عامر خان
July 25, 2006 by shuaibکوکاکولا ایڈ میں عامر خان کے عجیب و غریب پوز
کوکاکولا ایڈ میں عامر خان کے عجیب و غریب پوز
آج سے تقریبا دیڑھ سال قبل یعنی 11 اکتوبر 2005ء کو پہلی بار ’’خدا سے ملو‘‘ عنوان کے تحت ایک تحریر پوسٹ ہوئی جس پر اُردو سیارہ کے چند ارکان نے اعتراضات کئے اور یہ تحریر لکھنے والے موصوف کو تھوڑی سی شرمندگی محسوس ہوئی کیونکہ اعتراض کرنے والوں میں چند پڑھے لکھے بزرگان بھی شامل تھے اور اُنکی دل آزاری کرکے موصوف سچ مچ شرمندہ ہوگئے اور فورا معذرت چاہی جس پر بزرگان نے نصیحت کے ساتھ خاموشی اختیار کرلی ـ
اور جب موصوف نے اپنی اعتراض والی تحریر کو دس مرتبہ پڑھا تو وہ بھڑک اُٹھے کیونکہ انکی اُس تحریر پر معذرت چاہنے جیسی کوئی بات نہیں تھی اور فورا اعتراضی تحریر کی دوسری قسط ریلیز کردی جس پر پھر سے سیارہ کے ارکان نے موصوف کو آڑے ہاتھوں لیا اور موصوف کی ذہنیت کو شیطانی دماغ کے علاوہ اور بہت نام دیئے ـ مگر موصوف تو موصف نکلے، کیونکہ وہ جانتے ہیں اُنکی قسطوں میں گندی چیزوں جیسی واہیات اور بکواس نہیں ہے جس پر کوئی اعتراض ہو ـ اور پھر انہوں نے ایک کے بعد ایک قسط وار تحریریں لکھ کر پوسٹ کرنی شروع کردیں ـ یہ کام موصوف نے غصّہ میں آکر نہیں بلکہ جو احباب موصوف کے بلاگ پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں یا پھر وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے اُن لوگوں نے موصوف کو میل بھیج کر ہمت افزائی کی ’’خدا‘‘ کی قسطوں کو خوب سراہا اور داد دی ـ
جب موصوف نے دیکھا کہ انکے بلاگ پر بالراست آمدنی ہو رہی ہے تو انہوں نے پہلی فرصت میں اُردو سیارہ کیلئے اپنی بلاگ فیڈ کو بند کردیا تاکہ جس کی مرضی وہ یہاں آکر پڑھے ـ موصوف کو برابر میل آرہی تھیں کہ اِن کا بلاگ چند دوسرے براؤسرز پر نہیں کھلتا اور وہ موصوف کی قسطیں پڑھنے سے بھی قاصر ہیں، پھر موصوف نے اپنی بلاگ فیڈ سیّارہ کیلئے دوبارہ کھول دی اور نئے بلاگرز نے جب موصوف کی قسط پڑھی تو آگ بگولا ہوگئے اور خوب واویلا مچایا ـ موصوف تو ٹھہرے شریف آدمی اسلئے بھونکنے والے پر توجہ نہیں دی ـ سیارہ کے سبھی بزرگ ارکان موصوف کے خیالات سے اچھی طرح واقف ہیں اور موصوف کو بھی ان بزرگان کے صبر کا احساس ہے ـ
جناب موصوف نے ’’خدا سے ملو‘‘ کی چند اُردو قسطوں کا ترجمہ اپنے ہندی بلاگ میں آزمائشی طور پر پوسٹ کر دیا تو وہاں ہندی بلاگرز گروپ نے کافی سراہا ـ بہت سے ہندی بلاگرز نے موصوف کی قسطوں پر پوسٹ لکھے اور اِسکی خوب چرچا کی اور آج بھی موصوف کی قسطوں کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں اسکے علاوہ ایک ہندی فورم میں موصوف کی قسطوں پر بحث و تکرار چلتی رہتی ہے ـ اِس وقت موصوف کے اکثر قارئین کا اصرار ہے کہ اِن خوبصورت قسطوں کو انگریزی میں بھی لکھنا چاہئے ـ مگر موصوف پہلے سے اُردو ہندی ٹائپ کرتے تھک چکے ہیں، فی الحال پرانی قسطوں کے انگریزی ترجمہ کا کام دو احباب نے قبول کرلیا ہے ـ جب چند قسطوں کا انگریزی ترجمہ ہوجائے پھر ’’خدا سے ملو‘‘ کی قسطیں اُردو، ہندی کے ساتھ بہت جلد انگریزی میں بھی پڑھنے کو ملیں گی ـ
سب کچھ گوگل اور باقی سب گوگل



































Adds by Google


زندگی میں پہلی بار زندہ شارک دیکھنے کا اتفاق ہوا، جو کھلے سمندر سے بھٹک کر کورنیش میں گُھس آئی ـ پانی کے اوپر مٹکتی ہوئی ہیبتناک مضبوط شارک کو دیکھنے کیلئے لوگوں کا مجمع اُمڈ پڑا ـ بعد میں دبئی بلدیہ کے بہادر بنگلہ دیشی مچھیروں نے شارک کو ہانکتے ہوئے واپس کھلے سمندر کی طرف بھگا دیا ـ جب شام کو نیٹ کیفے پہنچے تو جناب کو اچانک شارک پر ریسرچ کرنے کا شوق جاگا اور گھنٹہ بھر مختلف ویب سائٹس پر نطریں گاڑنے کے بعد چند خوبصورت آنکڑے اپنے بلاگ کیلئے کھینچ لائے:








یہ خدا ہے
حزب اللہ نے اسرائیل کے صرف دو دانت کیا توڑے وہ تو پلٹ کر لبنان کے حلق میں اپنا ہاتھ اُتار دیا، خدا کو بھی یہی انتظار ہے کہ کب ایران اور شام اپنا منہ کھولے اور اُنکے حلق میں بھی ہاتھ ٹھونسے اور خدا جانتا ہے دونوں ملک اندر ہی اندر منہ میں کُٹکُٹاتے ہوئے خدا پر گندی گالیاں کوسنے میں مصروف ہیں ـ پیچھے سے سعودی عرب نے بھی پُھسپُھسایا کہ امن قائم رکھو ـ خدا نے عربوں کو ڈانٹا: خاموش، ورنہ تمہاری پول کھولدیں اور تمہیں اپنا منہ چھپانے کیلئے خدا کا آشرم تک نصیب نہ ہو ـ دور سے اُنگلی نچانے والے کوریا کو دیکھ کر خدا نے ٹھان لی کہ وقت آنے پر اُسے بھی قسطوں میں جگانا ہے ـ پہلی بار خدا نے نہانے کا پروگرام بنایا حالانکہ وہ جانتا ہے اگر نہ بھی نہائے تو پاک ہے، دنیا میں آنے کے بعد یہاں کے ریت و رواج اور امریکہ کے اُکسانے پر بالآخر خدا نے نہانے کا ارادہ کر ہی لیا اور سمندر میں اتنی زور سے چھلانگ ماری کہ دو سے تین میٹر اونچی لہروں نے انڈونیشیا کے کئی لوگوں کو آخری بار نہلایا ـ غریب کی آہیں، دنیا اتنی بڑی ہے اور خدا کو اِس غریب ملک کے دامن میں ڈُپکی مارنا تھا کہ جاوا شہر میں ہلچل مچ گئی ـ غریب انڈونیشیائی، اِنکے پاس اسوقت بد دعا کے سوا اور کچھ ہے بھی نہیں، پہلے سے انکی جھولی میں ڈھیر ساری آفتیں اور اُس پر ایک اور آفت؟؟ نہا دھونے کے بعد خدا واپس کام پر لوٹا، اسرائیل پہنچتے ہی لبنان پر دوبارہ توپ بازی شروع کردی ـ اب وہ نشانہ اندازی میں اِتنا پکّا ہوگیا کہ دور سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی نشانہ بنانا آسان ہے ـ فی الحال ساری دنیا خدا کی حمد و ثنا کر رہی ہے پھر بھی خدا کی حیرت کہ یورپی یونین ابھی تک چُپ ہے ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی