Archive for November, 2005

شریمان امیتابھ بچن

November 30, 2005

شہرہ آفاق سپر اسٹار اسوقت پیٹ میں شدید درد کیوجہ سے ممبئی کی لیلاوتی اسپتال میں داخل ہیں، ملک بھر میں انکے شیدائیوں نے صحت و عافیت کی دعائیں مانگیں ـ کئی سال قبل فلم ’’قلی‘‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ کو پیٹ پر چوٹ لگی تو انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ موت کے منہ سے بچ نکلے ـ آج لیلاوتی اسپتال کے میڈیا کو آرڈینیٹر نے کہا کہ شام تک طبی رپورٹ ملنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ امیتابھ کو اسپتال سے رخصت کیا جائے یا نہیں ـ

(ایک خبر)

گھبراؤ نہیں ـ 6

November 29, 2005

خدا سے ملو

خدا کو موقع دیا گیا کہ وہ بھی اپنی رائے دے، ہم جنسوں کی شادیاں کیا واقع دنیا میں انقلاب بپا کرسکتے ہیں ـ خدا شرمایا اور لا علمی کا اظہار کرنے لگا جب اس سے مزید پوچھا کہ ہمجنس اگر شادی کرلیں تو کیا برا ہے؟ اس پر خدا اور بھی شرما گیا لیکن جب اس پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی تو امریکہ آڑے آگیا، کیوں خدا کو شرمندہ کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ انسان کی مرضی جو جی میں آئے وہ کرے ـ انسان خدا کی اجازت کے بغیر چاند پر پہنچ گیا، ہوائی جہاز بنالئے، حیرت انگیز کمپیوٹر بھی ایجاد کرلئے، خلاء میں سیٹیلائٹ داغے، دنیا کی تباہی کا سامان نیوکلیئر اور ایٹم بم استعمال کرلیا اور اسکے علاوہ خدا کی رضامندی کے بغیر افغانستان اور عراق پر حملے بھی کردیئے مطلب کہ کئی کام اور مختلف چیزیں خدا کی اجازت کے بغیر انسان نے بہت کچھ کر ڈالا تو اب ہمجنس کی شادی کیلئے خدا کی رائے جاننا کیا معنی رکھتا ہے؟ اب خدا نے بھی دو چار باتیں عرض کرنے کیلئے اجازت چاہی، لوگ منہ اور کان کھولے سماعت کر رہے تھے: ہم نے دنیا میں صرف انسان کو بھیجا اور یہاں آکر تم لوگوں نے اپنے علیحدہ دین بنالئے، اور اس میں بھی کئی فرقے بناکر خود کتابیں لکھیں خود باتیں بنائیں پھر دعوے کے ساتھ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی سمجھ بیٹھے ـ آج تم لوگ ہمجنسوں کی شادی کیلئے میری رائے جاننا چاہتے ہو؟ خدا نے مزید کہا: ابھی امریکہ نے جو باتیں کہیں، میں پوری طرح اس پر متفق ہوں ـ انسان کچھ سے کچھ ہوگیا ہے اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتا ہے، تم لوگ چھوٹی اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کرتے ہو، بیوہ کیساتھ ہمدردی جتاکر اسکی عصمت دری کرنے میں مہارت رکھتے ہو، بھلا ہمجنس کے ساتھ ہمبستری پھر اسکے ساتھ شادی کرنے کیلئے میری رضامندی کی کیا ضرورت؟ واقع آپ حضرتِ انسان اپنی مرضی کے راجا بن چکے ہیں، آپ لوگوں کے خیالات کچھ اِس قسم کے ہوچکے ہیں کہ ہر کوئی اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے، آپ لوگ جو بھی کریں صحیح ہو یا غلط فیصلہ خود ہی کرلیتے ہیں اسلئے میں اپنی رائے دینا خود کی بیوقوفی سمجھتا ہوں ـ میں خدا ہوں، دنیا میں سیاحت کیلئے آیا فی الحال امریکہ کے ہاں مہمان ہوں ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

ہلکے جھٹکے (چند تصویریں)

November 28, 2005

مقامی اخبارات سے پتہ چلا چند لوگ پاسپورٹ کیساتھ اپنی جمع پونجی کو بھی جیبوں میں ٹھونسے باہر چلے آئے کہ پتہ نہیں کیا ہوسکتا ہے؟ امارات کے پہاڑی علاقوں میں عرصہ دراز سے زلزلے کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ گذشتہ اتوار 27 نومبر کو دوپہر ڈھائی بجے دبئی اور شارجہ میں 1.3 ریکٹر اسکیل کے زلزلے ریکارڈ کئے گئے، اِن دونوں شہروں کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں بلند ترین عمارتیں موجود ہیں، ایرانی جزیرہ کشم زلزلے کا مرکز تھا جہاں 6.1 ریکٹر اسکیل کا زبردست زلزلہ آیا ـ کل میں نے دیکھا شام تک بھی لوگ کورنیش، پارکوں وغیرہ میں ہر جانب فیملیاں جیسے پکنک منانے آئے ہوں جن میں ہند، پاک، عرب، یوروپی چینی وغیرہ مطلب کہ ہر قوم کی فیملیاں سہمے بیٹھے تھے، اِن خوبصورت جگہوں پر جہاں روزانہ شیشہ، تاش، گلچھڑے ہوا کرتے تھے، لوگ ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول ہیں ـ ننھے منے بچے جب آفٹر لنچ اسکول گئے پھر تھوڑی دیر بعد خوشی کے مارے اچھلتے گودتے واپس اپنے گھروں کو آگئے کہ اسکولوں میں ہاف ڈے چھٹی کردی گئی ہے ـ رات آٹھ بجے کے بعد بھی کئی لوگوں نے دوبارہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے ـ

ذاتی تجربہ

زندگی میں کبھی زلزلے ہوتے محسوس نہیں کیا اور ہمارا شہر بنگلور سمندر کی سطح سے کافی اونچائی پر ہے جہاں طوفان اور زلزلوں کے امکانات بہت کم پائے جاتے ہیں ـ کل دوپہر ڈھائی بجے یہاں شارجہ میں ہمارا فلیٹ جو اٹھارویں منزل پر ہے، کھانا کھانے کے بعد جب کچن کے واش بیسن میں ہاتھ دھو رہا تھا تو چند لمحوں کیلئے مجھے محسوس ہوا جیسے دو بوتل بیئر پی رکھی ہے، لگا جیسے میں گھوم گیا یا پھر آس پاس کی چیزیں گھوم گئیں ـ جب بلڈنگ سے باہر آیا تو لوگوں کو حیران پریشان دیکھا پھر پتہ چلا کہ چند سکینڈس کیلئے زمین ہلکے سے جھوم اٹھی ـ
ہلکے جھٹکوں کے بعد جب لوگ سڑکوں پر آگئے

امارات میں جھٹکے

November 27, 2005

یہاں دوپہر ڈھائی بجے تمام عمارتوں کی لفٹ سروسز بہت ہی مصروف ہوچکی تھیں، خاندان کے خاندان دھڑا دھڑ بلڈنگوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے ـ دوپہر کا کھانا کھاکر اپنی بلڈنگ سے نیچے اترنے کیلئے لفٹ کا انتظار کرتا ہی رہ گیا، اِس بلڈنگ میں موجود چاروں لفٹس اوپر سے بھری ہوئی اتر رہی تھیں ـ بالآخر دیر تک انتظار کرنے کے بعد ایک لفٹ میں تھوڑی سی جگہ مل گئی، اندر عورتیں اور بچے سہمے ہوئے تھے ـ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا اور جب بلڈنگ سے باہر آگیا تو آس پاس کی سبھی عمارتوں کے باہر لوگ خوف زدہ نظر آئے ـ ہمارے ایک دوست سے پوچھا تو معلوم ہوا چند سکینڈ کیلئے زمین ہل گئی تھی اور لوگ خوف کے مارے بلڈنگوں سے باہر آگئے ـ آفس پہنچ کر سب سے پہلے اپنے کمپیوٹر سے انٹرنیٹ پر جانچا تو پتہ چلا کہ ایران میں 6.1 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ آیا جس کا اثر پڑوسی ممالک عمان کے علاوہ امارات تک محسوس کیا گیا ـ

رات ہوچکی ہے اور ابھی تک ہر جگہ اسی موضوع پر بحث چل رہی ہے کہ اب امارات کا نمبر آگیا، یہاں زلزلہ کبھی بھی آسکتا ہے! ایک مہینہ قبل ہی ارضیات کے ماہرین نے اخباروں کے ذریعے اسکی پیشنگوئی کردی تھی ـ سب لوگ باہر گھوم رہے ہیں، اب میں سونے جا رہا ہوں، مجھے موت کا ڈر نہیں ہے کیونکہ وہ کہیں بھی آسکتی ہے ـ

بِپاشا باسو

November 26, 2005

ہمارے ایک بنگالی دوست بِپاشا پر اسطرح فدا ہوچکے ہیں کہ اگر وہ رات کو تنہائی میں ملجائے تو کچھ کئے بغیر رات بھر صرف اسکی پوجا میں جٹ جائیں گے ـ ہمارے دوست کی عمر اسوقت صرف ٢٣ سال ہے جو مشرقی بنگال سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں ہماری کمپنی میں شرٹ مرچنڈائزر ہیں ـ اخبارات اور رسالوں میں کہیں بِپاشا کی تصویر ملجائے تو پورے عقیدت کیساتھ اس پر قینچی چلاتے ہیں جیسے ہاتھ میں اگربتی پکڑے ہوں، پھر بڑے پیار سے البم میں اٹاچ کرلیتے ہیں ـ ہم دوستوں نے کئی بار ان سے پوچھا کہ آخر اس کالی کلوٹی بنگالی لڑکی میں کیا رکھا ہے؟ غصّہ اور پیار سے جواب ملتا: اسکی آنکھوں کو دیکھو ـ جھیل جیسی غزالی آنکھیں ـ ـ اف

پچھلے مہینے ہم چند دوست خریداری کیلئے برجمان شاپنگ سنٹر پہنچے، یہاں بھی ہماری کمپنی کے کئی شورومس ہیں اور یہاں بڑے بڑے لوگ، فلمی اسٹار وغیرہ شاپنگ کیلئے آتے جاتے ہیں ـ ہمارے ایک ساتھی نے کہا: ذرا دیکھو وہ سامنے شوروم میں جو کھڑی ہے، کہیں وہ بِپاشا تو نہیں؟ ارے نہیں ـ ـ کیونکہ ہمیں شک ہوا سامنے کھڑی ہوئی لڑکی میں اور پردے پر نظر آنے والی بِپاشا میں بڑا فرق تھا ـ تھوڑی ہی دیر بعد ایک انڈین فیملی نے اس لڑکی سے آٹو گراف مانگا پھر آس پاس گذر رہے کئی لوگوں نے موقعہ غنیمت اسکے ساتھ تصویریں بھی اتارلیں ـ پھر جاکر ہمیں یقین ہوا کہ ارے ہاں وہ تو بِپاشا ہی ہے ـ ایک ساتھی نے بھاگ کر قریب ہمارے شوروم سے کیمرا لایا پھر ہم نے بھی بِپاشا کے ساتھ تصویریں اتارنی شروع کردیں ـ اور جب یہ تصویریں ہمارے بنگالی دوست کو دکھایا جو بِپاشا کو لکشمی کی طرح پوجتے ہیں، آگ بگولہ ہوگئے ـ ـ مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟ ایک فون ہی کرلیتے، میں بھاگ چلا آتا ـ ـ ہم نے بتایا کہ بھائی ہمیں خود پتہ نہیں تھا، ہم تو صرف شاپنگ کیلئے گئے تھے اور تمہاری فیوریٹ ہمیں مل گئی ـ ـ بنگالی دوست کی حالت ایسی ہوگئی جیسے انہوں نے اپنی زندگی کی آخری ٹرین مِس کردی ہو ـ ـ ہا ہا ہا ـ کھانا پینا چھوڑ دیا، غم میں نڈھال ـ ـ سونے پہ سہاگہ ہماری کمپنی نے پچھلے ہفتے ہی اسکا ٹرانسفر بیجنگ (چین) کر دیا ـ اب بھی ٹی وی پر کبھی بِپاشا آجائے تو ہم دوست چیخ پڑتے ہیں: اووہ بنگالی بابو! دیکھو تمہاری پاشا آگئی ـ جو بھی ہو ہمارا بنگالی دوست عادت و اخلاق کا بہت اچھا انسان تھا ـ