعد ہی یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا یہی فلم سب سے بہترین ہے؟ اِسطرح کا ہنگامہ تقریبًا ہر سال پیدا ہوتا ہے ـ ایسا ہونا قدرتی بھی ہے اور ویسے بھی دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں ہندوستان میں ہی بنتی ہیں، نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی ـ اب جب “پہیلی” کا انتخاب “آسکر” کیلئے ہو ہی گیا ہے تو مختلف قسم کے خیالات سامنے آ رہے ہیں، بالخصوص اِس لئے بھی کہ فلم کے ہدایتکار امول پالیکر کا کہنا ہے کہ وہ فلم کیلئے کیجانے والی لابنگ کو لیکر پریشان نہیں ہیں ـ ویسے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی وہ عامر خان اور آشوتوش گوریکر سے بھی ملاقات کریں گے ـ بھلے ہی امول پالیکر “آسکر” کیلئے کی جانے والی لابنگ کے سلسلے میں پریشان نہ ہونے کی بات کہہ رہے ہوں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اِسکے تعلق سے وہ کچھ کریں گے ہی نہیں ـ اِن کے مطابق وہ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر کے ساتھ ملکر آگے کی حکمت عملی طے کریں گے ـ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امول پالیکر اور شاہ رخ خان امریکہ جاکر اِسطرح کی لابنگ کرتے ہیں یا نہیں، جس طرح عامر خان اور اشوتوش گوریکر نے اپنی بے حد کامیاب فلم لگان کیلئے کی تھی ـ لیکن اِس سے بہرحال اب انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آسکر کے نامزد کی گئی فلم کیلئے لابنگ نہیں کرنی پڑتی ہے ـ یہ لابنگ اب اتنے بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے امریکہ میں یہ مطالبہ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ انتخاب کے لئے کی جانے والی لابنگ کے بعد اگر کہیں تصحیح کی ضرورت ہے تو وہ “آسکر ایوارڈ” کے تعلق سے ہے ـ یہ مطالبہ اِس لئے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ ہالی ووڈ کے فلم پروڈیوسرس ہر سال 6 کروڑ ڈالر اپنی اِن فلموں کی تشہیر میں بہا دیتے ہیں جو آسکر کے لئے نامزد ہوتی ہیں ـ آسکر کی لابنگ کا چلن اتنا بڑھ گیا ہے کہ لابنگ کے لئے غلط طریقوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ـ 2001ء کے آسکر کیلئے جب ریاضی میں نوبل انعام یافتہ جان نیش کی حیات پر بنی فلم “اے بیوٹی فل مائنڈ” نامزد ہوئی اور اسے سب سے طاقتور دعویدار سمجھا جانے لگا تو اچانک “نیش” کی برائیاں اجاگر کی جانے لگیں ـ اُسوقت فلم کے ہدایت کار “ران ہاورڈ” نے کہا تھا کہ تشہیر کا یہ غلط طریقہ صرف اِن کی فلم کو آسکر جیتنے سے روکنے کیلئے کیا گیا تھا ـ

حقیقت جو بھی ہو، امریکہ میں یہ خیال عام ہوتا جارہا ہے کہ آسکر جیتنے کے لئے صرف ایک اچھی فلم بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اِس انعام کو حاصل کرنے کیلئے معمولی تشہیر کے علاوہ جیوری کے ارکان سے بھی رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے ـ یہی نہیں وہاں کے اخباروں میں اپنی فلم کے تعلق سے خوبیاں بیان کرنے کیلئے اشتہارات بھی دینے پڑتے ہیں ـ حالانکہ تمام بیرون ممالک ہدایتکاروں کیلئے یہ سب کرپانا اتنا آسان نہیں ـ آسکر کیلئے اِسطرح کی لابنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی اپنی فلم کیلئے تشہیر نہ کریں تو شاید آسکر والے اِسکی فلم کو دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کریں ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کو ایسی جگہ اپنی فلم بھیجنے کیلئے بے تابی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جہاں کی جیوری اسے صحیح ڈھنگ سے دیکھنے سمجھنے کا بھی وقت نہیں نکالتی؟ اگر آسکر جیوری بیرون ممالک فلموں کو صحیح ڈھنگ سے پرکھ اور سمجھ نہیں سکتی تو پھر اِن فلموں کے ہدایتکاروں، پروڈیوسروں کو امریکہ جاکر اور وہاں اِتنا زیادہ زر خرچ کرکے لابنگ کیوں کرتے ہیں؟ کچھ فلم پروڈیوسرس تو ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس امریکہ جاکر وہاں اپنی فلم کی تشہیر کرنے کیلئے بھی دولت نہیں ہوتی ـ یاد کیجئے کہ گذشتہ سال مراٹھی فلم “سواس” کے پروڈیوسر کو امریکہ میں اپنی فلم کی لابنگ کیلئے کس طرح سے چندہ جمع کرنا پڑا تھا؟ بڑی مشکل سے وہ اتنا روپیہ جمع کرپائے تھے کہ امریکہ جاکر اپنی فلم کی تشہیر کرپاتے ـ

“آسکر” اِن فلم ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کے لئے صحیح جگہ نہیں ہے جو مالی طور پر خستہ ہیں ـ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ آسکر ایک عزت و توقیر والا اعزاز ہے اور یہ انعام جیتنے والی فلم کے فلمساز، ہدایتکار، ہیرو وغیرہ پوری دنیا میں شہرت کے حامل بنتے ہیں، لیکن اِس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ اعزاز بنیادی طور پر ہالی ووڈ یا یوروپ میں بننے والی فلموں کیلئے ہے بھلے ہی ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی فلمیں ہالی ووڈ میں بنی فلم کی نقل ہوتی ہوں، لیکن باوجود اِسکے اِن میں ہندوستانی تہذیب کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی جھلگ بھی ہوتی ہے جو نظر آتی ہے ـ تہذیب کے معاملے میں ہندوستان اور مغرب میں اتنا فرق ہے کہ آسکر جیوری ہماری فلموں کو صحیح پس منظر میں سمجھ ہی نہیں سکتی ـ یہ تعجب نہیں ہے کہ اب تک ایک بھی ہندوستانی فلم “آسکر” حاصل نہیں کرپائی ـ اِس پر ملال یا افسوس والا انداز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے آج تک ہالی ووڈ کی فلموں کو اعزاز دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ـ کیا کبھی ہالی ووڈ کے کسی ہدایتکار یا پروڈیوسر نے اِس بنیاد پر اپنی کوئی فلم “آئیفا”، “فلم فیئر” اور “زی” جیسے فنکشنوں میں بھیجنے کی کوشش کی کہ اِن کی فلم نے ہندوستان میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے؟ ہالی ووڈ بہت بہترین فلمیں بناتا، لیکن اپنے سماج کیلئے ـ آسکر بے حد عزت والا اعزاز ہے لیکن ہالی ووڈ اور یوروپ کی فلموں کیلئے ـ ہندوستانی فلموں کیلئے آسکر کسوٹی نہیں ہوسکتا ـ

ایک عدد انعام حاصل کرنے کے لالچ میں ہندوستانی پروڈیوسرس کی اِس ذہنیت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم مغربی اصولوں کو کامیابی کی راہ سمجھ بیٹھے ہیں، بدقسمتی سے ہم نے تمام معاملات میں ایسا ہی رویہ اختیار کر رکھا ہے ـ مغرب کو جن ہندوستانی چیزوں کی سمجھ نہیں، اِن سے اچھے برے ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے ـ لیکن مغرب جب تک ہماری کسی چیز پر عظمت کی مہر نہیں لگاتا، تب تک ہمیں اِسکی عظمت پر شبہ رہتا ہے ـ یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بارہا ثابت ہوچکا ہے ـ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ کے موقر جریدے “ٹائم” نے جب پٹنہ کے سابق ضلع افسر گوتم گوسوامی کو ایشین ہیرو قرار دیا تھا تو ہم ہندوستانیوں نے بھی بغیر کسی تحقیقات کے انہیں “ہیرو” تسلیم کرلیا، جو آجکل سلاخوں کے پیچھے ہے ـ

تحریر : راجیو سچان ـ روز نامہ انقلاب

ہندوستان کی پہلی ایئر ایمبولنس

October 24, 2005

دہلی کے اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر نے ملک کی پہلی ایئر ایمبولنس (فضائی ایمبولنس) کے آغاز کیلئے دکن ایویشن سے معاہدہ کیا ہے جو کم خرچ والی ایئرلائن “ایئر دکّن” چلاتی ہے ـ اس ایئر ایمبولنس کو “ایئر رسکیو ون” کا نام دیا گیا ہے اور مریضوں کو فضا میں دس ہزار فٹ کی بلندی پر طبی نگہداشت کی سہولت بہم پہنچانے ضروری آلات اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے ـ معاہدہ کے تحت دکّن ایویشن 8 ہیلی کاپٹرس اور 2 طیارے فراہم کرے گا جبکہ اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ طبی نگہداشت، مریضوں کو بچانے اور طیاروں کو طبی آلات سے لیس کرنے کا ذمّہ دار ہوگا ـ دکّن ایویشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ طبی نگہداشت کے شعبہ میں اپنے اپنے میدان کے دوسرے گروہ قائدین کی یہ ایک مشترکہ کوشش ہوگی ـ تاہم ان خدمات کی لاگت جو ایک گھنٹہ کی پرواز کیلئے 45 تا پچاس ہزار کے درمیان اور فکسڈ میڈیکل چارجس کے طور پر 30 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے، موجودہ طور پر عام انسان کی پہنچ سے باہر ہے ـ کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ وہ جنرل انشورنس فرم سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ایئر ایمبولنس کے ذریعہ فراہم کی جانے والی طبی نگہداشت کی قیمت کیلئے پالیسی تیار کی جاسکے جس سے قیمتوں میں زبردست کمی واقع ہوگی ـ انہوں نے کہا کہ پالیسی تیار ہوجانے کے بعد اس کا پریمیم لگ بھگ 2 ہزار روپئے مقرر کیا جائے جس کے بعد عام آدمی بھی اِن خدمات سے استفادہ کرسکے گا ـ

News from: THE HINDU

ہندوستان کی پہلی ایئر ایمبولنس

October 24, 2005

دہلی کے اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر نے ملک کی پہلی ایئر ایمبولنس (فضائی ایمبولنس) کے آغاز کیلئے دکن ایویشن سے معاہدہ کیا ہے جو کم خرچ والی ایئرلائن “ایئر دکّن” چلاتی ہے ـ اس ایئر ایمبولنس کو “ایئر رسکیو ون” کا نام دیا گیا ہے اور مریضوں کو فضا میں دس ہزار فٹ کی بلندی پر طبی نگہداشت کی سہولت بہم پہنچانے ضروری آلات اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے ـ معاہدہ کے تحت دکّن ایویشن 8 ہیلی کاپٹرس اور 2 طیارے فراہم کرے گا جبکہ اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ طبی نگہداشت، مریضوں کو بچانے اور طیاروں کو طبی آلات سے لیس کرنے کا ذمّہ دار ہوگا ـ دکّن ایویشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ طبی نگہداشت کے شعبہ میں اپنے اپنے میدان کے دوسرے گروہ قائدین کی یہ ایک مشترکہ کوشش ہوگی ـ تاہم ان خدمات کی لاگت جو ایک گھنٹہ کی پرواز کیلئے 45 تا پچاس ہزار کے درمیان اور فکسڈ میڈیکل چارجس کے طور پر 30 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے، موجودہ طور پر عام انسان کی پہنچ سے باہر ہے ـ کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ وہ جنرل انشورنس فرم سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ایئر ایمبولنس کے ذریعہ فراہم کی جانے والی طبی نگہداشت کی قیمت کیلئے پالیسی تیار کی جاسکے جس سے قیمتوں میں زبردست کمی واقع ہوگی ـ انہوں نے کہا کہ پالیسی تیار ہوجانے کے بعد اس کا پریمیم لگ بھگ 2 ہزار روپئے مقرر کیا جائے جس کے بعد عام آدمی بھی اِن خدمات سے استفادہ کرسکے گا ـ

News from: THE HINDU