اِن سے ملو ـ 27
August 11, 2006یہ خدا ہے
بھارت نے خدا کو ستیہ دیکھنے پر اُکسایا کہ کِسطرح بُرے کا انجام بُرا ہوتا ہے ـ خدا غرّایا: ہم نے کب کسی کا بُرا چاہا؟ اگر وہی طالبان کو دکھاتے تو ہمارے حملے سے قبل ہتھیار ڈال دیتے ـ خدا نے مثال رکھی: اُسامہ کو ہم نے مہرہ دکھایا، اور وہ سنجیدگی کے ساتھ آج بھی ہمارے لئے ایک مہرہ کا رول نبھا رہے ہیں ـ خدا کو اِسوقت بالی ووڈ کی فلمیں کچھ زیادہ ہی پسند آنے لگیں، راتوں میں اُٹھ کر سنی دیول کی طرح دہاڑتا ہے اور کبھی نانا پٹیکر بن کر دیواروں سے گفتگو کرلیتا ہے ـ خدا کو خونین جنگوں پر مبنی فلمیں بھی دکھائیں جو اُسے راس نہ آئی، جیمس بانڈ شروع ہوتے ہی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ لارڈ آف دی رِنگ سے بھی پوری طرح فیضیاب نہ ہوسکا ـ کاش خدا بھی خونین جنگوں والی فلمیں دیکھ لیتا، کہ کسطرح لاکھوں کی تعداد میں عوام مارے جاتے ہیں، ہزاروں بچے یتیم اور عورتوں کو بیوہ بن کر رنڈیوں کیطرح خدمات دینی پڑتی ہے ـ کاش خدا دیکھ لیتا کہ تباہیوں سے کسطرح خوشحال گھرانے اُجڑتے ہیں، دھماکوں کی ہلچل سے عوام کسطرح چیختے ہوئے بھاگتے ہیں، وہ منظر بھی دیکھ لیتا کہ بچے اپنی ماں سے بچھڑ کر کسطرح بِلک کر روتے ہیں ـ مگر خدا سے ایسی دردناک فلمیں دیکھی نہیں جاتی، اور خون خرابہ، فتنہ فساد تو بالکل پسند نہیں کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا بھی گوارا نہیں ـ آج بھی عراق میں خدا کو چیخ چیخ پکارا جا رہا ہے مگر مجال ہے خدا نے کبھی اُنکی سُنی، افغانوں کی اُمید، اُمید ہی رہ گئی کہ عنقریب غیبی امداد نصیب ہوگی اور وہ امداد غائب ہی رہی، بوسنیا اور چیچنیا والوں کو بھی خدا پر بھروسہ تھا کہ وہ مدد کیلئے ضرور آئے گا مگر اُنہیں بھی مایوسی نصیب ہوئی ـ یہ انسانی فطرت ہے یا پاگل پن، ہمیشہ خدا کو ہی یاد کیا جاتا ہے مگر خدا ہیکہ کِس کِس کو یاد رکھے؟ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ انسان زمین کھود کر ایندھن نکالتا ہے، خلاء میں کان پھاڑتے گذرتا ہے، چاند پر اُتر کر جھنڈا گاڑتا ہے، اندھیروں میں روشنی لاتا ہے، دنیا بھر کے حالات و واقعات کو کمیونیکیٹ کرتا ہے ـ خدا کے فرشتے اور اُسکے چہیتوں نے جو کچھ نہیں کرسکے اُسے آج کا انسان انجام دے رہا ہے ـ باوجود پھر بھی خدا کو دھونڈنے کا کام جاری ہے، پتہ نہیں کس کی شکل پر خدائیت نظر آئیگی؟ ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
پتہ نہیں وہ عیسی کی شکل میں ہوگا یا بھگوان گنیش کی طرح؟ اگر ہوبہو انسانوں کی طرح ہے تو پتہ نہیں کونسے سائز کا ہوگا اور عمر کے لحاظ سے چشمہ بھی پہنا ہو ـ یہ سب عوام کے تاثرات ہیں جو مختلف ٹی وی چینلوں کے مباحثوں میں شریک تھے ـ خدا کے دنیا میں آکر تقریبا دو سال ہونے کو آئے مگر ابھی تک امریکہ سے باہر نہیں نکلا، اُسے خوف ہے اگر باقی دنیا میں جائے اور لوگ اُس کا مذہب پوچھیں تو کیا جواب دے؟ اگر وہ ہندو ہے تو مسلمان کیوں نہیں اور عیسائی نکلا تو یہودی کیوں نہیں؟ ابھی تک خدا نے کھل کر اپنا مذہب نہیں بتایا البتہ امریکہ میں کسی چرچ کے قریب بھاشن دیتے دیکھا گیا جہاں غضبناک انداز میں اپنا حتمی فیصلہ سنایا: لعنت ہو اُسے جو امریکہ پر ایمان نہ لائے اور تباہ ہوجائے وہ شخص جو امریکہ کا کھائے پھر اُسی کو ملامت کرے اور جو امریکہ کو سُپرپاور نہیں مانتا وہ ہم میں نہیں ـ فی الحال عوام کنفیوژن کا شکار ہے خدا کو دنیا میں ابھی آنا تھا؟ اگر ہزار سال پہلے آجاتا؟ لوگ اس سے ٹیکنالوجی مانگتے، گھوڑوں اور خچروں پر سفر کرنے والے جدید طرز کی سواریاں مانگتے اور بیچارے خدا کے پاس علاء الدین کا چراغ تو نہیں کہ وہ لوگوں کے ارمان پورے کرے؟ خدا تو ٹھہرا انپڑھ گنوار اپنی قدرت کا مالک جس نے چمتکاری سے انسان کو بنایا مگر اُسے خود نہیں معلوم اُسکے بنائے ہوئے انسان ایسے کئی خدا بنانے پر قادر ہیں ـ اپنی تخلیق پر خدا خود پشیمان کہ کیا خاک انسان کو بنا دیا جو اُلٹا خدا پر ہی قبضہ جمالیا ـ اب تو اُسکی قدرت بھی کمزور نظر آتی ہے، عراقیوں کو آپس میں لڑوا کر اپنی قدرت کا خرچ بچالیا، تھکان ایسی کہ کندھے ماند پڑگئے ایران پر کوڑے برسانے کیلئے بھی ہاتھ نہیں اُٹھتا، اگر اُسکے فرشتوں نے ذرا سی مدد کی تو پھر قیامت برپا ہونے میں دیر نہیں جسے خدا بھی نہیں روک سکتا ـ خدا کو احساس ہونے لگا اب انسانوں کو خدا کی ضرورت نہیں ـ ہر کوئی خود کو خدا سمجھتا ہے، آبادی بربادی سب انسان کے ہاتھوں میں ـ دنیا سے واپس آسمان فرار ہوجائے تو اُسے پانے کے چکر میں عرش تک میزائل مار سکتا ہے ـ انسانوں کی ذہنیت ایسی کہ اعتبار کرنا مشکل ہے ـ خدا نے افسوس ظاہر کیا: کاش میں آدم کو نہ بناتا کہ ایک دن اُسکی اولاد اُس کے بنانے والے کو ہی مار دے ـ ـ جاری