Archive for May, 2006

فنا

May 30, 2006

کشمیری مجاہدین کی دہشت پر سجائی گئی فلم فنا بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں آج ریلیز ہوگئی ـ لوگ ہمیشہ سے عامر خان کی فلموں کے منتظر ہوتے ہیں اور عربی انسان بھی عامر کی فلموں کو بڑے احتشام سے دیکھتے ہیں ـ یہاں دبئی میں اگلے ہفتے تک سبھی شو کی ٹکٹیں بُک ہوچکیں اور جنہیں ٹکٹ نہیں ملا وہ بدنصیب دور دراز کے سنیما ہالوں کی طرف دوڑ لگا رہے ہیں، بہرحال لوگوں کو کسی بھی حال میں عامر خان کی فلم دیکھنی ہی ہے ورنہ زندگی ادھوری ہے!

باوثوق ذرائع سے پتہ چلا فلم فنا کچھ تیکھی اور پیکھی ہے، چونکہ شاید عامر خان کو مجاہدین اور دہشت گردی میں کچھ خاص فرق نہیں معلوم اور عامر نے اِس فلم میں ایک کشمیری دہشت گرد ’’مجاہد‘‘ کا رول نبھایا ہے جو کشمیر کی آزادی کے نام پر دہشت مچاتے ہیں ـ فلم کا اختتام بھی وہی ہے جو دہشت گرد مجاہدین کا ہوتا ہے یعنی کشمیر کی آزادی کے نام پر دنگے فساد کرنے والا ریحان (عامر) بھی بھارت سرکار کے ہاتھوں ہلاک ہوجاتا ہے ـ

کشمیر اور دہشت گردی کے موضوع سے بھارتی عوام بور ہوچکی ہے اور انہیں مزید بور کرنے کیلئے فنا ایک اِضافہ ہے ـ ڈھائی گھنٹہ سنیما ہال میں بیٹھے دہشت گردی پر سر کھپانے سے اچھا ہے گھر میں بیٹھ کر بچوں کے ساتھ ٹام اینڈ جیری کے پرانے سیریز دیکھلیں ـ

اِن سے ملو - 16

May 23, 2006

یہ خدا ہے

خدا کی دینداری سب کو معلوم ہے، ایران کو لگاتار آنکھ مارتے ہوئے امریکہ ثواب حاصل کر رہا ہے جبکہ اُسے خود نہیں معلوم خدا کس کروٹ بیٹھے گا ـ وہاں طوفان کو دیکھ چین کی چیخیں نکل پڑیں مگر اب خوش ہے کہ رُخ بھارت کی طرف ہے ـ پتہ چلا ملکِ شام کے صدر بشر پچھلے چھ ماہ سے سجدے میں ہیں اور اُن کا قبلہ امریکہ کی جانب ہے اور وہاں لیبیا کے صدر قدافی کو امریکہ پر ایمان لانے کے بعد خدا نے بخش دیا، خدا صرف اُنہی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو امریکہ کی پیروی کرے ـ پاکستانی صدر مشرف بار بار اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے خدا کو تلاش کر رہے ہیں جبکہ وہ بہتر جانتے ہیں خدا اِسوقت امریکہ کا خصوصی مہمان ہے اور مشرف کی آخری رسومات میں جلا وطن بھائی بہن نواز اور بینظیر دونوں شرکت کریں گے ـ امریکی دیندار افغانی صدر حامد کرزئی کو خدا نے آج اُنکے بچھڑے بھائیوں سے ملایا، دبئی پہنچتے ہی کرزئی نے عرب بھائیوں کے کندھے پر سر رکھ کر خوب رویا پھر گِلے شکوے دور کرنے کے بعد عربیوں کو امریکہ پر ایمان لانے کی دعوت بھی دی جبکہ عرب بھائی کرزئی سے قبل امریکہ پر ایمان لاچکے تھے جس پر خدا نے خوش ہوکر تیل اُگلوایا ـ عیسائیوں کا ’ڈاونچی کوڈ‘ پر ماتم، خدا کو ہنسی آئی بھلا گذرے زمانے کے قصّوں کو کس طرح یاد رکھا جائے؟ پھر بھی اپنی خدائیت پر زور ڈالیں تو سب کچھ دھندلا دکھائی دیتا ہے ـ خدا نے فرمان جاری کرتے ہوئے فرمایا: فلموں کو سیر و تفریح کی نظر سے دیکھیں اور بہت خوشی ہوگی جب خدا پر بھی ایک آدھ فلم بنائی جائے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

خدا کے میزبان

May 20, 2006

ایک سچّی ڈراؤنی کہانی

May 19, 2006

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی ــــــــــ سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکّا لگا رہے تھے ـ

ایسی رہی یاترا

May 15, 2006

میری آمد پر امّی نے زبردست کھانا بنایا، پورا دن گھر میں ہنسی مذاق، شور شرابہ، دوستوں کا ملنے آنا اُدھر سامنے ٹی وی کے خبری چینلوں پر میرٹھ کا جلتا ہوا میلہ جہاں تھوڑی دیر قبل لوگ خوشیاں لوٹنے آئے تھے، عورتوں کی آہ و بکار، دو درجن سے زیادہ لوگوں کی موت ـ رات دیر تک ہمارے گھر میں جیسے رونق لگی ہوئی، میرے لائے ہوئے تحفوں پر بھائی بہنوں کی چھینا جھپٹی جیسے ہمارا بچپن دوبارہ لوٹ آیا ہو سامنے صوفے پر بیٹھے امّی اور ڈیڈی ہم بھائی بہنوں کی شرارتوں پر مسکرائے جا رہے تھے ـ

دوسرے دن بارہ بجے اُٹھا اور گھر سے باہر نکلا تو پتہ چلا آج شہر بند ہے، دل سے ایک ہی آواز آئی ’’پتہ نہیں آج کون مرا‘‘ گھر واپس آکر اخبار دیکھا کننڑ فلموں کے دیوتا سمّان اداکار راج کمار اپنے چاہنے والوں کو مشتعل کرکے پرلوک سدھار گئے ـ راج کمار کی موت پر اُنکے چاہنے والوں نے اپنے غم کا اس طرح اظہار کیا کہ ایک درجن سے زیادہ سرکاری بسوں کو جلا ڈالا یہاں تک کہ پولیس والوں کو بھی نہیں بخشا، ٹی وی پر پولیس والوں کو عوام کے ہاتھوں پٹتے دکھایا ـ ماتمیوں نے دو دن تک شہر کو اپنے ہاتھوں میں لے رکھا اور یوں میرے دو دن گھر میں سکون سے گذر گئے ـ

اپنے شہر بنگلور کو دیکھ کر لگا جو ایک نئے زمانے کی شروعات کر رہا ہے، بڑے بڑے شاپنگ مالس، ایئر کنڈیشنڈ سٹی بسیں، آسمان سے باتیں کرتی نئی عمارتیں، ہر طرف فلائی اُوورس ـ آٹو رکشا ڈرائیورس اور ٹھیلے والوں کے پاس رنگین موبائل فونس ـ دنیا کے کونے کونے سے آئی ہوئی ملٹی نیشنل کمپنیاں ـ اب تو Sony Ericson اور Nokia والوں نے پلانٹ بھی بنا ڈالا ـ اسکے علاوہ چند علاقوں میں وہی گندی اور تنگ سڑکیں بھکمری اور غریبی بھی دیکھنے کو ملی ـ نئے ڈسکو، روزانہ فیشن شوز اور مکمل مغربی لائف اسٹائل بھی دیکھنے کو ملا ـ

امّی نے میرا پاسپورٹ پھاڑ دینے کی ٹھان لی، بس بہت ہوگیا سبھی شریف لوگ اپنے شہروں میں شرافت سے روزی روٹی پا رہے ہیں اور تجھے کیا ضرورت ہے سمندر پار نوکری کرنے کی؟ بڑی منّت سماجت کے بعد امّی نے پاسپورٹ واپس دیا اِس وعدے کے ساتھ کہ صرف چھ مہینوں میں ہمیشہ کیلئے واپس آجاؤں گا ـ

دبئی واپس آیا تو زبردست گرمی نے سواگت کیا، یہ تو کچھ بھی نہیں اگلے مہینے سے جان توڑ گرمی پڑے گی ـ دوستوں نے خوشخبری سنائی کہ تھوڑا دبلا ہوگیا ـ دوستوں کے منہ سے خود کو دبلا سن کر کچھ خوشی ہوئی ورنہ سبھی مجھے موٹو کہہ کر چھیڑتے تھے ـ