Archive for November 29th, 2005

گھبراؤ نہیں ـ 6

November 29, 2005

خدا سے ملو

خدا کو موقع دیا گیا کہ وہ بھی اپنی رائے دے، ہم جنسوں کی شادیاں کیا واقع دنیا میں انقلاب بپا کرسکتے ہیں ـ خدا شرمایا اور لا علمی کا اظہار کرنے لگا جب اس سے مزید پوچھا کہ ہمجنس اگر شادی کرلیں تو کیا برا ہے؟ اس پر خدا اور بھی شرما گیا لیکن جب اس پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی تو امریکہ آڑے آگیا، کیوں خدا کو شرمندہ کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ انسان کی مرضی جو جی میں آئے وہ کرے ـ انسان خدا کی اجازت کے بغیر چاند پر پہنچ گیا، ہوائی جہاز بنالئے، حیرت انگیز کمپیوٹر بھی ایجاد کرلئے، خلاء میں سیٹیلائٹ داغے، دنیا کی تباہی کا سامان نیوکلیئر اور ایٹم بم استعمال کرلیا اور اسکے علاوہ خدا کی رضامندی کے بغیر افغانستان اور عراق پر حملے بھی کردیئے مطلب کہ کئی کام اور مختلف چیزیں خدا کی اجازت کے بغیر انسان نے بہت کچھ کر ڈالا تو اب ہمجنس کی شادی کیلئے خدا کی رائے جاننا کیا معنی رکھتا ہے؟ اب خدا نے بھی دو چار باتیں عرض کرنے کیلئے اجازت چاہی، لوگ منہ اور کان کھولے سماعت کر رہے تھے: ہم نے دنیا میں صرف انسان کو بھیجا اور یہاں آکر تم لوگوں نے اپنے علیحدہ دین بنالئے، اور اس میں بھی کئی فرقے بناکر خود کتابیں لکھیں خود باتیں بنائیں پھر دعوے کے ساتھ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی سمجھ بیٹھے ـ آج تم لوگ ہمجنسوں کی شادی کیلئے میری رائے جاننا چاہتے ہو؟ خدا نے مزید کہا: ابھی امریکہ نے جو باتیں کہیں، میں پوری طرح اس پر متفق ہوں ـ انسان کچھ سے کچھ ہوگیا ہے اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتا ہے، تم لوگ چھوٹی اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کرتے ہو، بیوہ کیساتھ ہمدردی جتاکر اسکی عصمت دری کرنے میں مہارت رکھتے ہو، بھلا ہمجنس کے ساتھ ہمبستری پھر اسکے ساتھ شادی کرنے کیلئے میری رضامندی کی کیا ضرورت؟ واقع آپ حضرتِ انسان اپنی مرضی کے راجا بن چکے ہیں، آپ لوگوں کے خیالات کچھ اِس قسم کے ہوچکے ہیں کہ ہر کوئی اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے، آپ لوگ جو بھی کریں صحیح ہو یا غلط فیصلہ خود ہی کرلیتے ہیں اسلئے میں اپنی رائے دینا خود کی بیوقوفی سمجھتا ہوں ـ میں خدا ہوں، دنیا میں سیاحت کیلئے آیا فی الحال امریکہ کے ہاں مہمان ہوں ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی