زلزلہ
November 21, 2005سائنس اور مذہبی نقطہ نظر سے
زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے بارے میں ایک مقدمہ مذہب کے تناظر میں قائم کیا گیا ہے ـ دوسرا مقدمہ وہ ہے جسے ہم غیر مذہبی کہہ سکتے ہیں ـ اسکے تحت معاملے کی سائنسی توجیہہ کی جاتی ہے ـ اس سے یہ مراد لینا صحیح نہیں ہوگا کہ مذہب سائنسی تاویل کی نفی کرتا ہے ـ دونوں کے باہمی تعلق کی وضاحت میں آگے چل کر کروں گا ـ اہلِ مذہب کا بالعموم یہ کہنا ہے کہ اِن واقعات کی نوعیت اللہ کے عذاب کی ہے جو قوموں پر احکام الہی سے عمومی رو گردانی کے نتیجے میں نازل ہوتا ہے ـ گویا یہ لوگ معاملے کی ما بعد الطبیعیاتی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں ـ غیر مذہبی نقطہ نظر یہ ہے کہ اِن واقعات کو انسان کے مشاہدے اور تجربے کی مدد سے طبیعی اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہئیے ـ
یہ زمین کی تہہ میں آنے والی بعض تبدیلیاں ہیں جو زلزلہ برپا کرتی ہیں یا موسمی تبدیلیاں ہیں جو بارش میں شدت لاتی ہیں اور اسے طوفان بنا دیتی ہیں ـ انکا کوئی تعلق انسان کے اخلاقی رویے یا احکام الہی سے انحراف کے ساتھ نہیں ہے ـ غیر مذہبی تعبیر اس ضمن میں جو دلائل دیتی ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
اہلِ مذہب کی طرف سے اس کا عمومی جواب یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں کئی ایسی اقوام کا ذکر ہے جنہوں نے احکام الہی سے رو گردانی کی روش اختیار کی اور اس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا ـ بظاہر یہ ایک مضبوط دلیل ہے لیکن اس میں دو مسائل ہیں:
اللہ تعالی کی صفت عدل اور ان واقعات میں تطبیق کیسے پیدا کی جائے گی ـ یا پھر یہ اعتراض کہ جو لوگ اعلانیہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں وہ پوری طرح محفوظ ہیں بلکہ انسان مجبور ہیں کہ ان زلزلوں کے اثرات سے بچنے کے لئے ان کی ٹیکنالوجی اور مادی امداد سے استفادہ کریں ـ میرا کہنا یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات بہت بنیادی ہیں اور اگر مذہب کو اپنا مقدمہ جیتنا ہے تو پھر اسے ان کے ایسے جوابات دینے ہوں گے جو انسانی ذہن کو مطمئن کرسکیں ـ میرے نزدیک اس باب میں تین باتیں ایسی ہیں جنہیں پیش نظر رکھے بغیر مذہب کے مقدمے کو ثابت کرنا آسان نہیں ـ
سائنس دریافت کا نام ہے نہ کہ تخلیق کا، سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں مختلف واقعات کیسے پیش آتے ہیں ـ یہ بات کبھی سائنس کا موضوع نہیں رہی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک سائنس داں یہ تو بتا سکتا ہے کہ زلزلہ زمینی پلیٹوں کی حرکت سے آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حرکت کون دیتا ہے اور وہ اس سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے مگر سائنس اس سوال سے بحث نہیں کرتی ـ جیسے ہی ایک سائنسداں اس سوال کو موضوع بناتا ہے وہ سائنس کے دائرے سے نکل کر فلسفے کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے ـ گویا اگر یہ ثابت کردیا جائے کہ زلزلے اور اس نوعیت کے واقعات کی سائنسی توجیہہ کو مانتے ہوئے بھی مذہب کے مقدمے کی نفی نہیں ہوتی اور اس کو تسلیم کرنے سے سائنس کے مقدمے کی نفی لازم نہیں ہے تو پھر وہ تصادم باقی نہیں رہتا جو مذکورہ بالا سوالات کے حوالے سے اٹھتا ہے ـ پھر واقعات کی سائنسی توجیہہ کو مان کر بھی مذہب کا مقدمہ ثابت کیا جاسکتا ہے ـ یعنی ہم ایک معاملے کی طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھ سکتے ہیں ـ
لہذا سائنس اور مذہب دونوں کے اعمال ایک طرح سے پہلو بہ پہلو یعنی باہم متوازی جاری رہتے ہیں ـ میرا خیال یہ ہے کہ اِن تینوں باتوں کو بیک وقت پیش نظر رکھ کر ہی آج مذہب کا مقدمہ ثابت کیا جاسکتا ہے ـ اِن میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ـ مثال کے طور پر ایسے تمام واقعات کو عذاب قرار دینے سے دینی تعلیمات کا جو تضاد سامنے آتا ہے اس کا جواب مذہب کی روایتی تعبیر سے ہٹ کر ہی دیا جاسکتا ہے ـ اسی طرح مذہب اور سائنس کو ایک قرار دینے سے یا مذہب کی تائید میں نئی سائنسی دریافتوں سے دلائل تلاش کرنے کے بھی بعض سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے ـ اہلِ مذہب اس فکری چیلنج سے کس طرح عہد بر آ ہوتے ہیں اس کا اندازہ آنے والے دنوں ہی میں ہوسکے گا ـ
تحریر : خورشید ندیم
شکریہ روز نامہ انقلاب ممبئی