Archive for the ‘عام خیالات’ Category

اِن سے ملو ـ 19

July 1, 2006

یہ خدا ہے

ٹائم پاس کیلئے امریکہ نے خدا کو کمپیوٹر کیا گفٹ دیا، اب وہ سارا دن صرف ٹائم پاس میں مشغول ہے ـ اب تک عرش پر کیا خاک چھان رہا تھا، اُسے زمین پر آنے کے بعد حیرت انگیز چیزوں کا علم ہوا ـ سارا دن کمپیوٹر گیمز میں مگن خدا کو ہوش تب آیا جب اسرائیلی لڑاکو طیارے کان پھاڑتے شاہی محل پر سے گذر گئے جہاں امریکہ نے خدا کو مہمان ٹھہرایا ـ وہ تو شکر ہے امریکہ نے خدا کو تسلّی دی یہ سب آپ کی سیکوریٹی پر معمور ہیں ـ خدا نے بھی امریکہ کو یاد دلایا: پچھلے ہفتے ملکِ شام کے صدر بشر کے محل پر سے اسرائیل کے لڑاکو طیاروں نے اُڑان بھری تھی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا، آخر یہ لڑاکو طیارے کان کیوں پھاڑتے ہیں ـ خدا نے زلزلوں کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: اگر کسی کو ڈرانا ہی ہے تو اُسکے ہاتھ پیر توڑ کر معذور بنا دیتے یا پھر ہلاک ہی کر دے جسطرح ہم زلزلوں کے ذریعے انجام دیتے ہیں مگر کسی کے کان نہیں پھاڑتے ـ امریکہ نے بھی ٹھان لی اور خدا کو جواب دیا: یہ جو آپ صبح شام کمپیوٹر پر کھیلتے رہتے ہیں، دراصل یہ اسرائیل کی ہی ایجاد ہے جس کے کیلئے آپ دانت پیستے ہوئے محل سے بھاگ نکلے جبکہ وہ آپ کی حفاظت کیلئے محل کی نگرانی کر رہے تھے اور اُن کا ایک جانباز سپاہی آج فلسطینیوں کے قبضے میں ہے، کاش آپ اُسکی تکلیف محسوس کرتے ـ کمپیوٹر پر عاشق خدا، کرتا کیا نہ کرتا اپنا فرمان جاری کردیا: اُجاڑ دو اُن فلسطینیوں کو بھلے وہ اسرائیلی جانباز کو رہا کرے یا مار دے، کاش اِسی بہانے دنیا میں امن قائم ہوجائے نہ رہے فلسطین، نہ عراق نہ ایران ـ خدا نے غضبناک انداز میں فرمایا: میرے وجود کی قسم، جو امریکہ کو نہیں مانتا وہ ہمارا نہیں چونکہ امریکہ میں وہ سب کچھ ہے جو ہمارے عرش پر نہیں ـ خدا کا فرمان سُنکر امریکہ کے جبڑے پھیل گئے اور اُس نے بطورِ تحفہ خدا کے کمپیوٹر پر نیا سُپرمین اپلوڈ کیا ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

اِن سے ملو ـ 18

June 25, 2006

یہ خدا ہے

آج پھر عراق میں چالیس انسانوں کے سر کاٹ دیئے جس پر خدا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکہ سے فرمایا: اچھا کیا عراقیوں کو آپس میں لڑوا دیا ورنہ کب تک خدا اپنا عذاب خرچ کرے!؟ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

امّی، بھوک لگی ہے ـ ـ ـ

June 18, 2006

یہ کلمہ سنتے ہی ماں کی ممتا تڑپ اٹھتی ہے، وہ اپنا آرام چھوڑ کر کچن کیطرف دوڑتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ جلد سے جلد اُسکے لال کیلئے کھانے کا بندوبست کرے ـ محنت مزدوری کرنے سے چند روپئے ملتے ہیں جس سے ہم اپنی بھوک مٹاتے ہیں مگر ماں کو اُسکے بچوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے تک وہ چین سے نہیں بیٹھتی ـ

یہاں پردیس میں ماں بہت یاد آتی ہے ـ بخار میں زبردستی ہمارے منہ میں دوائی ٹھونستی ہے، بارش میں بھیگو تو ڈانٹتی پھر تولیہ سے ہمارا سر پونچھتی ہے، اسکول سے گھر واپسی پر دیر ہوجائے تو دروازے پر پریشان کھڑی رہتی ہے، آدھی رات کو اٹھ کر ہماری کمبل سیدھی کرتی ہے، صبح سویرے پیار سے جگانا ضد کرو تو کمبل کھینچ لینا، جلدی جلدی ناشتہ بنائے پھر پلٹ کر باتھ روم میں ہماری پیٹھ پر صابن بھی ملدے، ناشتے میں مستی کرو تو ہمارے گال نوچتی ہے کان کھینچتی ہے پھر ہمارے بالوں پر کنگھا بھی کرتی ہے، بخار اور بیماری میں پوری رات ہمارے سرہانے بیٹھ جاتی ہے تھنڈ لگے تو اپنی چادر بھی دیدے، غصّے میں جس گال پر تھپڑ مارے بعد میں پھر اُسی گال کو چومتی ہے، زیادہ دیر تک جاگیں تو کھینچتے ہوئے ہمارے بستر پر لاکر سلاتی ہے ـ برے کام پر ڈانٹنا اور اچھے کام پر شاباشی دینا، پیار سے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرنا، باہر سے گندگی لیکر آؤ تو ہمارے بال کھینچتے ہوئے باتھ روم لیکر جانا، اسکول کے ھوم ورک میں ہماری مدد کرنا، بغیر کھائے سوجائیں تو زبردستی جگاکر ہمیں کھانا کھلانا ـ

اِس کے باوجود اسکول سے واپس آتے ہی کتابوں کا بستہ ایک طرف پھینک صوفے پر پیر پھسارے بیٹھ کر زور سے چلّاتے ہیں ’’امّی بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا دو‘‘ اور ماں اپنا سکون چھوڑ کر دوڑی چلی آتی ہے بھلے وہ بیمار ہو ’’ہاتھ منہ دھولے بیٹا ابھی کھانا لگاتی ہوں‘‘ ـ ـ ـ کہتے ہیں ماں خدا کا روپ ہے اور میں کہوں ماں تو خدا ہے ـ

اِن سے ملو ـ 17

June 9, 2006

یہ خدا ہے

عرصہ بعد خدا کو خیال جاگا، کسی زمانے میں اُسے بھی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا ـ چند دنوں سے امریکہ شک کرتا آ رہا ہے کہ دھیرے دھیرے خدا کا دماغ ایشیا اور یوروپ کی طرف گھوم رہا ہے ـ خدا کو سمجھایا بھی تھا کرکٹ جیسے غریب کھیلوں پر اپنا دماغ نہ گھمائیں، برائے مہربانی اپنی خدائیت پر لوٹ آئیں اور فیفا 2006 پر توجہ دیں ـ کسی گمنام نے خدا کے نام خط بھیجا: بکواس بند کریں اگر اپنے آپ کو واقع خدا سمجھتے ہیں تو عراق میں امن قائم کرکے دکھائیں ـ خط پڑھ کر خدا کی ہنسی نکل پڑی اور جواب لکھ بھیجا: ہم تو صرف خدا ہیں نہ کہ امن کے پیامبر، عراق میں امن بحال کرنے کیلئے امریکہ زندہ ہے جس سے بہتر دوسرا کوئی نہیں ـ وہاں عدالت میں کھڑے صدّام غرائے، آخر وہ بھی فٹبال کھیلوں کے جنونی ہیں ـ خدا نے صدام کو تسلّی دی، امریکہ نے آپکو زندہ رکھا وہی ایک بڑی نعمت ہے ـ موقعہ غنیمت امریکہ نے خدا سے دریافت کرنا چاہا آیا اِس بار فٹبال ورلڈ کپ، کونسے ملک کی جیت ہوگی؟ خدا نے اپنی پاک سادگی سے جواب دیا: جیت اُسی کی ہوگی جو اچھا کھیلے گا ـ زرقاوی کی موت پر آج چوتھے دن بھی امریکہ میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں جس میں خدا کے علاوہ اُنکے عزیز و اقارب بھی شریک رہے ـ اِس بار ایرانیوں نے قبلہ بدلکر سجدہ کیا جس کا رُخ سیدھا جرمنی کیطرف تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں اِنہیں کچھ ملنے والا نہیں ـ امریکہ کا جھوٹا منہ دیکھ کر خدا نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا: میری عزت اور جلال کی قسم! کھیل کو کھیل سمجھ کر کھیلیں، بھلے کسی بھی ملک کی جیت ہو وہ امریکہ کی جیت ہے، اور امریکہ کی جیت خدا کی جیت ہے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

چڑھتی جوانی

June 6, 2006

میں نے اپنی دوست کو چھیڑا جو ہمعمر اور کنواری ہے، تم اپنی شادی کیلئے کس قسم کا لڑکا چاہتی ہو: خوبرو، جوان، ہٹّا کٹّا، دولتمند، اونچا تگڑا، بڑی مونچھوں والا، عاشق مزاج، اسمارٹ ، چکنا نازک، دبلا پتلا یا مضبوط بانہوں والا وغیرہ وغیرہ وغیرہ

مندرجہ بالا سبھی کیٹگیریز پر اُس نے جواب دیا نہیں ـ نہیں ـ نہیں ـ نہیں ـ نہیں اُن میں سے کوئی نہیں ـ

میں نے پوچھا: کیا مطلب کوئی پسند نہیں؟ مطلب کہ تمہیں لڑکوں میں ذرا بھی دلچسپی نہیں!

میری دوست نے جواب دیا: مجھے سب پتہ ہے کہ سب لڑکے ایک جیسے ہوتے ہیں ایڈیٹ ـ ـ پھر بھی میں ایک ایسا لڑکا چاہتی ہوں جو پیارا سا ہو، سیدھا سادا، بھولا سا، کم گو، نیک اور شریف جو مجھے دولت نہیں بلکہ ڈھیر سارا پیار دے، دوست جیسا برتاؤ کرے اور زندگی بھر ساتھ رہے وغیرہ

میں نے کہا: صرف انتظار کرتی رہ جانا، بوڑھی ہوجاؤ گی مگر تمہاری اِن نیک خواہشات والا لڑکا ـ ـ ـ میں سمجھتا ہوں اِس دنیا میں تو نہیں ملے گا

دوست کو غصّہ آگیا: کیوں نہیں ملے گا؟ تم کیا سمجھتے ہو کہ دنیا میں سب لڑکے صرف تمہارے جیسے ہی ہونگے؟ ہاں ـ ایک سے ایک اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں ـ ـ ـ کہیں نہ کہیں تو ملجائے گا میرا ہمسفر

اُسکے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے میں بھی غصّے میں بولا: کیا کہا تم نے، تمہارے جیسے لڑکے؟ تم نے ایسا کیوں کہا کہ سب لڑکے صرف تمہارے جیسے ہی ہونگے؟ کیا خرابی ہے مجھ میں؟ بس صرف پیٹ تھوڑا آگے نکل آیا ہے (دبئی کی گرمی سے) باقی سب تو ٹھیک ہے، شرافت میں ڈوبا، برائی سے دور بھاگنے والا، نیکو کار، لڑکیوں کو دیکھتے ہی احترام میں ایک آنکھ بند کرلیتا ہوں

دوست کہنے لگی: بس بس ـ اب رہنے بھی دیں ـ معلوم ہے تم کتنے شریف اور سیدھے سادے ہو ـ تمہارے اندر تو جیسے شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، تم جیسا شریف انسان دوسرا کوئی نہیں!

میں نے بھی جھٹ سے پوچھ لیا: تو کیا خیال ہے میرے بارے میں؟

میری دوست شرم اور غصے میں اٹھی اور جس کرسی پر بیٹھا تھا، کرسی کے ساتھ مجھے بھی زمین پر گرا کر مسکراتے ہوئے دوسرے کیبن میں چلی گئی قریب بیٹھـے دوسرے دوستوں نے بھی قہقہہ لگایا ـ یہ ہمارا لنچ ٹائم تھا اور روزانہ مختلف موضوعات کے بعد آج کا ٹاپک یہ نکلا ـ